آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمّد ابراہیم خلیل

اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان کی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ جب جس کا دل چاہتا ہے، اسلام کا نام استعمال کر کے یہاں من مانیاں شروع کر دیتا ہے۔ ویسے مسندِ اقتدار پر براجمان ہونے والے ہر حاکم کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وطنِ عزیز کو امن کا گہوارہ بنائے اور عوام کو سہولتیں فراہم کرے ، مگر نہ جانے کیوں ہمارے حکمران اپنی اس خواہش کی تکمیل میں کام یاب نہیں ہو پاتے اور یہ بھی کس قدر حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اللہ رب العالمین پر کامل ایمان اوراللہ کے رسول ﷺسے بے انتہا عقیدت اورشدید محبت رکھنے کے باوجود بھی ہمارے لیے اسلامی ریاست یا ریاستِ مدینہ کی طرز پر ایک مثالی ریاست کا قیام آج بھی ایک خواب ہی ہے۔ ایک مثالی معاشرہ قائم کرنے کے لیےبنیادی ، لازمی شرط ہے کہ سب یکسوئی ، ایمان داری، محنت کے ساتھ مِل جُل کر کام کریں، بالخصوص حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اسلام اور اسلامی تعلیمات پر قائم ریاستِ مدینہ کا نام تو بہت لیتے ہیں اورپاکستان کو مثالی ریاست بنتا دیکھنا بھی چاہتے ہیں، لیکن سنّتِ محمّدیﷺ کی پیروی نہیں کرتے۔ جس راستے پر چلنے کے نتیجےمیں مدینہ میں ایک مثالی ریاست قائم ہوئی تھی، کیا ہم اُس راستے (طریقۂ محمدیﷺ) پرچل رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب یقینا ًنفی میں ہے، کیوں کہ ہمارے اور ریاستِ مدینہ قائم کرنے والوں کے کردار، نیت اور طریقۂ کار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ہم اللہ کو تو ایک مانتے ہیں، پر اللہ کی ایک نہیں مانتے۔ جس ریاست میں سود خوری عام ہو، غریبوں کا استحصال کیا جاتا ہو، عوام دن بہ دن منہگائی کے بوجھ تلے دبتے جارہے ہوں، ان کے لیے سہولتیں آسانیاں پیدا کرنے کی بہ جائے اُن پر’’بجلی، گیس اور ٹیکس بم ‘‘گرائے جا رہے ہوں، تو کیا وہاں مثالی ریاست کا قیام ممکن ہے؟جس معاشرے میں جھوٹ، مکرو فریب، جعل سازی، لڑائی جھگڑےاور فتنہ فسادجیسے ناسور سرایت کر چکے ہوں، وہاں ریاستِ مدینہ کا تصوّر بھی کیسے کیا جا سکتا ہے؟ذرا سوچیے کہ مدینے میں تو سب آپس میں مِل جُل کر اتحاد سے رہتے تھے اور ہمارا تو حال یہ ہے کہ سگے بھائی ذرا ذرا سی رنجشوں پر ایک دوسرے کا منہ نہیں دیکھتے، ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جاتے ہیں۔ ریاستِ مدینہ والے تو ایک دوسرے کے جان نثار تھے، جب کہ ہم ایک دوسرے کے لیےخون خوار ، کسی کی ٹانگ کھینچنے، ذلیل و خوار کرنے، لعن طعن کرنے یا مذاق اُڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ کتنے دُکھ کی بات ہے کہ ہمارے حکمران ( حکومتی، اپوزیشن اراکین) ایک دوسرے کے لیے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ یہ ایک مہذّب مُلک کے اسمبلی اراکین ہیں۔ جس مُلک کے سیاسی اور مذہبی قائدین کے باہمی تعلقات ، زبان، عمل ، رویّوں سے تہذیب ، شعور نہ جھلکتا ہو، اُس مُلک میں ریاست ِمدینہ جیسی عمل داری تو دُور کی بات،تصوّربھی انتہا درجے کی حماقت اور نادانی کے سواکچھ نہیں، کیوں کہ ریاست ِمدینہ درحقیقت مدینے میں بسنے والوں کے آپس میں قائم اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے سے قائم ہوئی تھی۔

پاکستانی سیاست کی بات کی جائے، تو 1970ء کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹّو کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی اور وہ مسندِ اقتدار پر بیٹھے، کیوں کہ وہ عوام کے بنیادی مسائل ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کی بات کرتے تھے، ان کے نعروں میں بڑے بڑے پلازوں، مالز یا پراجیکٹس کا نہیں بلکہ عوام کی ضروریات کا ذکر تھا، ذوالفقار علی بھٹّو نے عام آدمی کے روز مرّہ مسائل کی بات کی اور عوام نے انہیں منتخب کیا، بالکل اسی طرح عمران خان نے بھی موجودہ دَور میں عوام کو در پیش مسائل پر بات کی، انہیں حل کرنے کےوعدے کیے اور 2018ء کے عام انتخابات میں حکومت بنانے میں کام یاب رہے۔ دونوں انتخابات اس حقیقت کی واضح نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے اکثریتی عوام کو وہ نظام،سیاست دان اور سیاسی پارٹی پسند اور قابلِ قبول ہے ،جو انہیں در پیش حقیقی مسائل و مشکلات کے حل کی بات کرے۔ عوام ہر اُس شخص کا ساتھ دینے کو تیار ہوجاتے ہیں،جو اُن کے حقوق کی بات کرتا ہے، لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب کوئی عوام کی اُمّیدوں پر پورا نہیں اترتا، تو وہ اس کےمخالف ہونے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ عمران خان عوام کو در پیش مسائل کی صحیح نشان دہی کرنے میں تو کام یاب ہوئے ہیں۔ تاہم، انہیں یہ سمجھناچاہیے کہ ایک پُر امن اور خوش حال معاشرےکے قیام کے لیے معاشرے کے تمام افراد (بشمول سیاست دانوں)کا مِل جُل کر، اتحاد و یگانگت سے کام کرنابنیادی شرط ہے۔ پاکستان میں ریاست ِمدینہ کے طرز پر ایک مثالی ریاست قائم کرنے کے متمنّی وزیر اعظم اور دیگر تمام قائدینِ قوم پر یہ ذمّے داری عاید ہوتی ہے کہ سب سے پہلے وہ مُلک و قوم کے مفاد میںآپس کی تمام رنجشیں، اختلافات، ختم کرکے بھائی بھائی بن جائیں اور پھر سب مِل کراس مُلک و قوم کی ترقّی کے لیے کام کریںکہ یہی اتحاد درحقیقت پاکستان میں ریاست مدینہ جیسی ریاست قائم کرنے کی راہ ہم وار کرنے کاواحدآسان راستہ ہے ۔

اس بات میں دو رائےنہیں ہو سکتیں کہ کرپشن، کالے دھن کی وجہ سے مملکتِ پاکستان کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔قوم کی لُوٹی ہوئی دولت ہر حال میں واپس آنی چاہیےاوربد عنوانوں کا احتساب ہونا چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف بھی دیا جانا چاہیے، اُن سے کیے گئےوعدوں کو پورا کیا جانا چاہیے، منہگائی کی چکّی میں پسے عوام کا پیٹ باتوں اور وعدوں سےنہیں بھرے گا، لاکھوں بے روزگار نوجوان نوکریوں کے انتظار میں ہیں۔ اس مُلک کے عوام بالخصوص نسلِ نو سرزمینِ پاکستان کو مصوّرِ پاکستان علّامہ اقبالؒ کے خواب کی حقیقی تعبیر بنتادیکھنے کی خواہش مند ہے، شاید اسی لیے بار بار آزمائے گئے سیاست دانوں کو ووٹ دینے کی بہ جائے عمران خان کا ساتھ دیا ،تاکہ اس مُلک میں خوش حالی آئے، بے روزگاری کاخاتمہ ہو، معیاری و سستی تعلیم ہر کسی کی پہنچ میں ہو، وی آئی پی کلچر سے نجات ملے،منہگائی کے عفریت سے پیچھا چھُوٹے، لیکن فی الحال متذکرہ بالا کوئی ایک خواہش بھی پوری ہوتی نظر نہیں آرہی۔ البتہ، سیاسی قائدین کی تقلیدکرتے ہوئے ان کے پیروکارایک دوسرے کی جان کے دشمن ضروربن بیٹھے ہیں۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اگر ایک گھر میں دو بھائی ، دو الگ سیاسی جماعتوں کو پسند کرتے ہیں، تو صحت مندانہ بحث مباحثے کی بہ جائے، ذرا سے اختلاف پر ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتےاور انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ اس کے ذمّے دار ہمارے سیاسی قائدین ہیں۔ جب و ہی عدم برداشت کا مظاہرہ اور نا زیبا الفاظ کا استعمال کریں گے، تو ہم ان کی پیروی کرنے والے نا پختہ ذہن ، جوشیلے نوجوانوں سے کیسے اور کیوں کرصبرو برداشت کی اُمید رکھیں؟ حجۃ الوداع کے موقعے پر خطبے میں پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیش کردہ ’’عالمی منشورِانسانیت‘‘ میں شامل معافی و درگزرپر مبنی اہم نکات،مِن حیث القوم ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ سو،ریاستِ مدینہ کی طرز پر قائم معاشرے میں رہنے کے متمنّی افراد کا مزاج ، رویّے اور اعمال بھی ایسے ہی ہونے چاہئیں، تب ہی تو وہ اس معاشرے میں رہنے کے قابل کہلائیںگے۔