آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو ناخن کترنے کی عادت میں مبتلا ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ یہ بھی جانتےہوں گے کہ یہ اچھی عادت نہیں اور نقصان کا باعث بھی ہوتی ہے، مگر پھر بھی اس سے جان چھڑانے کی کوئی راہ نہیں پاتے۔

ایک تحقیق کے مطابق اس عادت میں دنیا بھر کے30فیصد افراد مبتلا ہیں۔ یہ لوگ جب ذہنی دبائو یا تنائو کا شکا ر ہوتے ہیںتو لاشعوری طور پر دانتوں سے ناخن کترنے لگتے ہیں ، یعنی انہیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک کراہیت والا کام کررہے ہیں۔ دراصل وہ کسی چیز پر توجہ مرکوز کیے ہوتے ہیں یا پھر بہت گہری سوچ میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ اس عادت کو نروس ہیبٹ(Nervous Habit) یعنی دماغی انتشار اور الجھن سے فرار حاصل کرنے والی عادت کہا جاتاہے۔ اس سے نہ صرف آپ کے ناخن خرا ب ہوتے ہیں بلکہ دانتوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ساتھ ہی اس عادت کی وجہ سے بہت سے جراثیم اور وائرس آپ کے اندر منتقل ہوجاتے اوربیماری کا باعث بنتے ہیں۔

آئیے سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ ناخن چبانے کے کیا نقصان ہوتے ہیں۔

■ اس عادت کی وجہ سے آ پ کے ناخنوں کی شکل خراب ہو جاتی ہے اور وہ بھدے نکلتے ہیں۔

■ آپ کی مسکراہٹ دلکش نہیں رہتی کیونکہ ناخنوں کی رگڑ سے آپ کے دانت خراب ہو جاتے ہیں اور یہ ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناخن چبانے کی عادت سے آپ کے جبڑوں میںبھی مسائل پید اہوسکتے ہیں۔

■جراثیم سب سے زیادہ آپ کے ہاتھ پر ہوتے ہیں اور کمال ِ خوبی سے ناخنوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ جب آپ ناخن چباتے ہیںتو یہ جراثیم آپ کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں،ہاضمہ خراب کرتے ہیں اور آپ میں مختلف اقسام کے انفیکشنزکا سبب بنتے ہیں۔

■یہ عادت آپ کو سماجی شرمندگی کا بھی سامنا کرواتی ہےاور جب آپ ناخن چباتے ہیں تو لوگ آ پ کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

■بہت گہرائی تک ناخن چبانے کی وجہ سے یہ آپ کی کھال کے اندر اُگنا شروع ہوجاتے ہیں، جو انتہائی تکلیف کا باعث ہوتاہے۔

■اس عادت سے منہ کی بیماریاں ، مسوڑوں  میں سوجن اور دیگر مسائل پیدا ہوسکتےہیں۔

اس عادت کے مضر اثرات

ناخن چبانا آپ کی کمزور صحت کی بھی علامت ہے۔ کبھی کبھار ناخن چبانا زیادہ خطرناک نہیں ہوتا لیکن مستقل اس عادت کو اپنائے رکھنا سنجیدہ نوعیت کے مسائل پیدا کرسکتاہے۔ ایک خبر کے مطابق آسٹریلیا میں برطانوی نژاد لڑکی کورٹنی وتھورن جو ہم جماعتوں سے تنگ تھی اور ڈری سہمی رہتی تھی، اسے پریشانی کے وقت ناخن کترنے کی عادت پڑگئی۔ چار سال میں اس نے انگوٹھے کا پورا ناخن ہی کتر ڈالا۔ انگوٹھا پہلے تو سیاہ ہوا اور پھر اس کا زخم بڑھنا شروع ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو پتہ چلاکہ اس کی جِلد میں ایک انوکھا کینسر پیدا ہو چکاہے۔ کورٹنی کے انگوٹھے کی چار بار سرجری ہوئی لیکن آخر میں اس انگوٹھے کو کاٹناہی پڑا۔

وجوہات تلاش کریں 

یہ وجہ معلوم کریں کہ آپ ناخن کیوں چباتے ہیں، یعنی جب بور ہوتے ہیں یا پھر کسی تنائو کی وجہ سے ؟ تحقیق بتاتی ہے کہ لوگ اس وقت ناخن چباتے ہیں جب وہ بور، بھوکے، پریشان یا نروس ہوتے ہیں۔ ان وجوہات کو تلاش کرکے ان کا سدباب کرنے کی کوشش کریں، آپ کی ناخن چبانے کی عادت آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔

مزید برآں، اگر آپ درج ذیل مشوروں پر عمل کرلیں تو یہ باتیں بھی آپ کی ناخن کترنے کی عادت کم کرنے اور ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

ناخن چھوٹے رکھیں

آپ اپنے ناخن جتنے چھوٹے رکھیں گے اتنا ہی انہیں چبانا مشکل ہوگا۔ اپنے ناخن باقاعدگی سے تراشتے رہیں، مثلاً ہفتے کا کوئی بھی ایک دن ناخن تراشنے کے لیے مختص کردیں۔ جب ناخن بڑے ہوں گے ہی نہیں، توآپ کو چبانے کیلئے بھی کچھ نہیں ملے گا۔

مینی کیور کی مدد لیں 

آپ نے اچھا سا مینی کیور کروایا ہوتو آپ کا دل نہیں چاہے گا کہ اپنے خوبصورت ناخنوں کو خراب کریں۔

دستانے یا نیل اسٹیکرز پہنیں 

آپ ہاتھوں میں دستانے پہنیں یا نیل اسٹیکرز لگائیں تو آپ کو ناخن چبانے کا موقع نہیں ملے گا اور اگر آپ بے خیالی میں ہاتھ منہ تک لے بھی جائیں گے تو ناخن کھانے سے محفوظ رہیں گے۔

ہاتھوں یا منہ کو مصروف رکھیں

اگر آپ اپنے ہاتھوں یا دانتوں کو مصروف رکھیں گے تو آپ کی ناخن کترنے کی عادت چھوٹ سکتی ہے۔ ہاتھ میں اسٹریس بال یا چیونگم چبانے سے ناخن چبانے کی عادت میں کمی آسکتی ہے۔

کڑوی نیل پالش لگائیں 

خواتین اپنے ناخنوںپر کڑوی نیل پالش لگا سکتی ہیں،یعنی جب بھی آپ ناخن کترنے لگیںگی تو آپ کو ناخن کڑوے محسوس ہوں گے اورآپ دوبارہ یہ حرکت کرنے کی کوشش نہیں کریں گی۔

ریمائنڈر لگائیں

ہوسکتاہے ناخن چبانے کی عادت چھوڑنے کا عزم بھی ذہن سے نکل جائے، اس کے لیے اپنے سامنے دیوار پر یا فریج پر چھوٹے چھوٹے نوٹ لگادیں، جو کہ آپ کو یاد دلاتے رہیں گے کہ آپ کو ناخن نہیں چبانا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں