آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سوویت یونین کی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں کوئی مضبوط و مستحکم حکومت نہ تھی۔ ملک کے مختلف صوبوں پر الگ الگ گروہوں کا راج تھا۔ ہر طاقتور اور بالادست کمزوروں کو دبانا اپنا حق سمجھ رہا تھا۔ عوام بنیادی سہولتوں سے محروم تھے۔ ہر طرف خوف کا عالم تھا۔ غریب کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ کئی خودساختہ حاکموں نے لوگوں سے جینے کا حق تک چھین لیا تھا۔ مجموعی طورپر حالات جب انتہائی خراب ہوئے، عوام کو اپنا حال و مستقبل تاریک نظر آنے لگا تو وہ کسی مسیحا کی راہ تکنے لگے۔ ان حالات میں ایک شخص نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ان خود ساختہ حکمرانوں کو للکارا۔ ان کا اولین مقصد غریب عوام کے جان ومال اور عزت وناموس کا تحفظ تھا۔ یہ مختصر گروہ جرأت و بہادری کے ساتھ میدان عمل میں نکل کھڑا ہوا تو مظالم اور استحصالی نظام میں پسے ہوئے عوام کی طرف سے، اس گروہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی۔ یہ مختصر گروہ ”طالبان“ کے نام سے مشہور ہوا اور اس کے روح رواں ملا عمر کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ وہ جس علاقے کا رُخ کرتے، عوام کی طاقت ان کے ساتھ ہوتی۔ اس طرح قندھار کی تحصیل اسپین بولدک کے ایک قصبے سے شروع ہونے والی عوامی تحریک دو سالوں کے اندر اندر پورے ملک پر چھاچکی تھی۔ 1994ء میں شروع ہونے والی اس تحریک نے 1996ء تک صرف دو سالوں میں

دارالحکومت کابل بھی فتح کرلیا اور پورے ملک سے کرپشن، لاقانونیت، قتل عام اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کا خاتمہ ہوگیا۔ کیوں؟ اس کی صرف ایک ہی وجہ تھی کہ طالبان نے افغانستان کے کرپشن زدہ نظام اور ظالم حکمرانوں سے نجات دلوا کر امن وامان قائم کیا تھا۔ یہ بات پوری دنیا مانتی ہے کہ افغانستان کی تاریخ کا طالبان کاچھ سالہ یہ دورِ حکومت عوام کیلئے سب سے پُرامن تھا۔ عوام مطمئن تھے ان کی جان، مال اور عزت وناموس محفوظ تھے۔
طالبان کیوں کامیاب ہوئے اور افغانستان میں طاقتور حکمرانوں کو کیوں شکست ہوئی؟ اس کی اصل وجوہات وہی ہیں جو موجودہ حکمرانوں کی ناکامی اور ڈاکٹرطاہر القادری کے کامیاب لانگ مارچ کی ہیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری سے ہزار اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان یہ بات درست ثابت ہوئی کہ موجودہ حکمرانوں نے عوام پر اتنا ظلم وستم کیا ہے کہ جو بھی شخص کرپٹ حکمرانوں اور موجودہ سسٹم سے نجات دلوانے کیلئے آواز لگائے گا، عوام اس کا ساتھ دیں گے۔ پورا ملک بدامنی، قتل وغارت، تعصبات، لسانیت، قومیت، صوبائیت میں اُلجھا ہوا ہے۔ کراچی مقتل بنا ہوا ہے، کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب درجن سے زیادہ لاشیں نہ گرائی جاتی ہوں۔ ہر صوبے اور علاقے میں مختلف مافیاز کا تسلط ہے۔ قومی اداروں میں رشوت عام ہے۔ عوام میں خوف وہراس کا یہ عالم ہے کہ عزت داروں نے اپنی بیٹیاں گھروں میں بٹھالی ہیں، سفر کرنا چھوڑدیا ہے، عوام کے پاس روزگار نہیں ہے، چولہا جلانے کے لئے گیس نہیں ہے، بلب جلانے کے لئے بجلی نہیں ہے، تعلیم دلوانے کے لئے وسائل نہیں ہیں۔جس ملک میں کامران فیصل جیسا شخص بھی محفوظ نہ ہو تو ایسے ملکوں میں پھر ایک عام آدمی کچھ کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے پھر وہ ہر اس شخص کا ساتھ دینے اور اس کے جلسے میں سخت سردی اور بارش میں چار چار دن بیٹھنے پر راضی ہوتا ہے جوخود کو ”نجات دہندہ“ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرے۔ وقت نے ثابت کردیا جو بھی شخص یہ نعرہ لے کر اُٹھا کہ میں کرپٹ حکمرانوں اور استحصالی نظام سے نجات دلواؤں گا، عوام اس کا ساتھ دیں گے ۔ میاں نواز شریف نے مارچ کیا تو لاکھوں لوگ شانہ بشانہ تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے پکارا تو ان کے جلسے میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ عمران خان نے نظام بدلنے کا نعرہ لگایا تو عوام کا سونامی امڈآیا، مگر جب یہ سب ٹھنڈے پڑگئے اور عوام کے مسائل جوں کے توں رہے تو طاہر القادری نے موجودہ کرپٹ حکمرانوں اور ایسی جمہوریت سے نجات دلوانے کے لئے لانگ مارچ کیا۔
ملک کی مذہبی، سیاسی اور دیگر جماعتوں کو یہ بات مان لینی چاہئے کہ طاہر القادری ہر اعتبار سے کامیاب رہے ہیں۔ وہ 25دنوں میں وہ کچھ حاصل کرگئے، انہیں وہ اتھارٹی مل گئی جو کسی کو 25 سالوں میں بھی نہیں ملی۔ تمام جماعتوں کو اس بات کا اعتراف کر لینا چاہئے طاہر القادری نے اس جرأت وبہادری، ایثار وقربانی کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے، ملکی تاریخ اور یہ قوم اس سے ناآشنا ہے۔ طاہر القادری کے کامیاب لانگ مارچ کے بعد اور کرپشن زدہ حکمرانوں سے ناک سے لکیر کھنچوانے کے بعد ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں طاہر القادری کے خلاف زہر اُگل رہی ہیں، انہیں برا بھلا کہہ رہی ہیں، ان کی ذات پر کیچڑا اُچھالا جارہا ہے۔ میں طاہر القادری کا مرید یا شاگرد نہیں ہوں لیکن حق اور سچ بات کہہ رہا ہوں اور تمام سیاسی، مذہبی اور دیگر انقلاب اور اصلاح کا نعرہ لگانے والی جماعتوں سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں کہ ن لیگ ملک بھر سے کرپشن، مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کا نعرہ لگا رہی ہے۔ اس نے اپنی بات منوانے کے لئے پانچ سالوں سے عملی طورپر کیا کام کیا؟ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے اپنی جماعت کے دو چار لاکھ افراد لے جاکر لانگ مارچ کیوں نہ کیا؟ دھرنے دے کر کرپشن زدہ ٹولے کو کیوں مجبور نہ کیا کہ وہ کرپشن ختم کرنے کا معاہدہ کرے۔ عمران خان 3سالوں سے حکمرانوں اور اس کرپٹ نظام کے خلاف ہیں لیکن آج تک وہ اپنے سونامی کے رُخ کیوں اسلام آباد کی طرف نہ کرسکے؟ اگر یہ مذہبی، سیاسی اور دیگر جماعتیں جو کرپٹ حکمران اور گندے نظام سے چھٹکارا چاہتی ہیں وہ صرف ایک ایجنڈا لے کر اُٹھیں مثلاً ن لیگ اپنے تمام لاکھوں کارکنوں کو جمع کرے اور پارلیمینٹ اور یہ ایوان کے سامنے اس وقت تک دھرنا دیئے رکھیں جب تک کرپشن کے خلاف قانون بننے کے ساتھ عملی اقدامات نہیں ہوجاتے۔ عمران خان اپنی تحریک کے لاکھوں کارکنوں کے ساتھ لانگ مارچ کریں کہ کرپٹ وزیروں کو اسمبلیوں سے باہر نہیں نکال دیا جاتا۔ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن اپنے لاکھوں عقیدت مندوں اور سرفروشوں کو لئے اسلام آباد میں دھرنا دیں کہ جب تک ڈرون حملے بند نہیں ہوتے، امریکی جارحیت کا خاتمہ نہیں کردیا جاتا اس وقت تک کسی صورت واپس نہیں جائیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن بھارت کے انا ہزارے کا کردار ادا کریں۔کون نہیں جانتا کہ جماعت اسلامی کے کارکن تمام جماعتوں کے کارکنان سے زیادہ پڑھے لکھے اور سمجھدار ہیں۔ انہوں نے کئی دھرنوں اور احتجاجوں کے ذریعے کئی حکمرانوں کو چلتا کیا، مگر آج وہ کیوں خاموش ہیں۔
پھر یہ بات مان لینی چاہئے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے یہ ثابت کر دیا ہے اگر کوئی جماعت کسی ایک ایجنڈے پر کام کرے اور استقامت دکھائے، نظم وضبط کا مظاہرہ کرے، رائج الوقت ذرائع کو استعمال کرے۔ دوسری جماعتیں اور ادارے جس کام سے گھبرائیں، وہ کام کرے۔ ظالموں اور جابروں کے سامنے کلمہ حق اچھے طریقے سے کہیں تو پھر ہر طرح کی مدد بھی آتی ہے۔ یہ وہ وقت اور حالات ہیں جو بھی شخص خود کو”نجات دہندہ“ باور کرائے گا، عوام اس کا ساتھ دیں گے۔ خواہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری ہوں یا کوئی اور۔ تبدیلی کا خواہشمند طبقہ سمجھتا ہے یہ ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ نہیں بلکہ عوامی لانگ مارچ تھا۔ یہی وجہ تھی کرپٹ حکمرانوں کے خاتمے اور صاف شفاف جمہوریت کی بحالی کے لئے عوام اپنے شیر خوار بچوں اور عورتوں کے ساتھ سخت سردی اور بارش میں چار دن تک ڈٹے رہے۔ اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے لئے یہ سبق پنہاں ہے کہ یہ قوم کسی نجات دہندہ کی تلاش میں ہے اور اصلاحات کے بغیر اس میں ملک وقوم کی تعمیر وترقی ممکن نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں