آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستانی فلم انڈسٹری کے ایک ڈانس ڈائریکٹر کو ”ہیرو“ بننے کا شوق چرایا اور مانگ تانگ اور ساتھی فنکاروں کی منت سماجت سے فلم مکمل کرلی۔ نمائش سے قبل سینمازمیں جو فوٹو سیٹ لگائے گئے اس دور کے لحاظ سے خاصے محرب الاخلاق اور جذبات انگیز تھے جبکہ موجودہ دور کے حوالے سے انتہائی کنزرویٹو یا حفظ پذیر قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا اولین دور حکومت تھا اور مولانا کوثر نیازی مرحوم وزیر اطلاعات و نشریات تھے اور فلم سنسر بورڈ بھی انہی کے ذیل میں آتا تھا اور خاصا ”پروگریسو“ ہو چکا تھا۔ کسی فلم میں جب کوئی ”ٹوٹا“ نما نظارہ پردہ سیمیں پر آتا، ہال میں بیٹھے منچلے فلم بینوں میں سے کوئی نعرہ مستانہ بلند کرتا ”مولانا کوثر نیازی“تو بھرپور انداز میں (ازراہ تفنن) جواب آتا ”زندہ باد“۔ خفیہ رپورٹس جا چکی تھیں کہ حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے کہ وہ سرکاری سطح سے فحاشی پھیلا رہی ہے۔ خیر، وہ فلم ہم بھی دیکھنے گئے ”پہ تماشا نہ ہوا“ کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے دو ایک کی پولیس گارڈ سینما کے مشین روم میں بٹھا رکھی تھی کہ سنسر شدہ ٹوٹے نہ چل پائیں۔ فلم جوں جوں اختتام کے قریب پہنچ رہی تھی ”ڈبہ ای اوئے، ڈبہ ای اوئے“ کی صدائیں بلند سے بلند ہوتی جا رہی تھیں۔ فقط ایک شو چلنے کے بعد اس چوں چوں کے مربہ جیسی فلم کی بارہ کی بارہ ریلیں

ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ٹین کے ڈبوں میں بند ہو کر مجھ جیسوں کو بطور مذاق یاد رہ گئی ہیں۔ کروڑ ہا روپوں کی لاگت کی تشہیری مہم سے لے کر 13جنوری کو لانگ مارچ کے نام پر اسلام آباد پر یورش و یلغار اور پھر 17تاریخ کو شو کے خاتمے کے اعلان سے مجھے مذکورہ ڈبہ فلم اور علامہ طاہر القادری کے شو میں گہری مماثلت محسوس ہو رہی ہے۔
Ambiciousہونا یعنی غیر معمولی کوشش کی متقاضی خواہشات پالنا اور ناموری ،نمود، امتیاز اور جاہ طلبی کے جراثیم رکھنا معقول حد تک ہو تو جائز لیکن اگر کسی انسان کے اخلاق سچائی اور انسانیت کو چاٹنے لگیں تو برائی کے زمرے میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر ایسے انسان کا سینہ قبر جیسا تاریک ہوتا جاتا ہے۔ علامہ صاحب کی طبیعت کی نرگسیت اور حب جاہ حشمت سے ان کے قرب و وصل کا ”شرف“ رکھنے والے اچھی طرح سے واقف ہیں اور ان واقفان حال میں یہ احقر بھی اپنا شمار رکھتا ہے۔ تصنع اور بناوٹ علامہ موصوف کا اوڑھنا بچھونا ہے جو ان کے لباس، گفتار، انداز نشست و برخاست اور حرکات و سکنات جسمانی سے ہر وقت مترشح رہتا ہے اس کے لئے ازحد ضرروی ہے کہ اسلام آبادمیں دھرنے کے دوران فرمائی گئی ریلیں ری پلے کرکے دیکھیں، انشاء اللہ انسانی نفسیات کے ترجمان غالب کے ایک شعر کے مصرعہ ثانی کا مفہوم ان پر بضرور واہ ہوگا ”ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں“ کیا حضور نے کبھی غور فرمایا کہ ان کی ندرت فکر اور طلاقت لسانی سے متاثر و مرعوب ہو کر اسلام آباد کے ڈی چوک پر اکٹھا ہونے والے ہجوم کہ جس میں پیرو جوان خواتین و مرد حضرات کے علاوہ شیر خوار بچے بھی ابر آلود آسمان تلے ٹھنڈ اور بارش کی صعوبتیں سہ رہے تھے اور آپ جناب بلٹ و بم پروف کنٹینر میں موسموں کی شدت سے بے نیاز حکومت وقت کو ڈرانے، دھمکانے اور چتاؤنیاں دینے میں مصروف تھے۔ پرتعیش کنٹینر میں درجہ حرارت چالیس کے قریب پہنچا تو حدت جذبات اور تمازت ہیٹر کی وجہ سے جناب کوٹ اتارو، کوٹ اتارو کی صدائیں دینے لگے تھے اور سکرین پر رومال سے ماتھے کا پسینہ پونچھتے دکھائی دے رہے تھے جبکہ کھلے آسمان کے نیچے آپ کے پیروکار 8ڈگری سینٹی گریڈ میں بارش میں بھیگ رہے تھے۔ حضور انقلابیوں کو پہلے اپنے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑتے ہیں۔ ان کے شانہ بشانہ گرم و سرد کی اذیتیں سہنی پڑتی ہیں تب جاکر ان کے نام کی صدائیں شرک و غرب اور شمال یمین میں قیام پکڑتی ہیں۔ رسالت مآب کی شفاعت ان کے عکس ہائے پاء کی تقلید سے ہی ممکن ہوسکتی ہے ناکہ نقیض سے۔ مان لیا کہ جناب کی زندگی کو خطرہ تھا کہ جس جواز کی آڑ میں پی سی بھوربن کے سویٹ سے زائد آرام دہ بنکر میں بند رہے کہ بطور عالم دین وہ اس سے لاعلم ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے کسی نے پوچھا، یا علی آپ احتیاط کا دامن چھوڑ کر تلواریں برساتے انبوہِ کثیر میں گھس جاتے ہیں کیا آپ کو موت سے خوف نہیں آتا جس کے جواب میں علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا: موت میری زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہے کیونکہ اپنے معین وقت سے تقدیم اور نہ ہی تاخیر پر قادر ہے۔ آپ تو آپ، آپ نے تو اپنے اہل و عیال کو بھی محفوظ ترین فائیو سٹار کنٹینر میں اپنے ساتھ رکھا اور باہر ٹھٹھرتے سادہ لوحوں کو کربلا کی داستانیں سناتے رہے۔ آپ ملکی سیاست کے سدھار کے مدعی ہیں لیکن اپنے ولی عہد کو کیمرے کے سامنے رہنے کی اشاروں کنائیوں میں ہدایات کرتے رہے۔ ذی فہم اور جمہوریت پسند لوگ ابھی تک بلاول، حمزہ اور مونس کی موروثیت کا صدمہ نہیں جھیل پا رہے کہ ان کے آباء کی مسابقت میں آپ اپنے سیاسی نونہال حسین القادری کو قوم کے سرسوار کرنے کے لئے لے آئے ہیں۔ آپ کو اپنے سارے شوق مبارک لیکن میرے سامنے آج (مورخہ 21-01-13) کے روزنامہ جنگ کا آخری صفحہ دراز ہے جس میں ایک کالمی خبر چھپی ہے کہ تحصیل ڈسکہ کے گاؤں مندرانوالہ کا رہائشی محمد اشرف عرف پٹواری اسلام آباد کے ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔ مرحوم نے باقی لواحقین کے علاوہ دو بیوائیں اور 13بچے سوگوار ار لاوارث چھوڑے ہیں۔ اشرف بس ڈرائیور تھا اور اسے علامہ صاحب کے لانگ مارچ کے لئے اسلام آباد لے جایا گیا تھا۔ جہاں سخت سردی کی وجہ سے نمونیہ کا شکار ہو کر ایک خیراتی ہسپتال میں داخل ہوا لیکن جانبر ہونے کی بجائے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ علامہ صاحب نے اپنی نصف عمر عزیز تک اپنے اردگرد غربت کے بھوتوں کو رقص کرتے اچھی طرح دیکھا ہے۔ آنکھیں بند کرکے مراقبے کے عالم میں بشیر پٹواری مرحوم کی دو بیواؤں اور ان کے تیرا یتیم بچوں کو اپنی باطنی سطح پر کھڑا کرکے دیکھیں کہ زندگی اب ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گی۔ انہیں یاد ہوگا کہ 1989ء کی ایک سخت گرم دوپہر کو وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ چل چلاتی دھوپ سے بچنے کی خاطر درخت کے سائے میں پناہ لئے ویگن کا انتظار کر رہے تھے کہ میرا گزر ہوا اور بریک لگا کے میں نے انہیں بالاصرار اپنی گاڑی میں سوار کیا اور انہیں مغل پورہ میں واقع ایک گلی میں ان کے عزیزوں کی دہلیز تک چھوڑ کر آیا تھا جس پر انہوں نے مجھے مخاطب کرکے کہا تھا ”اللہ جل شانہ ایسے ہی کسی پر اپنی رحمتوں کا نزول نہیں فرماتے“۔ حالانکہ میں ان کی تعبیر رحمت کا اس وقت قائل تھا نہ اب کیونکہ عمومی طور پر موجودہ دور میں گاڑی، بنگلہ، مال و دولت، چور اچکوں، اٹھائی گیروں، فریبیوں اور جعل سازوں کی علامتیں قرار پاچکے ہیں۔ بلٹ پروف شیشوں کے پار کھڑے ہو کر دھرنے کے شرکاء کو ماں بہن بیٹی اور میرے بچوں کہنے میں کیا صرف ہوتا ہے…؟ فقط ڈھائی چھٹانک گوشت کا لوتھڑا زبان، جسے اندرون دہن دائیں بائیں اور اوپر نیچے جنبش دے کر ہوا سے لفظ تراشنا ہوتے ہیں۔ علامہ موصوف کے اپنے فرمودات کے مطابق ان کے پاس مال و دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ عالم دین ہونے کے ناطے سے وہ قرآن حکیم میں یتیموں پر رحم نہ کرنے کے جرم میں جہنم رسید کئے جانے اور بطور حجت انہیں یاد دلائے جانے کہ تم یتیم پر رحم نہیں کیا کرتے تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے سے اچھی طرح آگاہ ہونگے۔ سورت الفجر میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یتیموں کے حوالے سے اس طرح وعید فرمائی ”ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور میراث کا سارا مال سمیٹکر کھا جاتے ہو اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتا ر ہو۔ ہرگز نہیں، جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگزار بنا دی جائے گی اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا، اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہونگے اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی۔ اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل؟ وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا! پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔
مذکورہ ڈانس ڈائریکٹر کی ڈبہ فلم کے مانند آپ اپنے سپرڈ پر فلاپ شو پر ایک ارب سے زائد رقم خرچ کرسکتے ہیں تو مرحوم اشرف پٹواری کے لواحقین کی دیت آپ کے ذمہ بنتی ہے جو ستائیس لاکھ کے لگ بگ ٹھہرتی ہے اگرچہ اس قتل عمد یا غیر عمد کا مقدمہ آپ کے خلاف درج نہیں ہوا لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بشیر پٹواری آپ کے شوق قیادت کی سعادت کا لقمہ بنا ہے۔ اس لئے شرعی اصول متقاضی ہے کہ آپ استحصان سے کام لیتے ہوئے اس کی بیوائیوں اور بچوں کو کم از کم دیت کی رقم تو ضرور ادا کریں تاکہ وہ زندگی کا سفر جاری رکھ سکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں