آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میری نظر سڑک پار رکنے والی ایک سرخ رنگ کی کار پر پڑی، گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سے اسلام آباد پولیس کا ایک باوردی اہلکار باہر نکل رہا تھا، اس کے ہمراہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ایک خوش شکل خاتون تھی جس نے کپڑے میں لپٹا نومولود گلے لگا رکھا تھا، پولیس اہلکار عورت سے خوش گپیاں لگانے میں مصروف تھا اور وہ اس کے ہمراہ نجانے کیا سوچتی کچہری میں داخل ہو رہی تھی، عورت چونکہ خوش شکل تھی اس لئے اردگرد کی نظریں اس کا تعاقب کررہی تھیں۔ یہ سال 2008کے موسم بہار کی بات ہے، میں ان دنوں لاہور سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار سے وابستہ تھا، ہمارا دفتر سیکٹر ایف ایٹ اسلام آباد کچہری کے ایک کونے میں موجود پلازہ میں ہوا کرتا تھا، دفتر میں بیٹھے بیٹھے اکثر اکتاہٹ اور تھکن کا احساس ہوتا تو باہر نکل جاتے، ادھر ادھر گھومنا پھرنا اور چائے پی کر دوبارہ تروتازہ انداز میں واپس دفتر آجانا معمول تھا۔

دفتر چونکہ اسلام آباد کچہری کے ساتھ ہی واقع تھا اس لئے چائے پینے کے لئے اکثر کچہری کا رخ ہی کیا جاتا، کچہری میں ضلع کی سطح پر تعینات ججز اور مجسٹریٹ وغیرہ بیٹھتے ہیں لہٰذا یہ معاشرے میں ان طبقات کا مرکز ہوتی ہے جو تنازعات طے کرنے ماتحت عدالتوں میں انصاف کی تلاش کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں، کوئی عدالتی تاریخ پر موجود ہے تو کسی نے نیا مقدمہ دائر کرنا ہوتا ہے، کچہری وکلا کے لئے کلائنٹس کا مرکز بھی ہوتی ہے تو کچھ لوگ کچہری میں موجود ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں اپنے کاموں کے لئے دھکے کھاتے پھرتے ہیں، غرضیکہ رنگ برنگے افراد کی وجہ سے چہل پہل اور رونق لگی رہتی ہے۔ کچہری میں لگی عدالتوں میں عام طور پر ان قیدیوں کو پیش کیا جاتا ہے جن کے مقدمات زیر سماعت ہوتے ہیں، یہاں جیل گاڑی میں لائے گئے قیدیوں کو ایک لمبی زنجیر کے ساتھ باندھ کر لایا جاتا ہے اور پھر فرداً فرداً ان کو ان کے کیسز سے متعلق عدالتوں میں پہنچایا جاتا ہے، عدالتوں کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں ایک ایک کر کے واپس حوالات میں بند کردیا جاتا ہے، عام طور پر یہ سارا کام دو تین بجے تک مکمل ہو جاتا ہے، پھر جیل سے لائے گئے ان افراد کو ہانک کر گاڑی میں بٹھایا اور واپس جیل پہنچایا جاتا ہے، اس گہما گہمی کے دوران بڑے دلخراش واقعات دیکھنے میں آتے ہیں، بعض قیدیوں کے اہلخانہ اپنی ملاقات کے لئے حوالات پر تعینات پولیس اہلکاروں کی مٹھی گرم کرتے ہیں، کچھ عدالتوں کے اندر ہی اپنے پیاروں سے مل لیتے ہیں اور بعض تو آتے جاتے راستے میں ہی ملاقات کر لیتے ہیں۔ اچانک میرا گزر کچہری کے بیچوں بیچ اس راستے سے ہوا جہاں سے ہتھکڑیوں میں جکڑے قیدیوں کو حوالات لیجانے کے لئے گزارا جاتا تھا، اس بار منظر دل دہلا دینے والا تھا، لمبی زنجیر میں بندھے کم و بیش 15قیدی آگے چل رہے تھے، ان میں سے شلوار قمیض میں ملبوس ایک قیدی کے ساتھ وہی خوش شکل عورت چلی جا رہی تھی۔ قیدی نے ایک ہاتھ میں کپڑے میں لپٹا بچہ اپنے سینے سے لگا رکھا تھا جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ زنجیر سے بندھا اسے آگے چلنے پر مجبور کررہا تھا، چہرے کے تاثرات سے ایسا لگ رہا تھا کہ ملنے والی اس کی اہلیہ ہے اور شاید بچے سے اس کی پہلی ملاقات ہے، وہ بچے کو بہت پیار کر رہا تھا، ہتھکڑی قیدی کی یاس اور بیچارگی کا منہ بولتا ثبوت تھی مگر اس سب کے باوجود وہ خوشی سے مسکرا رہا تھا۔ اس منظر نے جیسے مجھ پر سکتہ سا طاری کردیا، شدید کوفت محسوس ہوئی مگر یہ جاننے کا اضطراب بھی کہ اس عورت کے ہمراہ اسے اپنے شوہر سے ملاقات کے لئے کچہری لانے والا پولیس اہلکار منظر سے غائب کیوں ہے؟ رک کر بغور ادھر ادھر کا جائزہ لیا، مجھے وہ اہلکار کہیں نظر نہ آیا، جلد از جلد اس ماحول سے نکلنے کے لئے تیز تیز قدم اٹھائے اور اپنی راہ ہولیا۔ دفتر پہنچا، وہاں کچھ وقت گزارا اور ایک دو گھنٹے کے بعد واپس کچہری روانہ ہوگیا، شاید اس بار بھوک مجھے یہاں کھینچ لائی تھی، کچہری میں لوگوں کا آنا جانا کافی ہوتا ہے اس لئے یہاں ریسٹورنٹ کا کاروبار بھی بہت چلتا ہے، لوگوں نے مختلف چھوٹے بڑے ریسٹورنٹ کھول رکھے ہیں جہاں مناسب کھانا مل ہی جاتا ہے۔

کسی ریسٹورنٹ پر بیٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ سامنے سے مجھے اسلام آباد پولیس کا وہی اہلکار اسی عورت کے ہمراہ چلتا نظر آیا، عورت مسکرا رہی تھی اور اس نے بچہ بازوؤں میں اٹھا رکھا تھا، وہ باتوں کے دوران پولیس اہلکار کو ایسی نظروں سے دیکھتی کہ جیسے شکریہ ادا کر رہی ہو اور شاید شکایت بھی، وہ دونوں میرے پاس سے گزرے اور سڑک پار کر کے اسی سرخ رنگ کی گاڑی میں سوار ہو گئے جس پر وہ یہاں آئے تھے۔ مجھے جو بات سمجھ آئی تھی وہ یہ کہ پولیس اہلکار نے اس بے بس عورت کی اس کے شوہر سے ملاقات میں مدد کی، اس کے عوض اس نے کیا فائدہ لیا میرے علم میں نہیں لیکن قیاس کے گھوڑے عورت اور مرد کے درمیان کسی آخری تعلق کی منزل پر ہی رکتے ہیں۔

اس واقعے کو کئی سال بیت گئے لیکن اس کے بعد جب کبھی کسی کام سے جیل، تھانے یا کچہری میں عورتوں کو تنہا اپنے پیاروں سے ملاقات کے لئے کھڑا دیکھتا ہوں تو میرے دماغ میں سال 2008کے اسی واقعے کے تینوں مناظر گھوم جاتے ہیں۔ کیا کبھی کسی قانون ساز ادارے کے کسی فاضل رکن کے ذہن میں کبھی یہ بات بھی آئی ہے کہ یہ بھی کوئی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی تلاش کیا جانا چاہئے، کوئی قانون سازی اور قواعد و ضوابط، کوئی طریقہ کار وضع کرنے کا اب تک کیوں نہیں سوچا گیا؟ اور اگر طریقہ کار ہیں بھی تو ان پرعملدرآمد کیوں نہیں ہوتا؟ کیا مجبور عورتوں کا اسی طرح سہولت کاروں کے ہاتھوں استحصال ہوتا رہے گا؟

سچ یہ ہے کہ کچہریوں اور جیلوں میں آنے والی خواتین پر مردوں کی پڑنے والی نظروں کا اگر لوگوں کو احساس ہو جائے توشاید جرم رونما ہونا بند ہو جائیں یا کم ازکم ان میں واضح کمی ضرور آجائے۔