آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بردکھوا سے آر سی مصحف تک

حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی، لندن
وہ اور ہی زمانہ تھا جب رسماً بھی کوئی رواج نہ پڑا تھا کہ جس سے خدا سنجوگ جوڑے گااس سے کہیں ملاقات ہی کرلیں یا پھر کوئی دوسرا شخص اس ملاقات کا ذریعہ ہی بن جائے کہ جس سے جسکی شادی ہونا ہے اس سے کہیں چوری چھپے تانک جھانک ہی کرلیں۔ اسلام سے ہٹ کر کبھی ہم نے زندگی گزاری تو وہ معاشرے و کلچر کے مطابق ہی گزاری بلکہ مذہب سے زیادہ معاشرتی و سماجی طریقے سے ہی عام لوگ اپنی زندگی گزارتے ہیں جیسا اور جو کچھ معاشرے میں رائج ہے یہ اسی پر چلتے ہیں۔ اب اگرچہ زمانہ وہ نہیں کہ سات پردوں میں بیٹھی عورت کو اسی سات پردوں میں چھپا کے پیا دیس نکال دیا جائے اور دونوں صورتوں میں بلکہ کسی بھی صورت میں خواہ وہ عورت غیروں سے آئی ہو یا پھر کزن سے شادی ہو دونوں صورتوں میں اس نے کبھی اپنے منگیتر کو شادی یا منگنی سے پہلے دیکھا ہو۔ بلکہ بہت سے لوگوں کے رواج کے مطابق تو شادی کے کئی دن بعد دولہا کو دلہن دیکھنے کی اجازت ملتی تھی۔ جنسی رویوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے ایک شخص جب مذہب و سماجی پابندیوں سے فرار چاہتا ہے تو ٹک کر بیٹھنا اسکی سرشت میں ہی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ڈھب اور ڈھنگ پر زندگی گزارنے لگتا ہے وہ بھی باغیانہ طریقے سے۔ پھر جہاں انسان کے سکون و آرام، تسکین روح و بدن کی اور لذت نفس کی بابت معاملہ ہو تو

وہ سیلفش سا ہوجاتا ہے۔ اپنے جذبات کے اظہار کے راستے دیکھتا ہے اپنے تاثرات اور جذباتی معاملے بیان کرنے کو بے چین رہتا ہےاس کیلئے اسے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تبھی پھر پابندیاں کم ہوئیں تو تانک جھانک کا دور آگیا لوگ آنے جانے تانکا جھانکی میں کسی کو پسند کر بیٹھتے اور پھر اپنی والدہ بہنوں اور بھابیوں کے ذریعے رشتہ بھیجتے یعنی پرپوزل بھیجتے۔ پھر دور اور آگے کو سرکتا ہے۔ میلے جو علاقائی سطح پر منعقدکئے جاتے ہیں وہاں کوئی لڑکی پسند آئی تو اگلے میلے کی بھیڑ میں لڑکا لڑکی کو اپنی آرزو بیان کردیتا ہے کہ مجھے آپ پسند آئی ہیں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ہوتے ہوتے پھر کیمرے کا دور چلا تو لڑکے تٓصاویر بنانے کے بہانے شادی گھر میں جانا شروع پھر وہاں کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے دیکھتے لڑکی جو بھی پسند آتی اس پر نظر رکھتے۔ لڑکی کو بھی پتہ لگانے میں دیر نہیں لگتی کہ اس کیمرے والے بائوجی کو ہم پسند آگئے ہیں کیونکہ کیمرہ ہاتھ میں لینے والا کم از کم سوٹ تو صاف ستھرے پہنتا ہے۔ پھر وہ لجائی، اترائی دوستوں کے جھرمٹ میں سے جھانکتی لڑکے کو نظروں سے پیغام بھیجتی یوں پھر بات آگے بڑھتی کہ ولیمے کی دعوت تک کام پکا ہوچکا ہے یعنی کہ گٹھ جوڑ مہندی مایوں سے شروع ہوکر ولیمہ تک انجام پذیر رہتا ہے۔ کبھی ایک زمانے میں مثال قائم ہوئی تھی بر دکھواکی، جس کے دو مطلب نکالے جاتے تھے ایک تو یہ کہ والدین اور دیگر بہنیں بھابیاں بر دیکھ لیتے ہیں پسند آنے پر پھر بر دکھوا کی رسم ہوتی ہے کہ بات پکی ہوگئی یعنی لڑکی ہماری ہوئی۔ اب حالیہ دور جس میں ہم داخل ہوچکے ہیں۔ اس میں وہ مثال فٹ بیٹھتی ہے کہ ’’ہمت مرداں مدد خدا‘‘۔ اب کوئی چاند تارے توڑ کے لانے والی بات نہیں کرتا، عاشقی و معشوقی کا دور بھی نہیں رہا کہ بندہ اس سرور ہی میں آدھی زندگی گزارلے، اب کسی کیلئے دریا میں چھلانگ بھی نہیں لگائی جاتی اب کوئی زہر بھی کسی کیلئے کیوں کھائے، اب ہمارے جیالے پوتوں کو والدین کیطرف سے بر دیکھنے کی محتاجی بھی نہ رہی کہ وہ بے چارے بر دیکھنے سے لیکر آرسی مصحف کی رسم کے درمیان اپنی آرزوئوں کو مچلتے دیکھتے۔ اب تو سیدھی سی بات ہے کہ لڑکے بہت سی لڑکیاں دوست بنا کر ان میں سے من بھاتی کو منتخب کرکے اسے من کی مستیوں کے لوازمات کیساتھ پرپوز کرنے لگے ہیں۔ جس میں رومانوی سامان ہوتا ہے۔ جی ہاں دور اب نیا شروع ہوچکا ہے۔ بر دکھوا و آرسی مصحف سے پہلے آگے تک کی لائف پارٹنر میں خصوصیات دیکھ کر انہیں ایک رسم کے مطابق ’’پرپوز‘‘ کرلیا جاتا ہے۔ ہم بات کو صرف لکس ٹائم ایوارڈ تک محدود نہیں رکھنا چاہتے کہ جس کے چرچے ہر جا پہنچ چکے ہیں کہ ایوارڈز کی شام کو رومانوی بنادیا گیا ہے کہ لکس ایوارڈ لینے والوں سے زیادہ لمحات وہ قیمتی تھے جب ایک میزبان اداکار نے ایک ابھرتی ہوئی اداکارہ اقراء عزیز کو شادی کی پیشکش کردی یعنی پرپوز کردیا جو کہ اقراء عزیز نے بخوشی قبول کرلیا۔ اب ہم نے وہ سین تو نہیں دیکھا کہ جس میں یاسر حسین اقراء عزیز کو پرپوز کرتے ہوئے دوزانو ہوکر اسکے سامنے پھول ادب سے پیش کررہے تھے یا پھر ہیرے کی انگوٹھی لے کر آئے تھے یا کوئی محبت کی خوشبو ہی پیش کی ہو۔ بہرحال یوکے یورپ و امریکہ میں بر دکھوا ٹائپ ماحول تو ہے مگر کچھ منفرد سا، وہ ایسے کہ والدین (یہ ایشین والدین) خاص کر ایشین والدین اپنے بچوں کو ان کی حیثیت کے مطابق بر دکھاتے ہیں۔ پھر بچے آپس میں ملنا شروع ہوتے ہیں کبھی بات بن جاتی ہے کبھی نہیں بنتی جن کی بن جاتی ہے وہ پھر رومانوی لوازمات لیکر پہنچ جاتے ہیں پرپوز کرنے جیسے انگوٹھی، پھول اور پرفیومز وغیرہ، پھر جس ریسٹورنٹ میں پرپوز کیا جاتا ہے وہاں کا ماحول سرپرائزنگ ہوتا ہے، کسٹمرز سے لیکر ویٹرز اور منیجر تک کو معلوم ہوتا ہے مگر لڑکی کو سرپرائز دیا جاتا ہے پرپوز کرکے۔ سنا ہے لندن کے بہت سے ریسٹورنٹ پرپوزل کے جوڑے کو فری ڈنر بھی کھلا دیتے ہیں۔ پھر لڑکیاں انگوٹھیاں فخر سے دکھاتی ہیں کہ کتنی قیمتی ہیں بلکہ لڑکیاں سونے کے زیورات سے زیادہ ڈائمنڈ کی انگوٹھیاں زیادہ پسند کرتی ہیں اور ان کی قیمت کئی ہزار پائونڈ تک پہنچی ہوتی ہے۔ پرپوز کرنے کے ڈھنگ بہت اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ ہالی ووڈ کے ایکٹرز اس میں بہت آگے ہیں۔ ایک رئیلٹی شو کا بڑا مشہور کردار(Kimkar Dashin)کم کرڈاشین کو جب اس کی منگیتر سنگر کیمی ویسٹ Kany Westنے پرپوز کیا تو پورے سٹیڈیم کو ہائر کیا پھر اسی ہائر شدہ سٹیڈیم میں اسکی پسندیدہ گلوکارہ سے گانے سنوا کر پرپوز کیا۔ بات وہی ہے بردکھوا و آرسی مصحف کی لیکن اب آرسی مصحف پہلے ہوجاتا ہے بُر دیکھنے کیساتھ۔

یورپ سے سے مزید