آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سابق صدر آصف علی زرداری کی پارلیمنٹ ہاؤس میں صنعت و تجارت کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کی حکومت کو نومبر تک گھر بھیجنے کے بیان کے بعد اگلی صبح بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا ہدایت نامہ سامنے آگیا۔ اسپیکر کی طرف سے جاری کئے گئے اس حکم نامے کی وجہ کفایت شعاری کی مہم بتائی گئی لیکن اس نادر شاہی حکم کا پس منظر سب جانتے ہیں کہ ایسا صرف زیر حراست اپوزیشن رہنماؤں کو پروڈکشن آرڈر پہ پارلیمنٹ آنے سے روکنے کے لئے کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت پر سخت نالاں ہیں اور وہ اس کا برملا اظہار پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک فرمایا تھا کہ اب کسی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوں گے اور اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں کو ہدایات بھی جاری کی تھیں کہ پروڈکشن آرڈر سے متعلقہ رولز میں ترامیم کی جائیں تاہم حکومت کو اس وقت سخت دھچکا لگا جب سابق صدر آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد ان کے پروڈکشن آرڈر کی درخواست پر صرف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ہی نہیں بلکہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی دستخط کئے جس کے بعد اسپیکر کو نہ چاہتے ہوئے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا پڑے۔

اسپیکر ہر بار اپوزیشن کے شدید احتجاج پر کچھ لو دو کے تحت ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے تھے تب بھی خواجہ سعد رفیق کو بلانے میں بہت تامل سے کام لیا جاتا تھا۔ ایک موقع تو ایسا آیا تھا کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کی وجہ سے دیگر معاملات پر سمجھوتہ کرنیوالی مسلم لیگ (ن) رہنماؤں نے خواجہ صاحب سے معذرت کر لی تھی کہ وہ ان کے پروڈکشن آرڈر کی خاطر حکومت کو مزید رعایت نہیں دے سکتے۔ اس لئے وہ تھوڑی تکلیف برداشت کریں جس پر خواجہ صاحب پارٹی رہنماؤں سے ناراض بھی ہوئے تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے نئے حکمنامے کا تعلق بھی اسی پروڈکشن آرڈر سے جڑا ہوا ہے کیونکہ حکومت کسی طور نہیں چاہتی کہ جن جن کے خلاف مقدمات ہیں وہ پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں۔ پروڈکشن آرڈر کے قواعد میں ترامیم کے لئے اتحادی جماعتوں سے ممکنہ طور پرحمایت نہ ملنے کے خطرے کو بھانپتے ہوئے حکومت نے اپنی طرف سے نیا راستہ نکالا کہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں پر ہی پابندی عائد کر دی جائے۔ اسپیکر کے فیصلے کی مسلم لیگ(ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسپیکر پارلیمنٹ کو نہیں چلانا چاہتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسپیکر کے اس فیصلے پر اب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئی محاذ آرائی شروع ہوگی جس کا اظہار قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں واضح طور پہ دیکھنے کو ملے گا لیکن یہاں چند حقائق کا ذکر بھی ضروری ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں قائمہ کمیٹیوں کے کردار کے بارے میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ خود اپنی ویب سائٹ پر بیان کرتا ہے کہ یہ کمیٹیاں حکومت اور وزارتوں کی کارکردگی کی نگرانی اور مشاہدے کے ضمن میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں جبکہ پارلیمانی جمہوریتوں میں قائمہ کمیٹیاں پارلیمان کے آنکھیں، کان، ہاتھ حتیٰ کہ دماغ کا کام سرانجام دیتی ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سال میں 130دن منعقد کرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ باقی 235دن کے دوران قائمہ کمیٹیاں اہم امور سر انجام دیتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی طرف سے منظور کیا جانے والا کوئی بھی بل ایوان میں پیش ہونے کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹی میں جاتا ہے جہاں اس پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اسے منظوری کے لئے ایوان میں واپس پیش کیا جاتا ہے اور عمومی طور پر یہ کام انہی دنوں میں ہوتا ہے جب سیشن نہیں ہو رہا ہوتا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے پارلیمانی سال کو ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں اور ابھی تک صرف 10بل منظور ہوئے جن میں سے سات ایکٹ آف پارلیمنٹ بنے جبکہ ان میں بھی تین فنانس بل ہیں تو صرف 130دنوں میں کام کرنے والی قائمہ کمیٹیاں اب مؤثر قانون سازی کیسے پر پائیں گی۔ اس وقت قائمہ کمیٹیوں کی مجموعی تعداد 33ہے جبکہ پارلیمنٹ میں کمیٹی رومز کی دستیابی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وقفے سے ان کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں تو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اتنی بڑی تعداد میں قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس کیسے ایک ساتھ منعقد ہو پائیں گے۔ اسی طرح ایک ممبر قومی اسمبلی بیک وقت مختلف قائمہ کمیٹیوں کا رکن ہے جن کے اجلاسوں میں وقفے کے باعث وہ ہر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کر لیتا ہے اب اس کے لئے عملی طور پہ یہ بھی ممکن نہیں رہے گا۔ دوسری طرف اوسطاً پانچ سے چھ گھنٹے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے والا رکن کیسے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت یقینی بنا سکے گا، کیا ارکان قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس کو قومی اسمبلی اجلاس پر ترجیح دیں گے۔ کفایت شعاری کا بہانہ بنانیوالے بھی بخوبی جانتے ہیں کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چائے پانی پہ پہلے ہی پابندی ہے جبکہ انہیں ٹریول واؤچرز سالانہ وہی ملنے ہیں جو اب بھی وہ لے رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں پہ اس پابندی کی آڑ میں اپوزیشن رہنماؤں کو پروڈکشن آرڈر کے تحت پارلیمان آنے سے روکنے کا نادر شاہی حکم دینے والوں کو ملک میں جاری ستر سالہ احتساب کی تاریخ پر ایک نظر ضرور ڈالنا چاہئے تاکہ انہیں ادراک ہو سکے کہ کل جب انہیں اسی پروڈکشن آرڈر کی ضرورت پڑے گی تو ان کا یہی فیصلہ پچھتاوہ بن کے ان کے سامنے ہوگا۔