آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانس میں کھیلا گیا خواتین ورلڈ کپ فٹ بال کا میلہ امریکا نے لوٹ لیا جس میں کئی اعزازات شامل تھے۔ یہ ایونٹ ٹورنامنٹ کی عمر رسیدہ امریکی کپتان میگن راپینو اور کوچ جل ایلکس کیلئے سب سے زیادہ یادگار رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکی ٹیم نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس ایونٹ میں شاید ہی کسی ٹیم نے کیا ہو۔ دفاعی چیمپئن ہونے کی حیثیت سے ٹورنامنٹ کا آغاز کرنے والی امریکی ٹیم نے ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی چیمپئن جیسی کارکردگی دکھائی۔ ہالینڈ کیلئے فائنل تاریخی ثابت نہ ہوسکا جس نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنائی تھی، مقابلے کے پہلے ہاف تک تو ہالینڈ نے اپنی پوری توانائی کے ساتھ چیمپئن ٹیم کو گول کرنے سے روکے رکھا جس میں بنیادی کردار ہالینڈ کی ٹیم کی کپتان اور گول کیپر ساری وان ونینڈال کا رہا جس نے تن تنہا پہلے ہاف سمیت پورے میچ میں آٹھ یقینی گولز بچائےامریکا نے مقابلہ 2-0 سے جیتا لیکن اگر ساری وان ونینڈال امریکی بیڑے کے سامنے دیوار نہ بنتی تو شاید ہالینڈ کی ٹیم آدھے درجن سے زائد گول کی شکست سے دوچار ہوتی۔ ساری کو اس کی شاندار کارکردگی پر گولڈن گلوز کے ایوارڈ سے نواز گیا۔ ٹورنامنٹ کے دوران سب سے زائد عمر العمر کھلاڑی قرار دیئے جانے والی امریکی کپتان میگن راپینو نے بھی کمال کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور گولڈن بوٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں- انہیں فائنل کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا- 34 سالہ میگن نے حیران کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 گول کرکے ٹاپ اسکورر ہونے کا بھی اعزاز حاصل کیا- فیفا ینگ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز جرمنی کی جولیا گون کو جبکہ فیفا فیئر گیمز ٹرافی فرانس کے حصہ میں آئی- فیفا ویمنز ورلڈ کپ فٹ بال کا فائنل تماشائیوں کے لحاظ سے بھی تاریخی رہا۔ فائنل کے دوران 58 ہزار کے لگ بھگ تماشائی میچ میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی سے محظوظ ہوئے۔ ان میں برتری امریکی تماشائیوں اور سپورٹرز کی تھی۔ شائقین اپنے اپنے ممالک کے جھنڈے اٹھائے نعرے لگاتے اسٹیڈیم کا چکر لگاتے رہے- بچوں اور خواتین چہروں پر قومی پرچم بنواتے رہے-میچ کے دوران دونوں ملکوں کے شائقین اپنی اپنی ٹیم کی ہر موو پر پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ڈرم اور تالیاں بجاتے رہے-دفاعی چیمپئن امریکا نے اس ایونٹ کے دوران کئی ریکارڈ قائم کئے۔ امریکا نے مسلسل دوسری بار فیفا ویمنز ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ جیت کر جرمنی کا مسلسل دو بار ٹائٹل جیتنے کا اعزاز برابر کردیا- جرمنی نے 2003ء اور 2007ء میں مسلسل دو بار ورلڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ جیتا تھا- 

امریکا نے اس سے قبل تین بار1991، 1999 اور 2015میں ٹائٹل حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا جبکہ 2011کے ورلڈ کپ میں اسے جاپان کے ہاتھوں پینلٹی ککس پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا- اب یہ چوتھا موقع ہے جب امریکی ٹیم یہ کارنامہ انجام دیا- امریکی ٹیم اب تک ہونے والے 8 ایونٹس میں سے ریکارڈ پانچ بار فائنل میں پہنچنے میں کامیاب رہی۔ فائنل جیتنے والی امریکی ویمنز فٹبال کوچ جل ایلکس دنیا کی پہلی کوچ بن گئیں جن کی ہیڈکوچنگ میں امریکا نے دو بار ورلڈ ٹائٹل کیا- جل کی کو چنگ میں امریکا نے 2015 ٹائٹل حاصل کیا اور اس کے بعد 2019میں فرانس میں مسلسل ٹائٹل حاصل کیا- اس کے ساتھ ساتھ ٹورنامنٹ کے فائنل میں امریکا نے ہالینڈ کو شکست دیکر مسلسل 17میچوں میں ناقابل شکست رہنے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا- اس سے قبل جرمنی نے 2003 اور 2007میں مسلسل 11 میچوں ناقابل شکست رہنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا-ہالینڈ کی سب سے بڑی کامیابی سیمی فائنل میں سوئیڈن کے خلاف تھی- سوئیڈن کے کوارٹر فائنل میں دوبار کی عالمی چیمپئن جرمنی کو ہرا کر فیفا ویمنز ورلڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا-

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید