آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:خالد پرویز…برمنگھم
ابراہیم خلیل اللہ جب تعمیر کعبہ کی تکمیل کرچکے تو حکم الہی ملا ’’اب لوگوں میں حج کے لئے عام اعلان کردو تاکہ لوگ یہاں آکر دیکھیں کہ اس حج میں ان کے لئے کیسے کیسے فائدے ہیں اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع وسجود کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھو۔‘‘ اور پھر اسی حکم الہیٰ اور خلیل اللہ کی پکار کا نتیجہ ہے کہ ہر سال دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں فرزندان توحید لبیک کا نعرہ بلند کرتے اس مقدس گھر کی طرف رواں دواں رہتے ہیں اور رب کعبہ نے اپنے گھر آنے والے مہمانوں کو جو عظمت اور رتبہ عطا کیا اسکا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے جلیل القدر پیغمبر کو حکم دیا کہ میرے گھر کو صاف رکھا کرو تاکہ میرے مہمانوں کو کوئی ناگواری یا تکلیف نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارکہ ہے کہ ’’حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر یہ دعا مانگیں گے تو اللہ ان کی دعا قبول فرمائے گا۔ اسے پکاریں گے تو ان کی آواز پر لبیک کہے گا‘‘۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے حج کیا اور ان بےحد و حساب فائدوں کو دیکھا جو اس عبادت میں پوشیدہ ہیں تو بے تامل پکار اٹھے کہ یقیناً حج عبادات میں سب سے افضل ہے۔ ’’یہی وجہ ہے کہ اللہ کے مہمان بننے کی سعادت حاصل کرنے اور اس کے فضل و کرم

اور انعام و اکرام کے حصول کے لئے کلمہ گو بے چین رہتے ہیں۔ دور جدید میں جوں جوں سفر کی سہولتیں اور معاشی حالات بہتر ہورہے ہیں۔ حج و عمرہ کے مقدس فریضہ کی ادائیگی کرنے والے عازمین کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ سعودی حکومت کے قوانین کے مطابق صرف ٹور اینڈ ٹریول آپریٹرز ہی حج و عمرہ کے سفر کے انتظامات کرنے کے مجاز ہیں۔ عازمین ان انتظامات کے لئے ایک بڑی رقم بطور امانت ان ٹور آپریٹرز کے حوالے کرتے ہیں اور بلاشبہ اس رقم کا ایک حصہ ٹور آپریٹرز کے جائز منافع کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اور قابل تحسین اور مبارکباد کے لائق ہیں وہ ٹورآپریٹرز جو اپنی پوری دیانتداری اور خلوص کے ساتھ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کو انجام دے رہے ہیں اور یوں دین اور دنیا ایک ساتھ کما رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک بڑا المیہ اور سانحہ ہے پچھلی صدی تک سعودی عرب میں حاجیوں کے قافلوں کو لوٹنے والے بنو حرب اور بنو عتیبہ کے قبائل کی باقیات نہ صرف ارض مقدس بلکہ دنیا بھر میں نئے رنگ و روپ کے ساتھ نہ صرف پھیل چکی ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ سرگرم عمل ہیں۔ مدینہ المنورہ کے ایک ہوٹل کے استقبالیہ میں بیٹھے ہوئے ایک مقامی نوجوان کا یہ فقرہ آج بھی میرے ذہن میں گونج رہا ہے کہ ’’حاجی پہلے اونٹوں پر سوار ہوکر آنے والے لٹیروں کے ہاتھوں لٹتے تھے اب لمبی گاڑیوں اور سجے ہوئے دفاتر میں بیٹھنے والوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں‘‘۔ دنیا بھر سے اللہ کے مہمانوں کی ایک بڑی تعداد بعض ٹور آپریٹرز کی طمع، جھوٹ، بددیانتی، دھوکہ، فریب اور اخلاقی پستی کا شکار ہورہی ہے۔ ایسوسی ایشن آف برٹش حجاج برطانیہ میں اللہ کے مہمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی مدد کے لئے سرگرم عمل فلاحی تنظیم کو بڑی تعداد میں پریشان حال عازمین حج و عمرہ کی جانب سے شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں کہ بعض ٹورآپریٹرز نے ان کے ساتھ دھوکہ اور فریب کیا۔ اور حج و عمرہ کے انتظامات کے سلسلہ میں ان سے سراسر جھوٹ بولا جاتا رہا۔ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جنت میں لے جانے والا کام کیا ہے؟ فرمایا سچ بولنا۔ جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کا کام کرتا ہے وہ ایمان سے بھرپور ہوتا ہے اور جو ایمان سے بھرپور ہوا وہ جنت میں داخل ہوا۔ اس نے پھر پوچھا کہ یا رسول اللہ! دوزخ میں لے جانے والا کام کیا ہے؟ فرمایا جھوٹ بولنا جب بندہ جھوٹ بولے گا تو گناہ کے کام کرے گا تو کفر کرے گا اور جو کفر کرے گا وہ دوزخ میں جائے گا۔ ‘‘ اسلام میں ’’لعنت‘‘ سخت ترین لفظ ہے جس کے معنی اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی کے ہیں۔ قرآن میں اس کا مستحق شیطان بتایا گیا ہے لیکن کسی مسلمان کو جھوٹ کے سوا اس کے کسی فعل کی بنا پر لعنت سے یاد نہیں کیا۔ قرآن حکیم کی سورۃ آل عمران میں رب کعبہ نے فرمایا ’’پھر دعا کریں، پھر جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں‘‘، جھوٹ کی ایک انتہائی خطرناک صورت یہ بھی ہے کہ اگر کوئی دوسرے کو سچا اور قابل اعتبار سمجھتا ہے۔ اس کی ہر بات کا یقین کرلیتا ہے لیکن وہ شخص اس کے اعتماد اور اعتبار سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور جھوٹ بول کر اس کو سخت فریب اور نقصان میں مبتلا کردیتا ہے تو اسلام نے اس کو سخت خیانت قرار دیا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’یہ ایک بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایک جھوٹی بات کہو حالانکہ وہ تم کو سچا سمجھتا ہو۔‘‘ سچائی کی عادت انسانی کو بہت سی برائیوں سے بچاتی ہے جو سچا ہوگا وہ ہر برائی سے بچنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ وہ راست باز ہوگا، راست گو ہوگا، وعدہ کو پورا کرے گا، عہد کا وفا کرے گا، دل کا صاف ہوگا، ریاکارنہ ہوگا، سب کے بھروسہ کے قابل ہوگا، لوگوں کو اس کے قول و فعل پر اعتبار ہوگا، جوکہے گا کرے گا۔ یعنی اس کے ہر قول و فعل کی بنیاد صدق و سچائی پر ہوتی ہے۔ رب کعبہ نے جن لوگوں کے لئے اپنی بخشش اور اجرعظیم کے وعدے کئے ہیں ان میں اسلام و ایمان اور اللہ کی فرمانبرداری کے بعد پہلا درجہ سچوں اور راست بازوں کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارکہ ہے کہ ’’مومن ہر خصلت پر پیدا ہوسکتا ہے لیکن خیانت کاری اور جھوٹ پر نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس میں چار باتیں ہوں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک بات ہو تو اس میں نفاق کی ایک نشانی پائی جاتی ہے۔ جب تک وہ اس کو چھوڑ نہ دے جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب کوئی قرار کرے تو وہ پورا نہ کرے اور جب جھگڑے تو حق کے خلاف کہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ منافق کی علامتیں تین ہیں جب کہے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور جب امین بنایا جائے تو بے ایمانی کرے۔ اگرچہ وہ نمازی اور روزہ دار ہی کیوں نہ ہو اور اپنے آپ کو مسلمان ہی کیوں نہ کہتا ہو جس طرح رب کعبہ اپنے وعدہ کا سچا اور عہد کا پکا ہے اسی طرح اس کے نیک بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں اور جو قول و قرار کریں اس کے پابند رہتے ہیں۔ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ منہ سے جوکہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول و قرار کرے اسکا پابند نہ رہے۔ سورہ معارج میں رب کعبہ نے جنت کے مستحق ایمان والوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارکہ ہے کہ ’’جس میں عہد نہیں اس میں دین نہیں۔‘‘ یعنی جو اپنے عہد کو پورا نہیں کرتا وہ دین کی روح سے محروم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم مجھے تین باتوں کا ذمہ دو تو میں تمہارے لئے جنت کا ذمہ لیتا ہوں جب بولو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب امین بنو تو خیانت نہ کرو، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان واضح اور صاف صاف فرامین کے باوجود اگر کوئی اللہ کے مہمانوں سے جھوٹ، فریب، بدیانتی اور بدعہدی کرکے دکھ، تکلیف اور نقصان پہنچاتا ہے تو پھر وہ جان لے کہ رب کعبہ کا غیظ و غضب اس سے زیادہ دور نہیں۔ چند روز کے لئے شاید رسی دراز ہوجائے۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان باغیوں اور مجرموں کو نشان عبرت بننا ہی ہے کہ یہی قانون قدرت ہے۔ ’’مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا، کیونکہ اس کے اور خدا کے بیچ میں کوئی پردہ نہیں۔‘‘ تاجدار حرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سخت ترین تنبیہ کے بعد یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہےکہ حرم مقدس میں اللہ کے مہمانوں کے دکھی دلوں سے نکلی بدعائیں اپنا اثر نہ دکھائیں۔

یورپ سے سے مزید