آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رپورٹ کے مطابق نصرہ فرنٹ کے کمانڈر ابولقمان سے پوچھا گیا کہ آپ خود کش حملوں کو کیونکر جائز سمجھتے ہیں جبکہ ان میں عام شہری بھی مارے جاسکتے ہیں تو انہوں نے کہا” یہ بات ہم پر صادق نہیں آتی، کیونکہ ہم خود کش حملے کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، البتہ ایف ایس اے کی دوسری کئی تنظیمیں ایسا کرتی ہیں۔حکومت بھی ہم پر الزام تراشی کرنے اور ہماری نیک نامی کو نقصان پہنچانے کے لئے شہریوں کو کار بموں کا نشانہ بناتی ہے… جبکہ ہم کسی بھی شہری کی جان لینا نہیں چاہتے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم ، عیسائی ہو یا کچھ اور“۔
پوچھا گیا کہ ” امریکہ آپ کو دہشت گرد تنظیم کیوں کہتا ہے“ تو انہوں نے کہا ”مغرب میں مسلمانوں کو ظالم اور سفاک بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مغرب ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔امریکہ نے ہمیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے تو اس سے ہمیں کوئی تکلیف نہیں،اس سے ہماری مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ شام کے لوگ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں، ( اسلئے امریکہ کی طرف سے )دہشت گرد قرار دیئے جانے کو ہم اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور اس پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں“۔
اس سوال پر کہ کیا آپ القاعدہ کا حصہ ہیں؟ النصرہ کے لیڈر نے جواب دیا ”ہم دونوں ایک ہی زبان استعمال کرتے ہیں، ہماری اصطلاحات یکساں ہیں کیونکہ ہم سب عربی بولنے والے ہیں

لیکن ہمارے درمیان ( جبھة النصرہ اور القاعدہ کے مابین)کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم شامی ہیں“۔ پوچھا گیا کہ اگر امریکہ اور دوسری طاقتیں شامی حکومت پر بمباری کرنا چاہیں تو آپ کیا کہیں گے؟ جواب تھا ” بلاشبہ اگر وہ حکومت کی فوجی طاقت کو تباہ کریں تو یہ ہمارے حق میں ہوگا،لیکن ہم کوئی مداخلت نہیں چاہتے۔ ہم اس ملک کے لوگ ہیں اور اپنے وطن کا دفاع کرسکتے ہیں“۔ ابو لقمان نے اپنی تنظیم کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری جنگ شام تک محدود ہے، یہ کسی وسیع تر جہاد کا حصہ نہیں،ہم کسی ملک کے خلاف معاندانہ عزائم نہیں رکھتے جب تک کہ وہ اس حکومت کی تائید نہ کرے جس کے خاتمے کی ہم جدوجہد کررہے ہیں۔جبھة النصر ہ کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ہم کسی فرقے اور کسی اقلیت پر حملے نہیں کرتے، مسیحیوں کو ہم سے ہرگز خائف نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارا مذہب ہمیں عیسائیوں میں شادی کرنے اور آپ کے ساتھ رہنے بسنے اور کھانے پینے کی اجازت دیتا ہے۔ ہمارے علماء نے اپنے فتووں میں عیسائیوں کی جانوں اور مالوں کو نقصان نہ پہنچانے کی تاکید کی ہے۔ حضرت عیسیٰ ہمارے پیغمبر بھی ہیں،آپ حضرت مسیح سے جتنی محبت کرتے ہیں، ہم ان سے اس سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اس بات چیت کے دوران حلب کے شہری کمانڈر کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے رہے۔ایک شخص نے چولہا جلانے کے لئے گیس نہ ملنے کی شکایت کی، ایک بوڑھا آدمی یہ شکوہ لے کر آیا کہ اس کے بچے اس ضعیفی میں بھی اس کی دیکھ بھال اور مالی مدد نہیں کرتے،ایک بیوہ مرحوم شوہر کے ورثے میں حصہ دلوانے میں مدد کی درخواست لے کر آئی کیونکہ شوہر کے خاندان والے اس کا حصہ دینے کو تیار نہیں تھے،ایک شخص اپنے قریبی عزیز کو ایف ایس اے کے کسی گروپ کی قید سے رہا کرانے میں مدد مانگنے آیا جسے بشار الاسد سے وفاداری رکھنے کے الزام میں اغوا کرکے رہائی کے لئے کئی ملین شامی پونڈ کا تاوان مانگا جارہا تھا۔رپورٹ کے مطابق ایف ایس اے کے مختلف گروپوں کی جانب سے ایسے واقعات کا ذکر عام ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ النصرہ فرنٹ نے تین دوسرے زیادہ اسلامی رجحانات کے حامل گروپوں کے اشتراک سے حلب میں ایک شرعی عدالت قائم کی ہے، جہاں باہمی تنازعات اور شکایات کے فیصلے ہوتے ہیں اور سرکاری عدالتوں کے مقابلے میں اس شرعی عدالت کی مقبولیت بہت نمایاں ہے۔النصرہ فرنٹ کے اس صاف ستھرے اور کھرے کردار اور اتنی عوامی مقبولیت کے باوجود مغرب کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ شام میں خالص اسلامی حکومت کے قیام کا علمبردار ہے۔ فری سیرین آرمی میں سیکولر تنظیموں کی موجودگی کے باوجود یہ خطرہ بہت واضح ہے کہ بشار الاسد کے جانے کے بعد اس میں موجود النصرہ فرنٹ اور دوسری اسلامی تنظیمیں عوامی مقبولیت کی بنا پر سب کو پیچھے چھوڑ دیں گی ، جیسا کہ مصر اور تیونس میں ہوچکا ہے۔ایسی صورت میں اسرائیل کو شدید ناسازگار صورتحال سے سابقہ پیش آسکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اور مغربی مفادات بھی خطرے میں پڑسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے میں امریکی قیادت مسلسل پس و پیش کا شکار ہے۔ روس ، چین اور ایران اپنی سیاسی اور معاشی مصلحتوں کی خاطر اسد حکومت کے خاتمے کے مخالف ہیں جبکہ ایک اسرائیلی تجزیہ کار کے بقول بشار الاسد ایک معلوم برائی ہے جبکہ ان کے مخالفین کی حکومت ایک نامعلوم برائی ہوگی۔ اس طرح بیشتر عالمی اور علاقائی طاقتیں عملاً اسد حکومت کی پشت پناہ بنی ہوئی ہیں چاہے بظاہر مخالفت کررہی ہوں۔یہی وجہ ہے کہ شام کے 70 فی صد علاقے پر مخالفین کے کنٹرول کے باوجود چھ جنوری کو اپنے نشری خطاب میں بشار الاسد نے دعویٰ کیا کہ انہیں زندگی بھر کوئی اقتدار سے الگ نہیں کرسکتا۔ ان کے پاس فضائیہ کی طاقت موجود ہے اور انہیں اسلحہ کی سپلائی بھی مسلسل جاری ہے، اس تناظر میں دکھائی یہی دیتا ہے کہ شام میں ابھی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا سلسلہ خاصی مدت تک جاری رہے گا اور بشار الاسد کی ظالم اور سفاک حکومت سے نجات شام کے لوگوں کو اپنی ہی جدوجہد کے بل پر حاصل کرنا ہوگی جس میں وہ کم از کم ساٹھ ہزار جانوں کی قربانی دے چکے ہیں جبکہ چالیس لاکھ شامی باشندے فاقہ کشی کے خطرے سے دوچار ہیں اور گھر بار سے محروم ہوچکے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں