آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلریشن کے مطابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے حکومتی اتحاد کے ایک وفد کے ساتھ27 جنوری کو منہاج القرآن سیکرٹریٹ لاہور میں ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ملاقات کرنا تھی جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی قسمت کے بارے میں تبادلہ خیالات کرنا تھا مگر انہوں نے اس بات چیت میں شرکت نہیں کی جس سے اس اعلامیے اور ڈاکٹر قادری کے مطالبات کے بارے میں حکومتی رویہ ظاہر ہوگیا۔ ڈیکلریشن پر دستخط کرنا حکومت کی مجبوری تھی کیونکہ وہ دھرنے کا پُرامن اختتام چاہتی تھی۔ حکومت کی طرف سے فاروق نائیک بہت اہم وزیر ہیں کیونکہ انہوں نے کسی بھی مطالبے کو ماننے سے قبل اس کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ صدر آصف علی زرداری کی صحیح معنوں میں نمائندگی کرتے ہیں لہٰذا انہوں نے لاہور میٹنگ میں شرکت نہ کر کے صاف طور پر یہ پیغام دے دیا کہ نہ ہی حکومت اور نہ ہی صدر زرداری ڈاکٹر قادری کے مطالبات کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ تاہم حکمران اتحاد کے جس وفد نے چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں ڈاکٹر قادری سے مذاکرات کئے اس نے بھی یہ مطالبہ کیا کہ صوابدیدی اور ترقیاتی فنڈز کو منجمد کر دیا جائے کو مسترد کر دیا اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ الیکشن کمیشن کو تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم جو ایک مطالبہ کسی حد

تک اسلام آباد ڈیکلریشن میں مانا گیا تھا اس کو دوبارہ دہرایا گیا اور حکومتی وفد نے وعدہ کر لیا کہ اگلے دس روز میں اسمبلیوں کو تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کی تاریخوں کا اعلان کر دیا جائے گا، اس پر بھی ابھی فاروق نائیک کی قانونی رائے آنا باقی ہے۔
اپنی مقررہ مدت سے قبل اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت میں الیکشن 90 روز میں کرانے ہوں گے جس میں سے 30 دن امیدواروں کی جانچ پڑتال کیلئے مختص کئے جائیں گے مگر اس وعدے پر عملدرآمد کرنے میں بھی ایک مشکل حائل ہے جس کی بڑی وجہ اپوزیشن جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ (ن) کا اسلام آباد ڈیکلریشن سے مکمل اظہار لاتعلقی ہے کیونکہ انہیں اس سارے عمل میں شامل ہی نہیں کیا گیا اور یہ معاہدہ صرف اور صرف حکومت اور ڈاکٹر قادری کے درمیان ہے۔ اپوزیشن کی یہ کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح حکومت کو مجبور کرے کہ وہ اس اعلامیہ کو مسترد کر دے۔ جب تمام قومی اور صوبائی اسمبلیاں ایک دن تحلیل نہیں ہوں گی تو پھر انتخابات ایک دن کیسے ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی مدت 15 مارچ کو پوری ہو جائے گی جبکہ پنجاب اسمبلی کی 12/اپریل کو، سندھ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کی6/اپریل کو اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی 26 مارچ کو پوری ہوگی۔ حکمران اتحاد کے بس میں ہے جب وہ چاہے قومی اسمبلی اور سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی اسمبلیوں کو تحلیل کر دے مگر پنجاب اسمبلی کی تحلیل اس کے دائرہ اختیار میں نہیں اور یہ اختیار نون لیگ کے پاس ہے جو حکومتی پلان کے مطابق صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اس طرح ڈاکٹر قادری کے اسمبلیوں کو مقررہ مدت سے قبل تحلیل کرنے کے مطالبے کو ماننے میں بھی بڑی رکاوٹ حائل ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ مختلف اسمبلیوں کو مختلف اوقات میں تحلیل کیا جائے ورنہ انتخابات بھی اسی طرح ہی کرانے پڑیں گے جو ممکن نہیں کیونکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ایک ہی دن کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان اتنا زیادہ کھچاؤ ہے کہ بات چیت کے تمام دروازے مکمل طور پر بند ہیں جب تک دونوں فریق میز پر بیٹھ کر مکالمہ نہیں کریں گے اسمبلیوں کی ایک ہی وقت میں تحلیل کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت آخری وقت میں ڈاکٹر قادری کو یہ بتا دے کہ اپوزیشن کے رویّے کی وجہ سے وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ اسمبلیوں کو ایک ہی وقت میں تحلیل کرے لہٰذا اس کی مجبوری کو سمجھا جائے۔ یہ بات یقینا ڈاکٹر قادری کو طیش میں لائے گی اور وہ ایک نئے لانگ مارچ اور دھرنے کا سوچیں گے کیونکہ بقول ان کے انہوں نے ”چوڑیاں نہیں پہن رکھیں“۔ وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے تمام وزرائے اعلیٰ کے ساتھ مشورے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تمام اسمبلیوں کو ایک ہی دن تحلیل کیا جاسکے۔ اس بارے میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا رویہ کیسا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ وہ اپوزیشن جماعتوں کی آراء کی روشنی میں وزیراعظم سے متفق نہیں ہوں گے کہ اسمبلیوں کو مقررہ مدت سے قبل ختم کیا جائے صرف اس لئے کہ اس سے ڈاکٹر قادری کا مطالبہ پورا ہوسکے۔
معلوم نہیں کہ ڈاکٹر قادری اس قدر غصے میں آتے ہیں یا نہیں کہ وہ ایک اور احتجاج کا فیصلہ کرلیں تاہم نون لیگ پارلیمینٹ کے سامنے دھرنا دینے والی ہے جس میں اپوزیشن کی بہت سی جماعتیں شامل ہوں گی۔ نہ یہ دھرنا جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کیلئے ہوگا اور نہ ہی حکومت وقت کو دھمکیاں دینے کیلئے اور نہ ہی معصوم شیر خوار بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو سخت سرد موسم میں کسی آزمائش میں ڈالنے کیلئے بلکہ یہ ”شریفانہ“ احتجاج ہوگا جس کا مقصد ڈاکٹر قادری کے ایجنڈے کے بالکل الٹ ہے۔ ڈاکٹر قادری الیکشن کمیشن کو چلتا کرنا چاہتے ہیں جبکہ چوہدری نثار علی خان کا دھرنا اس ادارے کی مضبوطی کیلئے ہے تاکہ یہ بلاخوف و خطر انتخابات کا انعقاد کرے اور کسی دھمکی سے نہ ڈرے۔ تاہم اس دھرنے کی جو چند گھنٹوں پر محیط ہوگا کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ الیکشن کمیشن پہلے ہی بہت مضبوط ہوگیا ہے جس کی وجہ آئینی ترامیم ہیں جن کی تیاری اور پارلیمان سے منظوری میں نون لیگ نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ کوئی ایسا ادارہ نہیں کہ بیک جنبش قلم ختم کیا جاسکے۔ اس کی ہیئت اور اختیارات آئین کے مطابق ہیں جن کو صرف آئینی ترمیم کے ذریعے سے ہی بدلا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ نہ صرف چیف الیکشن کمشنر بلکہ اس کے تمام 4 ممبران اعلیٰ عدالتوں کے ریٹائرڈ جج صاحبان ہیں جو ایک سخت اسکروٹنی کے بعد ہی مقرر کئے گئے تھے۔
ایک بات جو حکمران اتحاد اور ڈاکٹر قادری نے معاہدہ کرتے وقت نظر انداز کی وہ یہ ہے کہ ان کے کسی بھی ایکشن کو جو قانون اور آئین کے مطابق نہ ہوا کو عدلیہ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے اس طرح کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی عمل کو جس کا مقصد کسی فرد یا سیاسی جماعت یا گروہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا ہو وہ کالعدم قرار پا جائے گا۔ ایسے انتخابی قانون جن کا کوئی بھی پوشیدہ ایجنڈا ہو، وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ جان بوجھ کر اسمبلیوں کو اپنی مقررہ آئینی مدت پوری نہ کرنے دینا صرف ڈاکٹر قادری کو مطمئن کرنے کیلئے جو اس نظام کا حصہ ہی نہیں ہیں کا بھی قانونی جواز معین ہونا ابھی باقی ہے۔ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی اہلیت اور نااہلیت کے بارے میں عدلیہ کے افسران (جو سیشن جج ہوتے ہیں) فیصلہ کرتے ہیں اور انہی کے ہی فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج ہوتے ہیں لہٰذا اسکروٹنی کیلئے 30 دن کا وقت دینے کا بھی قانونی جواز دیکھنا ہوگا اگر اس کے بارے میں کسی اعلیٰ عدالت میں سوال اٹھایا گیا۔ یہ صرف اس وقت ہی ہو سکے گا جب نیا انتخابی قانون بن جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں