آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاجروں کی ملک گیر ہڑتال، وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں سمیت کئی شہروں میں کاروباری مراکز بند، کچھ کھلے رہے

کراچی، مظفر آباد،راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد (اسٹاف رپورٹر، نمائندگان جنگ، خبر ایجنسیاں، جنگ نیوز)حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اضافی ٹیکسو ں کیخلاف تاجروںکی ملک گیر ہڑتال، وفاقی اورصوبائی دارالحکومتوں سمیت کئی شہروں میں کاروباری مراکز بند، کچھ کھلے رہے،کراچی میں ملا جلا رحجان دیکھا گیا ،بیشتر مرکزی مارکیٹیں اور بازار بند جبکہ میڈیسن مارکیٹ، ایمپریس مارکیٹ اور اکبرروڈ کی دکانیں کھلی رہیں،راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور،پشاور ، فیصل آباد اور گوادر میںتجارتی مراکززیادہ تر بند رہے، احتجاج مخالف ٹریڈرز الائنس کاروبار کھلوانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا،آزاد کشمیر کے تاجروں نے بھی ہڑتال کی دھمکی دیدی ہے جبکہ انجمن تاجران پاکستان، مرکزی تنظیم تاجران اور دیگر تنظیموں کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ پر امن ہڑتال کے ذریعے ہم نے حکومت کو اتحاد اور آئینہ دونوں دکھا دیئے، ٹیکس پہلے بھی دیتے تھے آئندہ بھی دینگے مگر شب خون قبول نہیں، معیشت اور کاروبار

تباہ کرنیوالی شرائط واپس لی جائیں ورنہ احتجاج کا سلسلہ بڑھے گا۔ تفصیلا ت کے مطابق تاجر تنظیموں کی اپیل پر اضافی ٹیکسوں اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف ملک گیر ہڑتال ہوئی ،کراچی میں تاجروں کی ہڑتال کی کال پر ملا جلا رحجان دیکھنے میں آیا، بیشتر مرکزی مارکیٹیں اور بازار بند جب کہ کچھ کھلی رہیں،ہڑتال کی کال پر الیکٹرونکس مارکیٹ اور موبائل مارکیٹ سمیت مختلف مارکیٹس بند رہیں، شہر میں مین مارکیٹس سے دور مختلف بڑی شاہراہوں پر قائم ہزاروں دکانیں کھلی رہیں جن میں میڈیسن مارکیٹ، اکبر روڈ اور ایمپریس مارکیٹ کی بیشتر دکانیں شامل ہیں،طارق روڈ الائنس کی کال پر طارق روڈ کی مارکیٹ بند رہی۔صوبے کے دیگر شہروں لاڑکانہ، ٹھٹھہ، نوابشاہ، حیدرآباد، گھارو، دھابیجی، گجو، مکلی اور میرپور ساکری میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جب کہ ہڑتال کے باعث کراچی، حیدرآباد اور سکھر جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہی۔ کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدرمحمد رضوان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے موبائل فون کا کاروبار مکمل بند کر دیا ہے تاجروں کو ذاتی مفادکوبالائے طاق رکھتے ہوئے اجتماعی مفاد میں مکمل شٹرڈاؤن کرناچاہیے۔راولپنڈی میں صدر،مری روڈ ، شمس آباد، فیض آباد، راجہ بازار، کمرشل مارکیٹ ، بنک روڈ پر دکانیں مکمل بند رہیں، اسلام آباد میں آبپارہ، سپر، جناح سپر،م یلوڈی، کراچی کمپنی، جی ٹین اور جی الیون سمیت تمام کاروباری مراکز بند رہے۔ لاہور میں ہڑتال کے معاملے پر تاجربرادری دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، اور انجمن تاجران اور پاکستان ٹریڈرز الائنس نے علیحدہ علیحدہ دھڑے بنا لیے۔پاکستان ٹریڈرز الائنس ہال روڈ، مال روڈ، لبرٹی مارکیٹ، بیڈن روڈ، اچھرہ، فیروزپورروڈ، صرافہ مارکیٹ اور جیل روڈ پر دکانیں بند رہیں جبکہ انارکلی، بادامی باغ، منٹگمری روڈ، میکلوڈ روڈ، نکلسن مارکیٹ اور شاہ عالم مارکیٹ میں اکثر دکانیں بند اور جزوی کھولنے کا اعلان کیا گیا ، فلور ملز ایسوسی ایشن نے 17 جولائی تک ہڑتال مؤخر کر دی ہے،ملتان،فیصل آباد، گجرانوالہ ، چنیوٹ ، پشاور ،بنوں ، چارسد،ہ میں تاجروں نے کاروبار بند رکھے ، ہزار ڈویژن، کوئٹہ ، سبی ، قلات ، ژوب میں کاروبار بند رہا۔تاجر رہنمائوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کو اتحاد اور آئینہ دونوں دکھا دیئے، ٹیکس پہلے بھی دیتے تھے آئندہ بھی دینگے مگر شب خون قبول نہیں، معیشت اور کاروبار تباہ کرنیوالی شرائط واپس لی جائیں ورنہ احتجاج کا سلسلہ بڑھے گا،ادھر مرکزی انجمن تاجران آزادکشمیر نے ایف بی آر کی جانب سے مسلط کردہ نئے ٹیکسز کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مرکزی تنظیم پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سی بی آر کے نام سے آزادکشمیر میں اگر ٹیکس نظام لانے کی کوشش کی گئی تو مرکز کی کال پر ریاست گیر شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال سے دریغ نہیں کرینگے ۔ ملک بھر کے تاجر تنظیموں کی طرح انجمن تاجران گوادر کی اپیل پر بھی گوادر کے تاجروں اور دکانداروں نے حکومت کی جانب سے نئے بجٹ میں عائد ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف اپنا کاروبار بند کر کے احتجاج کیا ۔آل پاکستان انجمنِ تاجران کے جنرل سیکریٹری نعیم میر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک وڈیو بیان میں کہا ہے کہ تاجر تنظیمیں بجٹ مسترد کرتی ہیں، وزیرِ اعظم عمران خان اس حوالے سے تاجروں سے مذاکرات کریں، 80فیصد تاجر برادری بجٹ میں اٹھائے جانے والے نئے اقدامات کے خلاف ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروائے گی۔ادھر انجمن تاجران ،تاجراتحاد تنظیموں کی اپیل پر پڈعیدن سمیت ضلع بھر میں بھی تاجر برادری کی طرف سے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے شہر بھر کے تمام کاروباری مراکز بند ہیں انجمن تاجران کی اپیل پر پڈعیدن شہر میں بھی تاجر برادری کی طرف سے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے اورشہر بھر کے تمام دوکانیں ،کاروباری مراکز بند ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں