آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی معاصر کے ایک مقتدر کالم نگار کی نظر میں:

’’آسمانوں سے مدد اتری؟ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے مثبت نتائج ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں، ایف بی آر کے انٹرنیشنل ٹیکس کے شعبے نے بتایا ہے کہ صرف متحدہ عرب امارات سے 346ارب روپے کے اثاثے ظاہر کئے گئے، سوئٹزر لینڈ سے 114ارب روپے، برطانیہ سے 89ارب روپے، سنگا پور سے 87ارب روپے اور برٹش ورجن آئی لینڈز سے 48ارب روپے تسلیم کئے گئے۔ غیر دستاویزی معیشت کو دستاویز (ڈاکیو مینٹڈ) معیشت میں تبدیل کرنے کی طرف یہ ایک اہم اقدام ہے، اہم اور انقلابی اقدام‘‘۔

اظہار الحق مقتدر ہی نہیں معتبر ذمہ دار اور خیر خواہی کے جذبوں سے لدے پھندے دانشور اور لکھاری ہیں، سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ داری کی چیرہ دستیوں کے مقابل جنگ ان کی شاید ساری زندگی کا مشن رہا ہے چنانچہ وہ جب پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کی جانب کسی بڑھتے ہوئے قدم کو ’’آسمانوں سے مدد اتری‘‘ پر شکر گزار ہوں، ہم سب کو اس صالح دل کی ان صالح دھڑکنوں میں پورم پور شامل ہونا چاہئے، پھر بھی حد درجہ ادب سے! کیا ان جبری قوتوں کے مقابلے میں ’’آسمانوں سے مدد اتری‘‘ کی کوئی مثبت تاریخ (انفرادی واقعات کو چھوڑ کر، خاکسار عملی نظام کی بات کر رہا ہے) کے کوئی ابواب بارے سامنے رکھ سکتے ہیں جن کے الفاظ 70برسوں پر مشتمل ان ریاستی اہلکاروں کے مظالم و طغیانیوں کے کوہ ہمالیائوں کی اترائیوں ہی میں سہی، ہمیں کوئی ڈھارس دے سکیں۔

معیشت کی بات ذرا آگے چل کر کریں گے، فی الحال کسی اور جہت سے آگے بڑھتے ہیں، اختتام ان شاء اللہ اظہار صاحب کے اقتصادی خیالات پر ہی ہو گا۔

لاہور صوبائی دارالحکومت ہے۔ شہر کو قانون کے نام پر سول فورسز (پنجاب پولیس) نے جس طرح یرغمال بنایا ہوا ہے، کیا یہ کسی باعزت قوم کی باعزت زندگی ہے؟ رہی سہی کسر ڈولفن فورس نے پوری کر دی۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی وقتی جوشیلی کیفیات نے صوبے میں قانونی تہذیب اور ضابطوں کو زلزلہ آمیز آتش فشانی حالتوں سے دوچار رکھا، ڈولفن کا قیام پاکستانی عوام کی ضرورت کا نہیں بلکہ شہباز شریف کے ایسے ہی کسی جذباتی انتظامی تموج کا نتیجہ ہے، اب یہ لڑکے صوبے کے شہروں میں سڑک سڑک، گلی گلی موٹر سائیکلوں پر دندناتے ہیں، کسی سوسائٹی کے انسانی وقار کی محترم جبلت کا بچا کھچا تاروپود بکھیرنے کے لئے ان کا اسٹائل ہی کافی ہے۔

پاکستانی عوام اصولاً سول اور غیر سول ریاستی فورسز کے ہاتھوں ایسی اَن دیکھی بے عزتی اور توہین کا شکار ہیں جس کا ثبوت قوموں کے اجتماعی رویوں میں عدم توازن اور شدت پسندیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے، اللہ کا کوئی خاص بندہ ہی ہو گا جو ان محکموں کی پوشیدہ نیتوں کو مکمل طور پر پہچان کر، ان کی ماہانہ رپورٹوں کی خیرہ کن چمک دمک کو ایک طرف الٹا کر پھینک دے اور عوام کو ان طبقوں کی من مرضی کے مظالم اور زیادتیوں سے نجات دلائے۔

قانون کی عظمت کے نام پر پاکستان کے دیگر سرکاری محکموں کے اعمال کی داستان، قانون کی ننگی نفی کے علاوہ کسی دوسرے لفظ سے بیان نہیں کی جا سکتی۔ یہ ’’قانون کی عظمت‘‘ کس طرح قائم کرتے ہیں، اس کی تازہ ترین مثال پاکستان کے مایہ ناز صحافی رحمت علی رازی کی ’’جان کنی‘‘ کے لمحات کی روائیداد بھی ہے جو اصل میں ہماری ریاست کے اہلکاروں کے تناظر میں ہماری ذہنی اپروچ کا سبب ہے۔

قومی معیشت و مقام کے حامل دانشور اور ایڈیٹر جناب الطاف حسن قریشی نے ’’جنگ‘‘ میں شائع شدہ اپنے کالم ’’صحافت کی سبک خرام شخصیت۔ رحمت علی رازی‘‘ میں یہ انکشاف کیا کہ:’’رازی صاحب کی کار ان کے صاحبزادے اویس رازی چلا رہے تھے۔ جب وہ سکھیکی کے قریب پہنچے تو انہیں دل کا دورہ پڑا۔ لاہور جلد پہنچنے کے لئے اویس نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی تو موٹر وے پولیس نے جرمانوں کا دفتر کھول دیا، اویس انہیں بتاتے رہے کہ میرے والد رحمت علی رازی کو دل کا دورہ پڑا ہے اس لئے تیز رفتاری سے لاہور پہنچنا چاہتا ہوں۔ ’’فرشتہ صفت‘‘ پولیس نے اس اپیل پر کوئی توجہ نہیں دی، چنانچہ دو گھنٹوں کا سفر چار گھنٹوں میں طے ہوا اور جب وہ اسپتال پہنچے تو روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی، انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘

جب انہیں ’’قانون‘‘ آیا ہوا ہو، پاکستان کے یہ ریاستی اہلکار ایسا ہی کرتے ہیں، پنجاب پولیس جب رات کے وقت کسی عام سے شک و شبہ میں بھی کسی کے گھر چھاپہ مارتی ہے، عین اس وقت کوئی غیبی کیمرہ آن ہو تب دنیا کو پتا چلے، اس چھاپے کے دوران میں سپاہی سے لے کر انسپکٹر تک کے یہ ’’جوان‘‘ بچوں، بوڑھوں، بچیوں، بوڑھیوں، گھر کے فرنیچر، برتنوں، غرض جو شے راستے میں آ جائے اس کا کیا حشر نشر کرتے ہیں اور پھر پتہ چلے، یہ پاکستانی قوم ’’آزاد‘‘ نہیں غلامی کی ذلیل ترین شکل کی قیدی ہے۔

چنانچہ محترم و مکرم جناب اظہار الحق صاحب! وطن عزیز کے لئے ’’آسمان سے مدد آئی‘‘ سعید و مبارک ساعت ہے، سوال یہ ہے، پاکستانی عوام کی بے عزتی و توہین کی جو سیاہ تاریخ پاکستان کے ریاستی اہلکاروں نے مرتب کی ہے، جسے لکھتے وقت ہاتھوں اور قلم میں رعشے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اس طاغوتی ستم گری کا ازالہ کیسے ہو گا جس میں آج کمی نہیں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، (نیب اس کا تازہ ترین ایڈیشن ہے) لوگوں سے آپ ٹیکس دلوانا چاہتے ہیں مگر اس کارکردگی کے دوران میں یہ اہلکار عزتوں کے جو جنازے نکالیں گے کیا اس کا بھی کوئی توڑ ہے؟ جناب والا! وطن عزیز میں ہم شہری نہیں ’’رعایا‘‘ ہیں، ’’آزاد‘‘ نہیں، ’’غلام‘‘ ہیں اور ایکسپلائی ٹیشن تاحال یہ ہے کہ جب یہ تریجڈی بیان کی جاتی ہے تو جواب ملتا ہے علیحدہ ملک کا قیام وجود میں نہ آتا، پھر تم جیسے لوگوں کو پتہ چلتا!‘‘ سو ٹیکس لیں یا نہ لیں، ہماری جان، مال، عزت و آبرو اس ریاست کے اہلکاروں کے پاس یرغمال ہے! جناب محترم و مکرم!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)