آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مستقبل سنوارنے کا خواب سجائےغیرقانونی طور پر امریکا جانے والے میکسیکو کے پناہ گزین باپ اور بیٹی کی ایک دوسرے سے لپٹی لاش کی تصویرنے سب کے دل دہلا دیے۔


غیر ملکی میڈیا کے مطابق چندروز قبل میکسیکو کے دریا کے ساحل پر پناہ گزین باپ بیٹی کی لاش ملی، کم سن بیٹی اپنے باپ کی قمیض کے اندر منہ چھپائے پیٹھ پر سوار تھی اور باپ کے گلے میں اپنے ہاتھوں کو ڈالے ہوئے تھی۔

سمندر پار کرنے کے دوران باپ نے بیٹی کو بچانے کے لیے اپنی ٹی شرٹ کے اندر چھپا لیا تھا تاکہ بیٹی پانی کے تھپیڑوں سے محفوظ رہے اور بیٹی بھی اپنی آخری سانسوں تک باپ کی پیٹھ پر سوار رہی اور اسی حالت میں دونوں کے دریا میں ڈوبنے سے موت واقع ہوگئی۔

خوش قسمتی سے بچی کی ماں کو دریا میں ایک اونچی چٹان میسر آگئی جس پر اس نے پناہ لے کر اپنی جان بچائی تاہم باپ بیٹی زندگی کی بازی ہار گئے اسی دریا سے دو مزید کم سن بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔

بچی کی ماں کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان دو ماہ سے میکسیکو میں قیام پذیر تھا اور اچھے مستقبل کیلئے امریکا جانا چاہتا تھا، ہم امریکا میں پناہ کے لئے درخواست جمع کرانے گئے تو معلوم ہوا کہ اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، اسی لئے ہم نے سمندر عبور کر کے امریکا جانے کی ٹھانی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی سخت پالیسیوں کے باعث میکسیکو سے امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے اپنا مستقبل سنوارنے کے متلاشی تارکین وطن محافظوں کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتے ہیں یا پھر سمندر کی بے رحم لہروں کی نذر ہوجاتے ہیں اور ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس تصویر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی 2015 میں ترکی کے دریاکی موجوں کا شکار ہو نے والے شامی پناہ گزیں بچے ایلان کردی کی یادیں تازہ کر دیں۔

ایلان کردی سمیت بارہ شامی مہاجر ترکی سے یونانی جزیرے کوس کی جانب جانے کی کوشش کے دوران سمندری لہروں کی نذر ہو گئے تھے۔

ان کی کشتی گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہونے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ اس حادثے میں ایلان کردی کا پانچ سالہ بڑا بھائی غالب اور والدہ ریحان بھی موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ان دونوں کم سن بھائیوں کے علاوہ تین اور بچے بھی مارے گئے تھے۔ترکی کے ساحلی محافظوں نے حادثے کے بعد پندرہ افراد کو زندہ بچا لیا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں