آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شکور پٹھان

میں ہمیشہ شہر کے مضافات ہی میں رہا۔ بچپن میں جب کبھی بہار کالونی سے شہر ٓانا ہوتا تو میرے شہر کا ایک عجیب ہی سحر ہوتا،آپ کو شاید لندن ، پیرس، نیویارک میں وہ حسن نظر نہ ٓائے جو مجھے اس زمانے کے کراچی میں نظر ٓاتا تھا۔سڑکیں عام طور پر صاف ستھری ہوتی تھیں۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ بندر روڈ پر اکثر سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھ کے ساتھ گھاس کا قطعے ہوتے جنکے ساتھ،ناریل کے بلند بالا درخت ہوتے جن پر پاکولا والوں نے اپنی بوتلوں کے اشتہار پینٹ کئے ہوتے تھے۔۔ جہانگیر پارک، برنس گارڈن میں لوگ باگ دفتروں سے واپسی پر دن بھر کی تھکن اتارنے کے لئے مالشیوں کے ٓاگے بیٹھے نظر آتے۔ شہر کے خوبصورت ساحل کلفٹن، ہاکس بے، سینڈزپٹ اور منوڑا میں نہ صرف میرے شہر کے لوگ بلکہ غیر ملکی بھی غسل ٓافتابی لیتے نظر ٓاتے۔ سینماوں میں نہ صرف اردو اور انگریزی کی بہتریں فلمیں لگتیں بلکہ بہت سےسنیما ہالوں کی کافی، سینڈوچ، آلو چھولے اور بند کباب وغیرہ بھی مشہور ہوتے۔ لوگ باگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ فلمیں دیکھنے جاتے اور فلم دیکھنا ایک خوشگوار اور یاد گار تجربہ ہوتا۔ شام کے وقت شہر کے پرانے باسی یعنی گوانیز، کرسچن اور بوڑھے پارسی وکٹوریہ گاڑیوں میں ہوا خوری کےلئے نکلتے۔ الفی یعنی الفنسٹن اسٹریٹ پر کتابوں، پھولوں اور ہر مشہور برانڈ کی اشیاءکی دکانیں تھیں۔ ریستوران صاف ستھرے ہوتے اور بعض اپنے مخصوص کھانوں کےلئے مشہور تھے۔

میرے شہرکے اولڈ ایریا ز جمشید روڈ،عامل کالونی، پارسی کالونی، سولجر بازار، بندر روڈ، صدر، سول لائنز اور کینٹ وغیرہ کےتھے، جہاں نہ صرف برطانوی راج کے دور کی عمارتیں بلکہ، ہندووں، پارسی، عیسائیوں یہاں تک کہ یہودیوں کی بنا ئی ہوئی عمارتیں، جو کہیں گوتھک تو کہیں راجھستانی اور کہیں سندھی طرز تعمیر کے دلپذیر نمونے پیش کرتیں۔

پورٹ ٹرسٹ ہاؤس، میری ویدر ٹاور، لکشمی بلڈنگ، ریڈیو پاکستان، کراچی گرامر اسکول، سینٹ پیٹرک، سینٹ جوزف، سینٹ اینڈریوز، ہولی ٹرینیٹی اور میتھوڈسٹ چرچ اور اسکول، ماما پارسی، این جے ویی، سندھ مدرسہ اسکول، ڈی جے اور این ای ڈی کالج، میٹھارام ہوسٹل، کینٹ اور سٹی اسٹیشن، کراچی جیمخانہ، کراچی کلب، سندھ کلب، خالقدینا ہال، ڈینسو ہال؛، تھیوسوفیکل ہال، فری میسن کلب، سٹی کورٹ، ہائی کورٹ، سندھ اسمبلی، گورنر ہاؤس، فلیگ اسٹاف ہاؤس، ہندو جیم خانہ، پارسی جیم خانہ، لیمارکیٹ، سولجر مارکیٹ، بلدیہ کراچی کی عمارت، وکٹوریہ میوزیم، منوڑہ کا لائٹ ہاوس، گاندھی گارڈن، اسٹار گیٹ، بوہری بازار، صدر اور بندر روڈ اور بولٹن مارکیٹ، پیلس اور برسٹل جیسے خوبصورت ہوٹل، گورا قبرستان، یہاں تک کہ سنٹرل جیل اور نجانے کیا کیا تھا جو قیام پاکستان سے پہلے سے تھا اور ہمیں تحفے میں ملا تھا۔یہ تمام عمارتیں اور علاقے اپنے سحر میں جکڑ لیتی تھیں۔ ان میں سے بہت کچھ اب بھی موجود ہے لیکن۔۔۔۔۔۔

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

اب تو یوں لگتا ہے کہ ہماری قسمت میں صرف نوحے، مرثیے اور ماتم ہی رہ گئے ہیں۔ اقدار کی بے قدری کانوحہ، رویوں کی ارذلی کا مرثیہ، روایات کی پامالی کا ماتم، عمارتوں اور اداروں کی بربادی کا رونا دھونا اور شہر کے پرسکون اور رواداری والے دنوں کا دکھڑا۔

کراچی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب اسے ،اپنوں نے لوٹ کے ویران کردیا۔میرے شہر کو برباد کرنے میں کسی دشمن کا ہاتھ نہیں۔ اسے ہماری پیسے کی ہوس، بدزوقی اور بد اعمالیاں کھا گئیں۔ اس شہر ناپرسان کو کسی نے اپنا شہر جانا ہی نہیں۔ یہ تو صرف پیسہ کمانے اور اپنی اپنی زندگیاں سنوارنے کی جگہ سمجھا گیا۔کیا یہ بد نصیبی نہیں کہ ہمیں ہیرے ملے اور ہم نے انھیں کوئلوں میں بدل ڈالا۔

جن سینمائوں میں کبھ نائلہ، لاکھوں میں یک، کنیز، ارمان اور چکوری جیسی خوبصورت فلمیں لگتی تھی،وہاں مولاجٹ، وحشی گجر، جیرا بلیڈ جیسی فلمیں لگنے لگیں اور آہستہ ٓاہستہ شہر کا ماحول ہی وحشی جٹ ہوگیا۔

اس بد نصیب شہر کا رونا رؤں تو ساری رات بیت جائے ۔ 

شاید میرے بچے اور نوجوان دوست یقین نہ کریں۔ کسی زمانے میں کبھی اپنے والد اور کبھی والدہ کے ساتھ گھر کی ماہانہ خریداری کےلئے صدر کے بیچوں بیچ واقع مارکیٹ میں جایا کرتا تھا او میرے ہفت زبان ابا جان کسی دکاندار سے گجراتی، میمنی ، کسی سے پشتو یا بلوچی میں بات کرتے اورہمیں اوروں کی نسبت کچھ زیادہ رعایت مل جاتی۔ امی کو یہاں وہ چیزیں مل جاتیں جو شہر کے کسی علاقے میں نہیں ملتیں اور جن چیزوں کے نام سے بھی لوگ واقف نہیں ہوتے۔ یہاں گوشت اور مچھلی کی بے حد صاف ستھری مارکیٹ بھی ہوا کرتی تھی۔

آج شاید میرے شہر والے اس یاد گارعمارت میں داخل بھی نہ ہوتے ہوں جو 1889 میں کوئین وکٹوریہ ایمپریس ٓاف انڈیا کے نام پر تعمیر کی گئی تھی۔ کوئین وکٹوریہ اگر اس مارکیٹ کی موجودہ حالت دیکھ لے تو اپنے نام کو ہٹانے کی درخواست کردے۔

میرے شہر والو!ہمارا شہر اب بھی بہت خوبصورت ہے اور بہت زیادہ خوبصورت اور پر سکون بن سکتا ہے اور انشا اللہ ضرور بنے گا۔ خدا کرے ہمارے شہر کی پہچان مزار قائد، ابن قاسم پارک، موہٹہ پیلس اور فرئیرہال جیسی عمارتیں ہوں نہ کہ کٹی پہاڑی، کھجی گراونڈ یا سہراب گوٹھ میرے شہر کا حوالہ بنیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں