آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز


گزشتہ روز عالمی کرکٹ کپ کا منفرد اور سنسنی خیز فائنل کھیلا گیا جس میں برابری کی بنیاد پر سپر اوور کھیلا گیا اور اس میں بھی مقابلہ برابر رہنے کی وجہ سے انگلینڈ کو میچ میں زیادہ باؤنڈریز لگانے پر پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن انگلینڈ کو بنادیا گیا۔

گزشتہ روز نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے مابین کھیلے گئے فائنل میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی کرکٹ کا مقابلہ کم اور قسمت کا مقابلہ کرتے زیادہ نظر آئے۔

عالمی چیمپئن کا تاج سر پر سجانے کے بعد پریس کانفرنس میں انگلینڈ کے کپتان آوئن مورگن سے’خوش قسمتی‘ کے متعلق سوالات کیے گئے۔آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے مورگن سے رپورٹر نے سوال کیا کہ ’ان کی فتح میں ’آئرش لَک ‘کا کتنا کردار تھا؟‘

اس سوال کے جواب میں مورگن نے کہا کہ ’اللّہ بھی ہمارے ساتھ تھا۔‘

اپنی بات کو مزید جاری رکھتے ہوئے انگلش کپتان کا کہنا تھا کہ ‘بالکل! میری عادل رشید سے بات ہوئی تو اس نے کہا تھا کہ اللّہ ہمارے ساتھ ہے۔‘

مورگن کا کہنا تھا کہ یہی دراصل انگلینڈ ٹیم کی بہترین مثال ہے کہ ہم سب مختلف پس منظر، ثقافت اور ممالک میں پروان چڑھے ہیں جو ہمیں مشکل وقت میں ساتھ رکھتی ہے اور مزاح پیدا کرتی ہے۔

یاد رہے کہ اس ورلڈ کپ 2019 میں انگلینڈ کی ٹیم سے زیادہ تنوع کسی دوسری ٹیم میں نہیں تھا۔ انگلینڈ کی موجودہ ٹیم میں کپتان اوئن مورگن آئرلینڈ کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں اور فائنل کے ہیرو بین اسٹوکس نیوزی لینڈ میں پیدا ہوئے جبکہ اسپنر معین علی اور عادل رشید پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی طرح فاسٹ بولر جوفرا آرچر کا تعلق ویسٹ انڈیز سے ہے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید