آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہفتہ 13جولائی کو تاجروں کی ملک گیر ہڑتال کے سیاسی اثرات کا درست اندازہ نہ لگانے والے خود کو گمراہ کر رہے ہیں۔ 1977کے بعد یہ پہلی ملک گیر ہڑتال تھی۔ ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کی بڑی مارکیٹیں احتجاجاً بند رہیں۔ ایسی ہی ایک دو ہڑتالیں ہم نے پاکستان قومی اتحاد( پی این اے ) کی تحریک کے دوران دیکھی تھیں، جو ملک گیر تھیں لیکن ان ہڑتالوں میں بھی سندھ اور بلوچستان سمیت ملک کے کچھ حصے ہڑتالوں سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ 1977کے بعد اس طرح کی منظم اور ملک گیر ہڑتال کا غلط اندازہ لگانے والوں کو اپنی رائے پر نظرثانی کرنا چاہئے۔ خاص طور پر ان لوگوں کو اپنے اس دعوے کا ازسر نو جائزہ لینا چاہئے، جو حالیہ ہڑتال کو ناکام قرار دے رہے ہیں۔

1977میں ہونے والی ملک گیر ہڑتالیں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف ہوئی تھیں، جو قائداعظم محمد علی جناح کے بعد سب سے زیادہ مقبول سیاسی رہنما تھے اور جن کی مقبولیت آج بھی پاکستان کی سیاست کا موثر سیاسی کارڈ ہے لیکن یہ پاکستان کی تاریخ کی حقیقت ہے کہ بھٹو کے خلاف بھی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتالیں ہوئیں۔ اس کے بعد ایسی ملک گیر ہڑتالیں نہیں دیکھی گئیں۔ پی این اے کی تحریک زیادہ تر شہروں کی مڈل کلاس میں موثر تھی۔ سیاسی جماعتوں کے کارکن زبردستی دکانیں بند کراتے تھے۔ تاجر اور صنعت کار طبقاتی اور نظریاتی بنیاد پر بھٹو مخالف بھی تھے۔ 13جولائی کی حالیہ ہڑتال کے پس پردہ یہ عوامل نہیں ہیں۔ تاجروں نے سیاسی جماعتوں کے کہنے پر ہڑتال نہیں کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے صنعتکار، تاجر اور پاکستان کی مڈل کلاس نے 25جولائی 2018کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی سب سے زیادہ حمایت کی تھی۔ اس کے باوجود 42سال بعد ملک گیر ہڑتال ہوئی اور وہ بھی تاجروں کی طرف سے۔ پاکستان تحریک انصاف کو اس پر ضرور سوچنا چاہئے۔

حالیہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے سیاسی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جس تحریک میں تاجر شامل نہ ہوں، وہ بظاہر کامیاب نہیں ہوئی۔ ایم آر ڈی اور اے آر ڈی اس کی واضح مثالیں ہیں، جو بالترتیب ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور میں چلائی گئیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان تحریکوں کے دور رس سیاسی اثرات پی این اے کی تحریک کے فوری اثرات سے زیادہ گہرے ہیں۔ شہروں میں بازار اور مارکیٹیں بند ہوتی ہیں تو ریاست کی عمل داری سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ اس مرتبہ تاجروں نے اپنے طور پر جو ملک گیر ہڑتال کی ہے، وہ ملک میں بنتی ہوئی سیاسی تحریک کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔ ہفتہ 13جولائی کو ہی تاجروں کی ہڑتال والے دن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی کے خلاف سکھر سے ضلع رحیم یار خان تک جو احتجاجی ریلی نکالی، وہ سیاسی تحریک کا ایک زور دار آغاز ہے۔ اب اگر تاجروں کے خلاف کے ساتھ معاملات طے بھی ہو جائیں، تب بھی ان کی اس ملک گیر ہڑتال کے سیاسی اثرات جاری رہیں گے۔ غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کے لوگوں نے اس ہڑتال کی ذہنی طور پر حمایت کی کیونکہ وہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ اس ہڑتال نے عام لوگوں کے ’’مائنڈ سیٹ‘‘ کو سیاسی تخیل دیا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ تاجروں کی ہڑتال اس مشاورتی عمل کے مکمل ہونے کے فوراً بعد ہوئی، جو وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ معیشت کے مختلف شعبوں کے نمائندہ افراد کے ساتھ پورے ملک میں شروع کیا اور کراچی میں اختتام پذیر ہوا۔ کراچی کے تاجروں نے تو یہ اعلان کردیا کہ ان کے وزیراعظم سے مذاکرات ناکام رہے ہیں۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے او رپاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شاید اس بات کا ادراک نہیں کر سکی کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ سخت گیر حکومتیں نہ صرف خود ناکام ہوتی ہیں بلکہ ریاست کو بھی ناکام بنا دیتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت سے صرف پکڑ دھکڑ اور خوف و ہراس کا تاثر جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک طویل بحث ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی پالیسیاں درست ہیں یا نہیں لیکن مہنگائی، غربت اور بیروزگاری میں اضافے اور معیشت کی سست روی نے تمام طبقات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور صرف ایک سال کے عرصے میں یہ سوچ پیدا ہو گئی ہے کہ اس حکومت کو لوگوں کی مشکلات اور مصائب کی پروا نہیں ہے۔

احتجاجی اور اجتماعی سوچ چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو، وہ اپنے اثرات ضرور دکھاتی ہے۔ تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں پر میڈیا میں بہت بحث ہو رہی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کے بیانات کا ایک نکتہ اسے سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ وزیراعظم عمران خان یہ درست کہتے ہیں کہ پاکستان قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے اور ہمیں پاکستان کو اس جال سے ہر حال میں نکالنا ہے۔ عمران خان کی نیت پر شک نہیں ہے لیکن انہیں شاید اس بات کا مکمل تاریخی اور سیاسی ادراک نہیں ہے کہ پاکستان کو ایک منصوبہ بندی کے تحت قرضوں کے اس جال میں پھنسایا گیا ہے او رپاکستان کی پوری سیاسی تاریخ اس منصوبہ بندی کے تابع ہی ہے۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جال سے نکلنے کی پالیسی سے پاکستان کی معاشی ترقی کی اب تک پیدا ہونے والی صلاحیت متاثر ہو یا پاکستان کو ملنے والے نئے مواقع سے ہاتھ دھونا پڑے یا پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو۔ دنیا کے کئی اہم ملک آج بھی ہم سے زیادہ مقروض ہیں ان کا قرض GDPسے کہیں زیادہ ہے۔ کوشش آمدنی بڑھانے کی ہونا چاہئے لوگوں کو بیروزگار، بھوک اور افلاس دینے کی نہیں۔ معاملات کو سیاسی تاظر میں دیکھنے کی عادت ڈالنا چاہئے۔ تاجروں کی ہڑتال کو ناکام قرار دینا قطعی طور پر غیر سیاسی اپروچ ہے۔