آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی معاشرہ میں محنت یعنی’’ہارڈ ورک‘‘ کو بہت گلیمرائز کیا گیا اور شاید کبھی یہ سو فیصد درست بھی تھا، پھر سب کچھ تبدیل ہوتا چلا گیا لیکن یہ تبدیلی بہت ہی سلو موشن میں اتنی بتدریج اور مرحلہ وار تھی کہ محنت کی ’’متھ‘‘ قائم رہی۔ ترقی یافتہ دنیا میں’’ محنت‘‘ یعنی ہارڈ ورک کی اجرت، حیثیت، شناخت اور صورت تو یکسر تبدیل ہوچکی لیکن میرا موضوع اپنے جیسے معاشروں تک محدود ہے جو جینوئن تبدیلیوں سے محروم رہتے ہیں۔ یہاں’’تبدیلی‘‘ بھی ڈگریوں کی طرح جعلی، خوراک کی طرح ناخالص اور دوائوں کی طرح دو نمبر اور سطحی قسم کی ہوتی ہے۔کامن سینس کی بات ہے کہ کسان اور مزدور سے زیادہ’’محنت‘‘ کون کرتا ہوگا یا کرسکتا ہے لیکن معاوضہ؟ ’’نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی‘‘نہ اجرت نہ عزت۔ صورتحال کو سمجھنے کے لئے برنرڈشا کی تحریروں سے چند اقتباسات کہ سمجھنے والوں نے خالص محنت کی اصل حقیقت عرصہ پہلے جان لی تھی، شا کہتے ہیں۔’’یہ عجب انصاف ہے کہ محنت شاقہ اور گندے کام کرنے والوں کو سب سے کم مزوری ملتی ہے اور آسان کام کرنے والوں کو خاصی معقول اجرت دی جاتی ہے مگر سب سے زیادہ ان کو ملتا ہے جو کچھ بھی نہیں کرتے۔‘‘اک اور جگہ لکھتے ہیں’’کیسا گورکھ دھندا ہے کہ سال بھر تک سخت محنت کرنے اور گرمی، سردی، برسات وغیرہ کی سختیاں

برداشت کرنے کے باوجود ایک کسان یا مزدور کو تو بمشکل اتنا معاوضہ ہی ملتا ہے جس سے وہ اپنے اہل و عیال کا پیٹ ہی بھر سکتا ہے جبکہ ایک وکیل عدالت میں صرف آدھ پون گھنٹہ کی بحث سے ایک مجرم کو بچا کر اور انصاف کی گردن پر چھری چلا کر اچھے خاصے پیسے بٹور لیتا ہے۔‘‘کہیں اور لکھتے ہیں،’’شام کو فٹ بال، ٹینس، گھڑ سواری، پولو وغیرہ کو اپنی صحت کے لئے لازمی سمجھنے والو! دیہاتوں میں جاکر ان بدنصیب کسانوں کا ہاتھ کیوں نہیں بٹاتے جن کے جسموں کی ہڈیاں سخت محنت کے باعث چو ُر ہورہی ہوتی ہیں۔‘‘یہ تو ہوگئے خالص محنت کی شان میں برنرڈ شا کے قصیدے تو یہاں ذرا لائٹر سائیڈ پر مجھے ایک بھولی بسری فلم یاد آگئی جس کا ایک کردار دوسرے سے پوچھتا ہے۔تم کرتے کیا ہو؟وہ ہنستے ہوئے کہتا ہے......’’میں کچھ بھی نہیں کرتا اور جو کچھ بھی نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں۔‘‘دنیا کا چلن دیکھیں کہ روئی سے بھرے ہوئے بحری جہاز کی ساری روئی کے عوض ملنے والا ایف 16کا ایک پرزہ اس سے کہیں زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔پاکستان کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں سارا زور روایتی قسم کی ایکسپورٹ پر ہے۔ ہمارا ملک جب تک ہوزری، کپڑا، گارمنٹس، کھیلوں کے سامان، چمڑے کی مصنوعات وغیرہ وغیرہ کے ساتھ انجینئرنگ گڈز پر توجہ نہیں دیتا، تجارت کا حق ادا نہیں ہوگا اور دراصل یہی فرق ہے’’ہارڈ ورک‘‘ اور ’’سمارٹ ورک‘‘ میں کہ ذہین افراد اور اقوام’’ہارڈورک‘‘ سے کہیں زیادہ’’سمارٹ ورک‘‘ پر فوکس کرتی ہیں۔ ا ن کے تعلیمی ادارے بھی رٹوطوطے اور محنتی یعنی’’ہارڈ ورکنگ‘‘ خچر اور کھوتے پیدا کرنے کی بجائے اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ بچوں میں تخلیق، تصور، تخیل وغیرہ کو بڑھاوا دیا جائے۔ ایجاد، اختراع، دریافت اوریجنل سوچ، نت نئے آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مکھی پہ مکھی مارنے اور لکیر کے فقیر پن کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں’’ٹیلنٹ‘‘ کے بہت ہونے کا بہت چرچا ہے لیکن ہم نے آج تک کوئی بڑا اوریجنل سائنسدان پیدا نہیں کیا۔ یہاں یہ بات دھیان میں رہے کہ ایٹم بم، کار یا جہاز بنالینا بھی پہیہ دوبارہ ایجاد یا دریافت کرنے جیسا کارنامہ ہے۔مسل کا دور کب کا ختم ہوچکا ، یہ عقل کا عہد ہے اور عقل کو سلیس زبان میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یعنی علم و ہنر کہتے ہیں۔ ہمیں ان مضامین اور موضوعات کو ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا جن میں مہارت ہمیں بین الاقوامی سطح پر باعزت و باوقار کرسکے ورنہ’’ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں‘‘ جیسے تکیہ کلام کسی کام کے نہیں۔اک اور بات جو انتہائی اہم ہے کہ ’’تخلیق‘‘ صرف خالص سائنسز اور ٹیکنالوجی تک ہی محدود نہیں۔’’اوریجنیلیٹی‘‘ تو شاعری، مصوری اور مجسمہ سازی سے تعمیرات تک لامحدود ہے۔ کچھ نیا اور اچھوتا کرنے کی امنگ قوموں کے عروج و زوال میں ایک فیصلہ کن ’’رویہ‘‘ ثابت ہوچکی ہے لیکن جہاں لنڈے کے ملبوسات اور ماکولات کے علاوہ اور کچھ دکھائی سجھائی ہی نہ دے وہاں یہ سب خواب و سراب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جہاں سوال کرنا جرم سمجھا جائے وہاں زوال در زوال ہی مقدر سمجھو جسے عدیم ہاشمی مرحوم نے یوں بیان کیا تھا؎گرو تو ساتھ گرے شان شہسواری بھیزوال آئے تو پورے کمال میں آئےواقعی ہمارے ہاں’’ٹیلنٹ‘‘ کی کوئی کمی نہیں لیکن اس فراوانی کے باوجود’’ہارڈورک‘‘ اور ’’سمارٹ ورک‘‘ میں فرق کو سمجھنا ضروری ہوگا ورنہ قرضہ اور اس کی قسطیں تو ہیں ہی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں