آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میکا ٹرونکس: مشینی انسان بنانے کی سائنس

میکا ٹرونکس(Mechatronics)جسے میکا ٹرونک انجینئرنگ بھی کہا جاتا ہے، ہمہ گیر موضوعات کی انجینئرنگ برانچ ہے۔ یہ انجینئرنگ کے الیکٹریکل اور میکینکل سسٹمز پر توجہ مرکوز کرتی ہے،نیز روبوٹکس، کمپیوٹر، ٹیلی کمیونیکیشن سسٹمز، کنٹرول اور پراڈکٹ انجینئرنگ کا بھی اشتراک ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ آٹوموٹو انجینئرنگ کی تمام برانچیں اس میں مدغم ہوتی جارہی ہیں ۔دورِ جدید میں روبوٹ سرجن، دل کے اندر جاکر شریانوںکو درست کرکے منہ اور ناک کے راستے باہر آجاتا ہے جبکہ روبوٹ اینکر 24 گھنٹے شب و روز کی خبریں اور قصے سناتاہے۔

سنگولیرٹی یعنی اکائیت کے اس دور میں انسان کو گھر بیٹھے روزگار کے وسیع مواقع حاصل ہوں گے۔ صنعتی انقلاب کے بعد برقی ومیکانیاتی انقلاب انسان کے لیے کم مشقت میں زیادہ فوائد کا حامل ہوگا۔ یہ وہ ذہین مشینیں ہونگی جن کے سامنے آپ کی تخلیقی صلاحیتیں 50 گنا بڑھ جائیں گی۔وہ وقت دور نہیں جب آپ مصنوعی ذہانت رکھنے والے بائیو میٹرک انجینئرنگ سے چلنے والے ایسے جذبات شناس مشینی خواتین و حضرات ملاحظہ کریں گے، جنہیں ایک بار خرید کر آپ اپنے سہولت کار پیدا کرلیں گے۔

میکا ٹرونکس کی اہمیت

آج کی ڈیجیٹل اور روبوٹ دنیا میں میکاٹرونکس انجینئرز کا بول بالا ہے، جس کی اسناد ہماری اعلیٰ جامعات بھی دے رہی ہیں۔ مستقبل کے محفوظ کیریئر میں اسمارٹ مشین بنانے والوں کو نظرانداز کرنا مشکل ہے، جن کی صلاحیتیں انسانی مشین کی تیاری سے لے کر ڈرون ٹیکنالوجی، ادویہ ساز صنعتوں اور خودکار گاڑیوں کی تیاری تک ڈیزائن، ٹیسٹنگ اور مینوفیکچرنگ تک ہر شعبے میں درکار ہونگی۔ میکا ٹرونکس نے معذوروں کے لیے مصنوعی ٹانگوں سے لےکر مصنوعی آنکھ تک ایجاد کرکے میڈیکل سائنس میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ میکا ٹرونکس انجینئرز بائیو انجینئرنگ اور نینو ٹیکنالوجی جیسی ہائی ٹیک انڈسٹریزکا لازمی جزو ہیں۔

میکا ٹرونکس میں تعلیم و کیریئر

میکانیات و برقیات کے امتزاج سے تیار ہونے والے میکا ٹرونکس انجینئرز انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرکے جن صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، اس کے بعد ہائی ٹیک انڈسٹری کے لیے ان کی خدمات ناگزیر ہوجاتی ہیں۔ ایک میکا ٹرونک انجینئر، میکینکل انجینئرنگ اور الیکٹرانک انجینئرنگ کے ساتھ کمپیوٹر سائنس میں سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا ماسٹر ہوتا ہے جو میکینکل، الیکٹرانک پروسیسز اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے صنعتی مسائل کو دور کرنے کے لیے نئے حل پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ٹیکنالوجیز کو ملاکر مکمل نئی مصنوعات سامنے لاتا ہے اور موجودہ پروسیس کو خود کار بناکر فیکٹری پروڈکشن لائنز کی تیاری و ٹیسٹنگ میں معاون رہتا ہے۔ صنعتی مقاصد کے لیے خود کار نظام بنانے کے لیے ہائی ٹیکنالوجی انجینئرنگ سسٹمز کو ڈیزائن، ڈیویلپ اور مینج کرتا ہے۔ کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ میکا نیاتی و برقیاتی اور دیگر انجینئرنگ سسٹمز کی ماڈلنگ، سمولیشن اور تجزیہ پیش کرکے صنعت و حرفت کو خود کار نظام میں تبدیل کرنے میں ہر اول کردار ادا کرتا ہے۔ میکاٹرونک ڈگری کے ساتھ آپ ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ سے ہوم لینڈ سیکورٹی تک کیریئر کی کئی چوائسز رکھ سکتے ہیں۔ میکاٹرونک ڈگری آپ کو روبوٹ انجینئر/ ٹیکنیشن، آٹو مشین انجینئر، کنٹرول سسٹم ڈیزائن/ ٹربل شوٹنگ انجینئر، الیکٹرونکس ڈیزائن انجینئر، میکنیکل ڈیزائن انجینئر، ڈیٹا سائنسدان/ ڈیٹا تجزیہ کار، انسٹرومنٹیشن انجینئر اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کی محفوظ اسامیوں پر کام کرنے کے لاتعداد مواقع فراہم کرتی ہے۔ ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور روبوٹکس میں اوسط تنخواہ سالانہ 51ہزار600امریکی ڈالر ہے جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن سروسز میں ہائی وولٹیج انجینئر، فیلڈ یا کیبل ٹیکنیشن اور نیٹ ورکنگ ٹیکنیشن، کمپیوٹر نیٹ ورکنگ فائبر آپٹک کیبلز میں اوسط تنخواہ سالانہ 64ہزار240امریکی ڈالر حاصل کرسکتے ہیں۔

اسی طرح زراعت، خوراک و جنگلات، بائیو ٹیکنالوجی، لائف سائنس، میڈیکل ایکوپمنٹ ڈیزائن، متبادل توانائی، ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹک، ہوم لینڈ سیکورٹی اور ڈیفنس میں بحیثیت میکا ٹرونک انجینئر اپنا مستقبل محفوظ کرسکتے ہیں، کیوں کہ جس طرح پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’’آٹومیشن سائنس‘‘ رواج پارہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ہمیں ایسے روبوٹ سائنسدانوں اور آئی ٹی ماسٹرز کی ضرورت پڑے گی جو ٹیکنالوجی کے تکنیکی و اطلاقی پہلوئوں سے مکمل شناسائی رکھتے ہوں۔ اعلیٰ ٹیکنالوجی کی طرف گامزن اس دنیا میں پاکستانی طالب علموں نے بھی میکا ٹرونکس کے شعبے میں روبوٹس بناکر ثابت کردیا ہے کہ ہم دنیا سے قدم سے قدم ملاکر چل رہے ہیں۔ اس وقت جاپان اور چین کے روبوٹ اور آٹو مشین انقلاب نے یورپ اور امریکی ممالک کو ایک نئے خطرے میں مبتلا کردیا ہے کہ کہیں اعلیٰ ٹیکنالوجی مشرق نہ منتقل ہوجائے۔

پاکستان میں میکا ٹرونکس انجینئرنگ کی تعلیم

پاکستان میں میکا ٹرونکس میں بیچلرز آف انجینئرنگ کی ڈگری تفویض کرنے والی اعلیٰ جامعات موجود ہیں، جن کے طالب علموں نے دنیا بھر میں اپنا نام کمایا۔ ان جامعات میں جہاں 4سالہ بی ای یا بی ایس سی میکا ٹرونکس کرکے آپ اپنے کیریئر کو محفوظ بناسکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے چار سالہ پروگرام بی ایس/ بی ایس سی/ بی ای میکا ٹرونکس انجینئرنگ کو اپنے پورٹ فولیو میں خاص جگہ دی ہے۔ اگر آپ ایچ ای سی کا میکا ٹرونکس نصاب ملاحظہ کریں تو وہ جدت کے تقاضوں سے بھرپور نظر آئے گا، جو پاکستان اور بیرون ملک میں میکا ٹرونکس کے روشن کیریئر کی دلیل ہے۔ تاہم پاکستانی معاشرے پراس کےدور رس ثمرات اس وقت تک مرتب نہیں ہونگے جب تک ہم مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو اعلیٰ ٹیکنالوجی سے متعارف کراتے ہوئے اپنے وسائل سے خودکار مشینیں بناکر دنیا کے مینوفیکچرنگ مشین ممالک میں شمار نہیں ہوجاتے۔ تاحال ہم آلات کی تیاری میں تو تھوڑے بہت خود کفیل ہیں لیکن میکا ٹرونکس سے جنم لینے والے روبوٹ انقلاب سے اس وقت تک لطف اندوز نہیں ہوسکیں گے جب تک ہم خود مصنوعی ذہانت پر مشتمل روبوٹس نہ بنالیں۔ اس ضمن میں تکنیکی مشاورت کے لیے امریکا و یورپ، چین اور جاپان کی معاونت حاصل کی جاسکتی ہے، جو ٹیکنالوجی میں اس وقت ہم سے آگے ہیں۔

تعلیم سے مزید