آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہزاد محمود

پرانے زمانے میں شہرسے کوسو دور ایک گائوں میں سیلاب آگیا۔ہزاروں لوگ پانی میں بہہ گئے۔ لاتعداد گھر تباہ وبرباد ہوگئے ۔سینکڑوں لوگ پانی میں ڈوبنے سے بچ تو گئے لیکن ان کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ بچاتھا۔

گائوں میں ایک غریب کسان تھا۔ایک سنار سے اس کی اچھی دوستی تھی ۔اس نے سنار کو تلاش کیااتفاق سے اس کا گھر اور سب گھر والے سلامت تھے۔ کسان اپنی بیوی کے ساتھ جب اپنے دوست سنار کے پاس پہنچا تو وہ بھی اپنی پریشانی بیان کرنے لگا: ’’بھائی !میرے گھرتو چلوسیلاب سے بچ گیا، مگر دوکان سیلاب سے برباد ہوگئی اور تمام مال اور زیورات بھی سیلاب کی نظرہوگئے‘‘۔

’’پھر کیا کریں‘‘؟ کسان نے سنار سے سوال کیا ۔

’’میرا خیال ہے کہ شہر چلتے ہیں۔ وہاں جاکر ضرورکہیں نہ کہیں نوکری یا مزدوری مل جائے گی۔ راستہ بہت طویل ہے اور ہمارے پاس کوئی سواری بھی نہیں ہے‘‘۔

’’راستے میں جنگل بھی آتے ہیں‘‘۔ کسان نے خیال پیش کرتے ہوئے کہا۔

’’تو کیا ہوا ہمت کرو ، اللہ مالک ہے۔ یہاں توکوئی ہماری مدد کےلئے بھی نہیں آئے گا۔ بادشاہ کو کیا پتہ کہ ہم پرکیا مصیبت آکر گزرگئی ہے‘‘۔

سنار کے خیالات سے کسان کو بہت حوصلہ ملا۔ اس کی بیوی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا :ــ’’بھائی سنار!ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔ بادشاہ تک اپنے حالات اور مصیبت کی خبر دینی چاہیے ‘‘۔

’’ٹھیک ہے تو کل صبح یہاں سے روانہ ہوںگے‘‘۔ سنار نے مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’’ہم دونوں کے بیوی بچے گائوں میں ہی رہیں گے۔ دوسرے گائوں سے میرا بھائی کھانے پینے کا سامان لے کرآنے والا ہے،تم اس کی فکر نہ کرو‘‘۔

’’ہاں ہاں سنار بھائی !مشورہ تو تم نے ٹھیک ہی دیا ہے‘‘۔

ّآخر دونو ں نے ضرورت کا کچھ سامان ساتھ لیا اورشہر کی طرف چل پڑے۔ چلتے چلتے شام ہوجاتی توکسی محفوظ درخت پرچڑھ کرآرام کرلیتے ،پھر جب دن نکل آتا تو سفر شروع کردیتے ۔ چلتے چلتے آخر کھانے پینے کا سامان بھی ختم ہوگیا۔ سنار کو بخار نے آگھیرا اور وہ بے چارہ چلنے سے بھی معزور ہوگیا۔ آخر کسان نے اسے درختوں کی آڑ میں محفوظ جگہ پرلٹادیا۔ چاروں طرف آگ روشن کردی، تاکہ کوئی موذی جانور یا درندہ قریب نہ آسکے اور خود گرتا پڑتا جنگلی پھل وغیرہ تلاش کرنے چل دیا ۔کچھ دور چلا تھا کہ راستے میں اسے ایک شیرملا،جودرد کی تکلیف سے بے حال ہوئے جارہا تھا۔ شیرکودیکھ کرکسان کو تھرتھری سی لگ گئی، مگر شیرپھر بھی نہ اٹھ سکا ، بلکہ کسان سے کہنے لگا:’’اے بھائی !میں تجھے کچھ نہ کہوںگا، تو میری مددکردے، اللہ تیرا بھلا کرے گا‘‘۔

کسان نے شیر کو انسان کی زبان میں بات کرتے دیکھا تو اور بھی ڈرگیا۔

شیرنے کہا: ’’اے بھائی !مجھ سے نہ ڈر۔ میں نے اللہ سے دعا مانگی ہے کہ مجھے بات کرنے کےلئے کچھ دیر انسانوں کی طرح بات کرنے کی صلاحیت دے دے‘‘۔

کسان کے اندر ہمت پیدا ہوئی ۔ اس نے قریب جاکرپوچھا: ’’اب بتا تیری کیا مددکروں‘‘

’’بھائی !میرے پچھلے پائوں میں بہت بڑا کانٹا گھس گیا ہے۔ اس کی تکلیف سے مرا جا رہاہوں، تجھے خدا کا واسطہ یہ کانٹا نکال کرمیری جان بچالے، ورنہ کوئی شکاری ادھر آگیا تو میری کمزوری سے فائدہ اٹھا کرمجھے قید کرلے گا‘‘۔

کسان نے خدشہ ظاہر کیا،’’کانٹا تو نکال دوں گا ،مگرکیا بھروسہ کہ تومجھے کھانہ جائے ـ‘‘؟

شیر نے عاجزی سے کہا: ’’وعدہ کرتاہوں کہ میں تجھے ہرگزکوئی نقصان نہ پہنچائوںگا، بھلا کوئی اپنے محسن کو بھی نقصان پہنچاتاہے۔ ایسا تو تم انسانوں میں ہوتا ہے‘‘۔ کسان نے ہمت کی اور آگے بڑھ کر شیر کے پائوں کے اندر تک گھساہوا کانٹا نکال دیا۔ زخم کو صاف کرکے اوپر رومال پھاڑ کرپٹی باندھ دی۔

شیرنے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:’’اے نیک انسان!تیری اس نیکی کا میں کیا بدلہ دوںگا۔ آچل میرے ساتھ چل‘‘۔

کسان شیر کے ساتھ چل پڑا کسان نے شیر سے کہاـ،’’اے شیر !میرا ایک اور ساتھی بھی کچھ دور جنگل میں بیمار پڑا ہوا ہے اور کمزوری کی وجہ سے اس سے چلا نہیں جارہا ہے۔ پہلے مجھے کچھ کھانے کےلئے جنگلی پھل وغیرہ کا درخت بتادے تومہربانی ہوگی۔

شیرنے کہا،’’اے نیک انسان !تیرا دوست بھی میرا دوست ہے۔سن ابھی کچھ دنوں پہلے دو شکاری اس جنگل میں مجھے شکار کرنے آئے تھے۔میں نے اورمیری شیرنی نے موقع پاکر ان دونون پرحملہ کرکے انہیں ہلاک کردیاتھا۔ ان کے ساتھ کھانے پینے کا سامان تھا۔ وہ محفوظ ہے۔آپہلے ادھر چل اور وہ سامان تو اٹھا کرلے جا اور پھر میں تجھے ایک ایسی نایاب بوٹی کا پودا دکھائوں گا چاہے کیساہی بیمار ہواس کی پتیاں پیس کرمریض کو پلا دیں۔ انشاء اللہ ایک دو دن میں بالکل تندرست اور توانا ہوجائے گا۔ ہم جانور بھی بیمار ہوجاتے ہیں تو اکثریہی بُوٹی تلا ش کرکے کھالیتے ہیں۔ پھر شیر نے ایک درخت کے نیچے کھانے کے سامان کی طرف جاکرکہا،’’ اے نیک آدمی ! یہ سامان اٹھالے‘‘۔

کسان کھانے پینے کا سامان کپڑے میں باندکرکاندھے پراٹھا کرشیر کے ساتھ چلنے لگا۔ کچھ دور جاکرشیرنے چھوٹے چھوٹے پودوں کی طرف پنجے سے اشارے کرتے ہوئے کسان سے کہا،’’ یہ ہے وہ پودا جو ہر بیماری میں اللہ کے حکم سے شفا دیتا ہے ۔ غریب آدمی نے جلدی جلدی کچھ پودے توڑ کرسامان میں رکھ لئے۔

شیر نے مشورہ دیا: ’’یہ بُوٹی تم اپنے دوست کو کسی پتھر سے کچل کرپانی سے کھلا دینا، انشاء اللہ کچھ ہی دیرمیں تندرست ہوجائے گا‘‘۔

کسان نے شیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ’’اے اچھے شیر!تیرا بہت بہت شکریہ ۔اب مجھے اجازت چاہئے۔ میرا دوست میرا انتظارکررہاہوگا‘‘۔

شیرنے کہا،’’اے بھائی !اتنی جلدی نہ کرمجھے کچھ اور بھی خدمت کرنے دے۔ کافی دنوں پہلے ایک شہزادہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جنگل میں شکار کھیلنے آیا تھا، مگر چیتے اور ریچھ نے ان پر اچانک حملہ کردیاتھا۔ کچھ جان بچا کربھاگ نکلے، مگر شہزادہ اور اس کا ایک ساتھی مارے گئے تھے۔شہزادے کے گلے میں موتیوں کے ہار تھے۔ چیتا اور ریچھ ان کی لاشوں کو کھارہے تھے کہ اچانک میرا ادھرسے گزرہوگیا۔ میں جوزور سے دھاڑا تو وہ ڈرکربھاگ گئے۔ یہ ہیرے موتیوں کے ہارمیں لے آیا اور اپنے غار میں ایک جگہ چھپا دیئے تھے۔ یہ تم لے جائو اور بادشاہ کودے دینا ۔ شاید بادشاہ اور ملکہ شہزادے کے غم میں روتے ہوںگے۔شیر کسان کو غار کے اندر لے گیا اور پنجے مار کرایک جگہ گھاس میں چھپے ہوئے ہار کسان کو دکھاتے ہوئے کہا: ’’اسے تم لے جائو، جوچاہو کرلینا، مگر اچھا ہوکہ بادشاہ کو بتا دو تاکہ تمہیں اس سے زیادہ انعام ملے‘‘۔

کسان نے شیر کا شکریہ ادا کیا ۔شیر نے کہا’’جائو خدا حافظ ہمیشہ نیک رہنا اور نیکی کرتے رہنا‘‘۔

کسان شیر سے رخصت ہوکراپنے ٹھکانے پرآگیا۔ سنار کو اٹھاکراسے بوٹی کچل کرپلادی۔ کچھ دیر میں سنار کا بخار ختم ہوگیا اور وہ بھلا چنگا نظرآنے لگا۔ کسان نے اسے جب تمام حالات بتائے اور شہزادے کے قیمتی ہاردکھائے تو سنار کے دل میں لالچ آگیا اور وہ اسے چرانے کی ترکیبیں سوچنے لگا۔ کھانے پینے کا ذخیرہ مل چکا تھا۔ لہٰذا دونوں پھر شہر کی طرف چل پڑے۔ راستے میں آتا ہوا قافلہ مل گیا اور وہ بھی قافلے میں شامل ہوکر چل پڑے۔

شہر کے پاس ایک مسافر خانے میں یہ دونوں ٹھہر گئے۔ سنار کے دل میں لالچ تھا۔ جیسے ہی موقع ملا وہ ہار چرا کربھاگ نکلا اور گھرکی راہ لی۔

ادھر ملکہ بیٹے کے غم میں بیمار ہوکر موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا تھی ۔بادشاہ کا اعلان تھا کہ جوکوئی ملکہ کا علاج کرکے اسے اچھا کرےگا، اسے آدھی سلطنت انعام میں دی جائے گی۔ ملکہ روزبروزموت کی طرف جارہی تھی۔ بڑے بڑے مشہور طبیب آرہے تھے، مگرکسی سے شفا نہیں ہورہی تھی۔ کسان بادشاہ کے محل پہنچ گیا اور سپاہیوں سے آنے کامقصد بیان کیا تو وہ اسے بادشاہ کے پاس لے گئے۔

بادشاہ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا،’’ اے شخص!یہاں کئی ملکوں کے معالج آئے ہیں تم تو طبیب نہیں لگتے،کہوپھر کیسے علاج کروگے؟ ہم پہلے ہی شہزادے کی جدائی کے غم میں مبتلاہیں۔

کسان نے کہا،

’’اللہ آپ کو اور ملکہ کو سلامت رکھے ۔بادشاہ سلامت !مایوس کیوں ہوتے ہیں۔آپ مجھے ملکہ عالیہ کے پاس لے چلیں۔ انشاء اللہ پہلی ہی خوراک سے ملکہ عالیہ تندرست ہونے لگیں گی‘‘۔

’’اچھا یہ بات ہے تو آئو میرے ساتھ‘‘۔ بادشاہ ملکہ کے پاس کسان کولے کرآگیا۔ کسا نے جیب سے بوٹی نکال کراسے پانی میں گھول کرجیسے ہی پلائی، ملکہ کے ہاتھ پائوں میں جنبش ہونا شروع ہوگئی ۔ اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ دوسرے دن وہ بات چیت کرنے کے قابل ہوگئی۔ تمام خادم ،کنیزیں اور خود بادشاہ بھی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ شام تک ملکہ مکمل طورپربالکل ٹھیک ہوگئی۔

بادشاہ نے غریب اورنادار عوام کےلئے خزانے کے منہ کھول دیئے۔ کسان کو آدھی سلطنت دینے کا بھی اعلان کردیاگیا۔

کسان نے بادشاہ سے کہا،’’عالی جاہ! شہزادہ شکار کے دوران مارا گیا تھا، پھر اس نے شروع سے لے کر آخر تک سارے حالات کا بادشاہ سے ذکر کرتے ہوئے سنار کی بد عہدی اور دھوکے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سنار شہزادے کے قیمتی ہار چرا کر فرارہوگیا ہے۔ گائوں یں سیلاب اور اس سے ہونے والی تباہیوں سے بادشاہ کو آگاہ کرتے ہوئے اس سے مددکرنے کی اپیل بھی کی ۔

بادشاہ کو سنار کی دھوکے بازی پر سخت غصہ آیا ۔ اس نے فوراََ سپاہیوں کا ایک دستہ روانہ کرتے ہوئے سنار کی فوری گرفتاری کا حکم جاری کردیا اور گائوں والوں کےلئے امدادی سامان اور مدد کے لیے کارندے علیحدہ روانہ کردیئے۔ سنار کو اس کے گھر سے گرفتار کرلیاگیا۔

بادشاہ نے اعلان کرتے ہوئے اسے آدھی سلطنت دینے کی خواہش کی تو کسان نے کہا،’’بادشاہ سلامت !آپ اور آپ کی حکومت کو اللہ سلامت رکھے، آپ کی ضرورت آپ کے ملک کو ہے‘‘۔ بادشاہ اس جواب سے بہت خوش ہوا اور اسے مزید انعام و اکرام سے نوازا۔ دیکھا بچوں ہمدردی ،ایمانداری اور سچ بولنے سے اللہ کتنا نوازتا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں