آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بارہویں کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں گزشتہ روز انگلینڈ انتہائی سنسنی خیز اور تاریخ ساز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فاتح قرار پایا اور اس کھیل کا بانی ہونے کے باوجود چوالیس سال میں پہلی بار عالمی اعزاز کا مستحق ٹھہرا۔ دونوں ٹیموں نے نہایت معیاری اور شاندار کھیل پیش کیا جس کی وجہ سے آخری اوور تک مقابلہ برابر رہا۔ انگلینڈ کی ٹیم نے بڑی مشکل صورتحال سے خود کو نکال کر آخری اوور میں اسکور برابر کردیا لہٰذا دونوں ٹیموں کو مزید ایک ایک اوور کھلانے کا فیصلہ ہوا۔ انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو سولہ رنز کا ہدف دیا جس کے حصول کے لئے اس نے آخری بال تک بھرپور مقابلہ کیا اور آخری گیند پر جیت کے لئے درکار آخری رن بناتے ہوئے مارٹن گپٹل رن آؤٹ ہو گئے۔ یوں مقابلہ ایک بار پھر برابر ہو گیا لیکن کھیل کے قواعد کے مطابق انگلینڈ کو زیادہ باؤنڈریز کی بنیاد پر فاتح قرار دیا گیا۔ انگلش کپتان اوئن مورگن نے بالکل درست کہا کہ اس سے زیادہ مشکل اور اعصاب شکن میچ ہو نہیں سکتا تھا۔ اُنہوں نے پوری کشادہ دلی سے تسلیم کیا کہ کین ولیم سن اور ان کی ٹیم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بھرپور فائٹ دی جبکہ ولیم سن نے ٹائٹل جیتنے پر انگلینڈ کو کھلے دل سے مبارکباد پیش کی۔ 84رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلنے پر بین اسٹوکس مین آف دی میچ اور کیوی

کپتان ولیم سن ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ جیتنے اور ہارنے والی دونوں ٹیموں اور اسٹیڈیم کے اندر اور باہر ان کے ہم وطنوں اور شائقین نے اپنے جذبات کا اظہار نہایت شائستہ اور باوقار انداز میں کیا۔ اس قدر اعصاب شکن مقابلے کے باوجود ہڑبونگ اور افراتفری کا کوئی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان مہذب رویوں میں ہم جنوبی ایشیائی لوگوں کے لئے سیکھنے کو یقیناً بہت کچھ ہے۔ حالیہ ورلڈ کپ مقابلوں میں ہم اہلِ پاکستان کے لئے طمانیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ فائنل تک پہنچنے والی دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں ہمارے شاہینوں سے شکست کھا چکی ہیں جس سے واضح ہے کہ مزید محنت اور بہتر تیاری آئندہ ہماری کامیابی کے دروازے کھول سکتی ہے۔