آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نیب کارروائیاں، 8 ہائی پروفائل سیاستدان اب بھی سلاخوں کے پیچھے

اسلام آباد (طارق بٹ) سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کی ضمانت منظوری کے بعد نیب کی جانب سے گرفتار کئے گئے کم سے کم 8 ہائی پروفائل سیاستدان اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور انہیں ناقابل پیش گوئی مستقبل کا سامنا ہے۔ نیب انکوائریوں اور تحقیقات کا سامنا کرنے والے چند اہم سیاسی کھلاڑیوں کو خطرہ ہے کہ انہیں آنے والے ہفتوں میں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ میمن 20 ماہ جیل میں رہے۔ انہیں نیب نے 23 اکتوبر 2017 کو حراست میں لیا تھا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو نیب نے ذرائع سے زائد اثاثے بنانے کے کیس میں اسلام آباد سے اس سال فروری میں گرفتار کیا تھا ، تب سے وہ جیل ہی میں ہیں۔ تاہم انہوں نے صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت جاری رکھی ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف احتساب عدالت اسلام آباد کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد سے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔ وہ 24 دسمبر سے جیل میں ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نون کے نائب صدر حمزہ شہباز کو نیب نے 11

جون کو گرفتار کیا تھا، وہ اس وقت جسمانی ریمانڈ پر نیب کی حراست میں ہیں۔ انسداد کرپشن کا نگراں ادارہ پوچھ گچھ کیلئے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کے تحت انہیں 90 روز کیلئے حراست میں رکھنا چاہتا ہے۔ انہیں رمضان شوگر ملز اور ذرائع سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے عبوری ضمانت مسترد کئے جانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ حمزہ شہباز 90 روز کے ریمانڈ کی مدت کے بعد ضمانت کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے۔ اسپیکر پرویز الٰہی کی جانب سے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے جانے پر وہ جاری بجٹ سیشن میں باقاعدگی سے شرکت کر رہے ہیں۔ انہیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے نیب کی جانب سے گرفتار کئے جانے کے ایک روز بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ زرداری کی بہن فریال تالپور کی بھی یہی قسمت رہی لیکن انہیں زرداری ہاؤس اسلام آباد میں نظر بند کیا گیا۔ خواجہ برادران ( سعد رفیق اور سلمان رفیق) کو بھی نیب نے گرفتار کیا۔ انہیں گزشتہ دسمبر میں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانتوں میں توسیع سے انکار کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ 90 روز حراست میں رکھنے کے بعد انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر متعلقہ احتساب عدالت لاہور کی جانب سے جیل بھیج دیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید