آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن(آئی این پی) جسم کے اعضا بھی جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر کرتے ہیں اور یہ ایک قدرتی عمل ہے لیکن اب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی سے پھیھپڑوں کی عمررسیدگی اور خرابی کا عمل تیز سے تیز ترین ہوجاتا ہے۔طبی ماہرین نے ایک مطالعے کے بعد کہا ہے کہ اگر ایک شخص ایسی فضا میں ایک سال تک سانس لے جہاں ایک مربع میٹر میں 5مائیکروگرام تک آلودگی کے ذرات ہوں تو اس سے ایک سال میں پھیپھڑے کو اتنا نقصان واقع ہوتا ہے جو طب کی زبان میں پھیپھڑوں کو مزید دوسال بوڑھا کردیتا ہے۔ اس طرح پھیپھڑوں کی افادیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔فضائی آلودگی کی صورت میں ٹھوس اور مائع اجزا ہوا میں تیرتے رہتے ہیں۔ ان میں دھول، مٹی، کاربن، راکھ اور دیگر اقسام کے ذرات شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ رکازی ایندھن، کوئلے، گیس، گاڑیوں کے دھویں، کارخانوں اور تعمیرات سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔اگر کوئی ایسی جگہ رہ رہا ہے جہاں فی مربع میٹر 10 مائیکروگرام ذرات ہوں تو اس کا نقصان دوگنا ہوگا۔ ایسی جگہوں پر سانس کا مرض یا سی او پی ڈی عام حالات سے چار گنا زائد ہوسکتا ہے۔ ایسے مقامات کے رہائشی سانس کی تنگی اور سینے کی جکڑن کی شکایت کرتے ہیں۔یہ سروے برطانیہ میں ہوا ہے اور جہاں ایک ڈیٹا بیس سے تین لاکھ افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مطالعے میں شامل خواتین و حضرات کی سانس کی

کیفیت اور دیگر ٹیسٹ لیے گئے تھے جس میں 2006سے 2010 تک چار سال کا عرصہ لگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں