آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

محکمہ پولیس میں شکایتی سیل کا قیام, کیا اس سے جرائم کے خاتمے میں مدد ملے گی؟

جدت و ٹیکنالوجی کےاس دور میں محکمہ پولیس کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا لازم و ملزوم ہوگیا ہے۔ سندھ میں محکمہ پولیس میں لائی جانے والی انقلابی تبدیلیوں کےثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، جن سے جرائم کی شرح میں کمی واقع ہورہی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات اور آئی جی سندھ ڈاکٹرکلیم امام کی ہدایت پر سکھر میں قائم کئے جانے والے کمپلینٹ سیل سے عوام کو فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ اس سیل کے قیام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ عدالتوں پر غیر ضروری مقدمات کا بوجھ کم ہورہا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اپنے مسائل کو پولیس کی سطح پر ہی حل کرانے کو ترجیح دے رہی ہے۔ کمپلینٹ سیل میں درج کرائی جانے والی شکایت کا 7دن میں نمٹانا لازمی ہے اور یہی چیز کمپلینٹ سیل کی کامیابی کا سبب بن رہی ہے۔ اس سیل میں درج کرائی گئی 1240 شکایات میں سے ایک ہزار سے زائد شکایات کا ازالہ کیا جاچکا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد کی جانب سے کمپلینٹ سیل میں تعینات افسران و اہل کاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ایس ایس پی آفس سکھر میں قائم کئے گئے کمپلینٹ سیل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایس ایس پی سکھر ،عرفان علی سموں نے ایڈیشنل آئی جی سکھر کو کمپلینٹ سیل میں قائم کئے گئے مختلف شعبوں کے بارے میں بریفنگ دی اور کمپلینٹ سیل میں درج کرائی جانے والی شکایات اور ان کے ازالے کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ اور آئی جی سندھ کے احکامات پر سکھر میں کمپلینٹ سیل کے قیام سے عدالتوں پر غیر ضروری مقدمات کا بوجھ کم ہوا ہے، بہت سے لوگ عدالت جانے سے قبل ہی اپنے مسائل کو شکایات مراکز میں حل کرلیتے ہیں، جس سے جج صاحبان کو دیگر کیسز نمٹانے کے لئے وقت زیادہ مل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپلینٹ سیل کے قیام کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ عدالتوں پر پڑنے والے غیر ضروری مقدمات کے بوجھ کو کم کیا جائے، اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔کمپلینٹ سیل کی نگرانی میں خود کررہا ہوں اور اس حوالے سے وقتاً فوقتاً معلومات حاصل کرتا رہتا ہوں۔ یہاں درج کرائی جانے والی ہر شکایت پر 7دن میں کسی بھی نتیجے پر پہنچ کر اسے نمٹانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیل میں اب تک 1240 شکایات درج کرائی جاچکی ہیں ، جن میں سے ایک ہزار70 شکایات کا ازالہ کیا گیا، 38کیسز میں ایف آئی آر درج کی گئیں۔ آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کی جانب سے 240شکایات آئیںجن میں سے 217کا ازالہ کیا گیا، دیگر پر کام جاری ہے۔ ڈاکٹر جمیل احمد نے بتایا کہ سپریم کورٹ اور آئی جی سندھ کے احکامات پر سکھر میں کمپلینٹ سینٹر قائم کیا گیا ہے، ڈی ایس پی شکایتی سیل کے انچارج ہیں، کسی بھی شکایت پر 7دن میں نتیجہ نکال کر کارروائی عمل میں لانی ہے۔ سیل کے قیام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عدالتوں پرسے غیر ضروری مقدمات کا بوجھ کم ہوجائے، پہلے لوگ شکایتی سیل آئیں گے، وہاں 7دن میں تحقیق ہوگی، اگر اس دوران کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ ہوتا ہے جو کہ ہمارے سننے یا سمجھانے سے حل ہوسکتا ہے تو ہم انہیں سمجھاتے ہیں کہ معاملات یہیں حل کرلئے جائیں، تھانہ کچہری کے چکر لگانے سے بچ جائیں گے۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ عدالتوں پر جو بہت زیادہ بوجھ غیر ضروری پڑ گیا تھا اسے ختم کیا جائے، اگر یہاں پر مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو ٹھیک ہے، اگر سائل مطمئن نہیں ہوتا تو پھر ان کی رپورٹ متعلقہ جج کو دی جاسکتی ہے۔ متعلقہ جج آزادانہ انکوائری کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر جمیل احمد نے بتایا کہ اب تک کا جو تجربہ دو سے تین مہینوں کا ہے اس سے واضح ہوا ہے کہ بہت سے مسائل پولیس کی سطح پر حل ہونے لگے ہیں، جج صاحبان پر غیر ضروری بوجھ کم ہورہا ہے، دیگر کیسز کے لئے وقت زیادہ مل رہا ہے۔ ماڈل کورٹس بھی چیف جسٹس کے حکم سے قائم ہوئی ہیں،جہاں تیزی سے مقدمات نمٹائے جارہے ہیں، یہ ایک مثبت اشارہ ہے۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ لاکھوں کیسز التواء کا شکار ہیں اب ان میں تیزی سے کمی آرہی ہے، لوگوں کو ریلیف مل رہا ہے۔ کمپلینٹ سیل کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے پوری کوشش کررہے ہیں۔ تھانوں سمیت اہم مقامات، شاہراہوں و چوراہوں پر نوٹسز لگائے گئے ہیں، تاکہ لوگوں کو شکایتی مرکز کے حوالے سے آگاہی ملے۔ کمپلینٹ سیل میں درج کرائی جانے والی شکایات کے ازالے اور وہاں تعینات افسران و دیگر عملے کی کارکردگی جاننے کے لئے میں خود نگرانی کررہا ہوں۔ افسران سے رابطے کرکے معلومات بھی حاصل کرتا ہوں اور انہیں ضروری ہدایات بھی دیتا ہوں۔ کمپلینٹ سیل کے قیام کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا چاہیے اور اس حوالے سے میڈیا سمیت دیگر تمام مکاتب فکر کے افراد کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرناہوگا تاکہ لوگوں میں اس بات کا شعور اجاگر ہو کہ کمپلینٹ سیل ان کی شکایات کے ازالے کے لئے قائم کیا گیا ہے اور وہ وہاں آکر اپنے مسئلے کو بہتر انداز سے حل کراسکتے ہیں، جس سے نہ صرف لوگ تھانہ کچہری کے چکر لگانے سے بچ سکتے ہیں بلکہ ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہونے سے محفوظ رہے گا۔

سکھر کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی و تجارتی تنظیموں کے رہنمائوں جمعیت علمائے پاکستان کے مفتی محمد ابراہیم قادری، مشرف محمود قادری،، جمعیت علمائےاسلام کے مولانا عبدالحق مہر، گولیمار انڈسٹریل ایریا ایسوسی ایشن کے صدر ملک محمد جاوید، پاکستان سنی تحریک کے مولانا نور احمد قاسمی، رضوان قادری، حافظ محبوب سہتو،بندھانی برادری کے صدر حاجی شریف بندھانی، عبدالجبار راجپوت سمیت دیگر نے کمپلینٹ سیل کے قیام اورایک معینہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بنانے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید