آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ18؍ربیع الاوّل1441ھ 16؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

چمکنی پولیس 2 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اپنے پیٹی بند کے اندھے قتل کا سراغ نہ لگا سکی

پشاور (کرائم رپورٹر)تھانہ چمکنی پولیس دو ماہ قبل اپنے ہی پیٹی بند اوراس کے چچا زاد کے قاتلوں کا سراغ لگانے میں کامیاب نہ ہوسکی ٗکانسٹیبل کے ورثاء نے کیس سی ٹی ڈی حوالے کرنے اور اس میں دہشت گرد ی کے دفعات شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق 17اپریل کو ایلیٹ فورس کے اہلکار محمد اسد ولد غلام محمود سکنہ گلوزئی اپنے چچا زاد بھا ئی کے ہمراہ حسن خان ولد سجیدگل سکنہ گلوزئی گھر کے قریب عشاء کی نمازپڑھنے کیلئے مقامی مسجدجارہے تھے کہ اس دوران تھاک میں بیٹھے نامعلوم ملزمان نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شرو ع کردی ، جس کے نتیجے میں حسن خان مو قع پر جاںبحق ہوگیا اورمحمد اسد شدید زخمی ہو گیا جو بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا پولیس نے نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ۔ اس سلسلے میں متوفی کانسٹیبل محمد اسد کے بھائی محمد صدف نے ’’جنگ ’’کو بتایا کہ دہ ماہ گزرنے کے باوجود پولیس اس کے بھائی اور چچازاد کے قاتلوںکا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے اس نے مزید بتایا کہ اسکا بھائی ایلیٹ فورس میں تعینات تھا اور اس دوران اس نے دہشت گردوں کے خلاف منظورشہید اورریاض شہید چوکیوںمیں ڈیوٹی انجام دی تھی اس کو متعدد بار دہشت گردوں کی جانب سے موبائل فون پرقتل کی دھمکیاں بھی موصول ہوتی رہی ، اس کا کہنا تھا کہ ان کی کسی

کے ساتھ کوئی دشمنی نہیںاور نہ ہی کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑاہوا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس کی جانب سے انہیں بار بار مجبور کیا جارہاہے کہ کسی کے خلاف دعویداری کرے ٗانہوں نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی اسد خان نے سوگواروں میں جوا ن بیوی اور کم سن بیٹا چھوڑے ہیں لیکن اسکے باوجود پولیس کو اپنے ہی پیٹی بند کے ورثاء پر ترس نہیں آرہاہے ان کاکہناہے کہ اسد کو کسی اور نے نہیں بلکہ دہشت گردوں نے شہید کیا ہے اور اس دوران فائرنگ کی زدمیں آکر اس کا چچا زاد حسن خان بھی جاں بحق ہوا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس نہ کیس سی ٹی ڈی کے حوالے کررہی ہے اور نہ ہی ان کے کیس میں دہشت گردی کے دفعات ( سیون اے ٹی اے ) ڈال رہی ہے حالانکہ ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے بھی اپنی رائے میں کہاہے کہ ان کا کیس کائونٹر ٹیرررازم ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کیا جائے اور اس میں سیون اے ٹی اے کے دفعات شامل کئے جائیں ٗشہید کانسٹیبل اسد کی بیوہ نے بھی اپنے بیان میں کہاہے کہ اسد نے متعدد بار ا س کو کہاتھا کہ اس نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنوں میں حصہ لیا ہے اس لئے اس کی زندگی کو دہشت گردوں سے خطرہ ہے ۔ متوفی کانسٹیبل اسد کے دوسرے بھائی اشتیاق کا کہناتھا کہ پولیس نے اپنی جان چھڑانے کی خاطر ان کے چچا زاد بھائی حسن خان کی دوسری بیوی کا بیان لیا ہے جس میں حسن کی دوسری جمیلہ افغانی نے کہاہے کہ اس کے شوہر کو اس کی پہلی بیوی کے بھائیوں نے قتل کیا ہے جس کے بعد جمیلہ نے ان کی فیملی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا ہے پولیس شہید کانسٹیبل کے بھائیوں اور بیوہ کے بیانات پر عمل کرنے سے گریزاں ہے انہوں نے انسپکٹر جنرل آف پولیس نعیم خان سے اپیل کی ہے کہ ان کے شہید کانسٹیبل بھائی اسد کا کیس سی ٹی ڈی کے حوالے کیا جائے اور ان کے ایف آئی آر میں دہشت گردی کے دفعات شامل کئے جائیں۔

پشاور سے مزید