آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر11؍ ربیع الثانی 1441ھ 9؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
مقابلہ کاتالونیا ریڈ ٹیم نے جیت لیا

اسپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی پاکستان سے اسپین کے لئے آمد کا سلسلہ 70کی دہائی سے شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے ۔ اس اثناء میں پاکستانیوں نے اپنے مذہبی اور قوی تہواروں کو منانے کے ساتھ ساتھ صحت مندانہ سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا اور اس حوالے سے پاکستان کے دیہی ، روایتی اور ثقافتی کھیلوں کے فروغ میں پیش پیش رہے ۔ کبڈی ، کشتی ، والی بال اور دوڑ جیسے کھیلوں کو نہ صرف یورپ بھر میں متعارف کرایا گیا بلکہ ان کھیلوں میں مقامی کمیونٹی کو بھی ساتھ ملاتے ہوئے انہیں بھی حصہ لینے پر مجبور کیا۔مقامی کمیونٹی اور اداروں نے بھی پاکستانیوں کے روایتی کھیلوں کو بہت پسند کیا اور ان کے فروغ کے لئے جتنا ہو سکا تعاون بھی کیا ۔

مقامی اداروں نے ایسے کھیلوں کے انعقاد کے لئے گراونڈز اور انڈور ہال مہیا کئے اور مختلف انتظامات کے لئے مالی امداد بھی کی تاکہ یورپی ممالک میں بسنے والے پاکستانی دیگر فضولیات سے بچے رہیں اور کھیلوں کے میدان آباد کرنے میں نمایاں کردار ادا کریں اور پاکستانیوں نے ایسا ہی کیا اور یورپی کھیلوں کے میدانوں کے روایتی اور ثقافتی کھیلوں کے ساتھ ساتھ کرکٹ سے آباد کر دیا ، کرکٹ کا تجربہ مقامی کمیونٹی کے لئے ایک نیا تجربہ تھا لیکن انہوں نے یہ تجربہ کیا اور آج اسپین کی قومی کرکٹ ٹیم بھی بن چکی ہے اور اسپین میں پاکستانیوں نے تقریباً 34کرکٹ کلب بھی رجسٹرڈ کرائے ہیں قومی معاملات کے لئے کرکٹ فیڈریشن کا قیام عمل میں آ چکا ہے ، اسی طرح صوبائی لیول پر صوبائی کرکٹ فیڈریشن بھی بن چکی ہے جس کے انتخابات میں پاکستانی نژاد مرزا بشارت کو صدر چنا گیا ہے ۔اسپین میں صوبائی لیول پر بادشاہ کپ ، کاتالونیا لیگ ، کاتالونیا کپ اور دوسرے کرکٹ ٹورنامنٹس منعقد ہوتے رہتے ہیں جن سے فٹ بال کے اس گھر میں کرکٹ نے ایک نیا سماں باندھ دیا ہے اور گراونڈز میں کرکٹ کھیلتے کھلاڑی عموما نظر آتے ہیں ۔

صوبہ کاتالونیا کے دارالحکومت بارسلونا میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے جنہوں نے انڈین ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور برطانیہ کے کھلاڑیوں پر مبنی ٹیمیں ترتیب دی ہیں ، بارسلونا میں ایشیاء کپ بھی ہو چکا ہے جس میں پاکستان کے قومی کھلاڑی بھی کھیل چکے ہیں ، عبدالرزاق ، راو خلیل ، یاسر عرفات اور افتخار چیمہ بارسلونا میں کھیل چکے ہیں اسی طرح ظہیر عباس دو دفعہ اسپین کا دورہ کر چکے ہیں اور کرکٹ کے میدانوں کی سیرابی کو خراج تحسین پیش کرنے کا شرف بھی حاصل کر چکے ہیں ۔جب پاکستانی کمیونٹی اسپین کے مختلف شہروں میں مختلف شعبوں میں طبع آزمائی کرتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوئی تو پھر کچھ اختلافات نے بھی جنم لینا شروع کر دیا ۔

ان چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ختم کرنے کے لئے کاتالان کرکٹ فیڈریشن نے کاروباری حضرات کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کے لئے 40پلس کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ کاروباری کمیونٹی اپنے اختلافات بھلا کر ایک میدان میں اکھٹا ہو جائے اور محبت و یگانگت کا مظاہرہ ہو ، لہذا دوسرا 40پلس ٹورنامنٹ منعقد کیا گیا جس میں چار ٹیموں نے حصہ لیا ، کاتالونیا گرین ، کاتالونیا ریڈ ، کاتالونیا ییلو ، اور کاتالونیا بلیو شامل تھیں ، راونڈ میچز میں کاتالونیا گرین اپنے تمام میچ ہار گئی جبکہ کاتالونیا بلیو رن ریٹ کی بنیاد پر پیچھے رہ گئی اور فائنل میچ کاتالونیا ریڈ اور کاتالونیا ییلو کے مابین کھیلا گیا ۔ منجوئیک گراونڈ میں ہونے والے اس فائنل میچ کو کاتالونیا ریڈ نے جیت لیا اور کپتان سعید بٹ نے میچ ونر ٹرافی حاصل کی ۔ کاتالونیا ریڈ 163بیس اوورز 7آوٹ سب سے زیادہ اسکور راجہ نثار کا تھا ۔ کاتالونیا ریڈ کی طرف سے محمد ندیم نے باولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹ لئے جس کے نتیجے میں کاتالونیا ’پیلے‘ 98رنز پر آل ٹیم آوٹ ہو گئی ۔ مین آف دی میچ کا ایوارڈ محمد ندیم نے حاصل کیا ۔کاتالونیا پیلے کی طرف سے رنر اپ ٹرافی چوہدری چاقب طاہر نے جبکہ ونر ٹرافی سعید بٹ کپتان نہ ہونے کی وجہ سے راجہ نثار نے وصول کی ۔

محمد اکرم ، چوہدری رشید ، سکھا سنگھ ، ملک عمران ، خوسے ماریا ، مرزا بشارت اور دوسرے مہمانوں نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے ۔اس 40پلس ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کی خاص بات یہ بھی تھی کہ گذشتہ سال پہلے ٹورنامنٹ میں 40پلس کی دو ٹیموں نے حصہ لیا تھا جبکہ اس سال چار ٹیموں کا حصہ لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئندہ برس اس ٹورنامنٹ میں مزید ٹیموں کا اضافہ ہوگا ، یہ اضافہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی کاروباری کمیونٹی کو ان کھیلوں کے زریعے قریب لایا جائے اور ایسے ٹورنامنٹس بھائی چارے کے فروغ کا باعث بھی بن سکتے ہیں اور سپین میں مقیم نئی نسل کو مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے کیونکہ جب وہ اپنے بڑوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں میں مصروف دیکھیں گے تو وہ بھی بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کھیلوں میں حصہ لیں گے جس سے مقامی کمیونٹی کو پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے سافٹ امیج ملے گا اور وطن عزیز کے وقار میں اضافہ ہوگا۔

بلادی سے مزید