آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مشرق کے جادوگر کے نام سے شہرت رکھنے والے شہرہ آفاق لیگ اسپنر عبدالقادر نے کہا ہے کہ مکی آرتھر کو لانے والے وسیم اکرم اور رمیز راجا سے جواب طلب کرنا چاہیے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیگ اسپنر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کو تباہی کے راستے پر گامزن کرنے والے کوچ مکی آرتھر کو اول تو ٹیم پاکستان کا کوچ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا، وہ اس بات کے اہل ہی نہیں تھے کہ انہیں ٹیم پاکستان کی کوچنگ کی ذمہ داریوں کے لئے منتخب کیا جاتا۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے 63 سالہ عبدالقادر جنہوں نے 67 ٹیسٹ میچوں میں 32.80 کی اوسط سے 236 وکٹیں حاصل کیں،ان کا کہنا ہے کہ یہ وہی مکی آرتھر ہیں نا جو ہمارے ملک کی ٹیم پر میچ فکسنگ کا الزام لگا چکے تھے، اب کمال ہے ،وہی مکی آرتھر ہماری ٹیم کے کوچ بن گئے اور پی سی بی خاموش تھا۔

سابق کپتان عبدالقادر نے سابق ٹیسٹ کپتان رمیز  راجا اور وسیم اکرم سے بھی جواب طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جن کی مشاورت کیساتھ بورڈ نے مکی آرتھر کو کوچ بنایا۔

عبدالقادر کہتے ہیں کہ بڑے شرم کی بات ہے پاکستان میں لیجنڈ کرکٹرز گھر بیٹھے ہیں اور وسیم اکرم اور رمیز راجا جو خود پاکستان سے کھیلے، نام بنایا، بجائے اپنے ملک کے کرکٹرز کی آواز بنیں، غیر ملکی افراد کو اس منصب پر لانے کے لیے لابنگ کرتے ہیں اور انہیں بورڈ کیساتھ کام کرانے کی راہ ہموار کرواتے ہیں۔

عبدالقادر کہتے ہیں کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ میں خدمات انجام دینے والے سابق کرکٹرز اور کوچز کو آگے لایا جائے، انہیں قومی ٹیم کیساتھ کام کرنے کا موقع دیا جائے، دنیا میں ایسا ہی کلچر ہے، البتہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے ہی اپنوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں