آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

‎وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکا کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری گزشتہ ایک ہفتے سے امریکا میں موجود ہیں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور وزیر اعظم کے قریبی دوست ہیوسٹن کے امریکی نژاد پاکستانی معروف بزنس ٹائیکون طاہر جاوید، پاکستان کے امریکا میں سفیر اسد مجید خان کے ہمراہ وزیراعظم کے پروگراموں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔


اس سلسلے میں امریکی کانگریس میں پاکستانی کاکس کی شریک چیئرمین کانگریس وومن شیلا جیکسن لی سے بھی ملاقات کی اور وزیراعظم کے امریکی کانگریس کے ممبران اور سینیٹرز سے خطاب کے پروگرام کو حتمی شکل دی۔

پروگرام کے مطابق وزیراعظم کیپٹل ہل واشنگٹن میں اراکین کانگریس اور سینیٹرز سے خطاب اور اہم امور پر تبادلہ خیال کرینگے، اس پروگرام میں اب تک چالیس سے زائد اراکین کانگریس اور سات سینیٹرز نے شرکت کی تصدیق کی ہے، پروگرام میں وزیراعظم، پاکستان سے متعلق اہم سفارتی امور پر خطاب کریں گے، جبکہ انکی ملاقات کانگریس میں خارجہ امور کی کمیٹی سے بھی کرانے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔

دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے رہنما اور آئل بزنس ٹائیکون سید جاوید انور اور ان کی ٹیم بھی متحرک ہے، سید جاوید انور واشنگٹن میں ہونے والے جلسہ عام کے سلسلے میں اس تنظیم کے سب سے بڑے ڈونر ہیں، جس نے اس جلسے کا اہتمام کیا ہے۔

اس ارینا میں20 ہزار سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے تاہم اطلاعات کے مطابق ابتک چار ہزار افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے۔

اسی طرح طاہرجاوید کی جانب سے بااثر پاکستانی امریکی تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات جن میں بڑی بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو شامل ہیں کو بھی واشنگٹن میں مدعو کیا گیا ہے، اس کمیٹی کے چیئرمین پاکستان کے سفیر ایٹ لارج فار انویسٹمنٹ علی جہانگیر صدیقی ہیں جنہوں نے یہ تمام تر انتظامات کئے ہیں۔

اس اجلاس میں امریکی تاجروں کی وزیراعظم عمران خان سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے متعلق اہم امور پر بات چیت ہوگی اور کئی بزنس شخصیات وزیراعظم سے خصوصی ملاقاتیں بھی کریں گی۔

 وزیراعظم کے دورے کے  زیادہ تر اخراجات پاکستانی امریکی کمیونٹی کی جانب سے کئے جارہے ہیں اور سرکاری اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں