آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (حنیف خالد) روٹی کی قیمت میں اضافہ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے نہیں ہوا 20کلو آٹے تھیلے کی قیمت گندم کی نئی فصل آنے سے پہلے 738 روپے تھی جو آج 820 روپے ہے فی کلو اضافہ 4 روپے ہوا ہے ایک کلو سے آٹھ روٹیاں بنتی ہیں اس حساب سے روٹی کی قیمت میں صرف 50 پیسے تک اضافہ ہونا چاہئے تھا مگر پنجاب اور کے پی کے حکومتوں کی ملی بھگت سے 50 پیسے کی بجائے لاہور پشاور میں روٹی کی قیمت 15 اور نان کی قیمت 20 روپے مقرر کر دی گئی راولپنڈی آج بھی 10 وپے کا نان اور آٹھ روپے کی روٹی ہے اس لئے ایف بی آر کے نمائندوں کا یہ کہنا کہ روٹی ہماری وجہ سے نہیں ذخیرہ اندوزی سے مہنگی ہوئی مبنی بر صداقت نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے موجودہ چیئرمین حبیب الرحمٰن لغاری اور کل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین آصف رضا نے اپنے ایک سینئر ساتھی سے کیا جنہوں نے جنگ کو بتایا کہ بقول آصف رضا حبیب الرحمٰن لغاری آٹے کی قیمت بڑھنے سے تو روٹی اگر 120 گرام کا بھی ہو تو 50 پیسے کے پی کے پنجاب کی حکومتوں کو فی

روٹی قیمت بڑھانے کی متفقہ نانبائی ایسوسی ایشن کو دینی تھی روٹی کی جو قیمت بڑھی اس کی ساری ذمہ داری وفاقی اور دونوں صوبوں کی حکومتوں کی ہے۔ ایف بی آر کے نمائندوں کو علم ہونا چاہئے کہ ڈیڑھ سو فیصد گیس کی قیمت کس نے بڑھائی مزدور کی اجرت 8 سو سے 12 سو ہونے کا سبب کونسے حکومتی اقدامات ہیں دوسرے اخراجات بھی حکومتی ایکشن سے بڑھے اس کی فلور ملز ایسوسی ایشن پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی گندم کا ذخیرہ صوبائی حکومتوں نے کر رکھا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں