آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بات تو یہاں سے بھی شروع کی جا سکتی ہے ’’کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا،12آنے‘‘۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب روپیہ 16آنے کا تھا لیکن میں گہرے اندوہ میں ہوں۔ میری ماں میری ریاست پر قریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد ہو چکا ہے۔ اِن دنوں، جب ہم ایک ایک ڈالر جوڑ رہے ہیں کہ دنیا کا قرضہ اتار سکیں، غلط اقدامات حکمران طبقے کے لیکن زرِ تلافی ایک ایک پاکستانی کو دینا پڑے گا۔

عجیب ہیں میرے وہ ہم وطن جو اس جرمانے پر بھی بغلیں بجارہے ہیں حالانکہ 6ارب ڈالر میں سے کچھ ان کو بھی دینا ہے۔ ریکوڈک جو سونے کی کان ہے، جس میں ہمارے تمام مصائب کا مداوا ہے۔ جہاں بین الاقوامی کمپنی نے پورے دس سال کی کھدائی اور عرق ریزی کے بعد یہ نوید دی کہ یہاں 5.9ارب ٹن(کچ دھات) Oreموجود ہے۔ جس میں 41فیصد تانبا ہے اور اس میں 41ملین اونس سونے کے ذخائر بھی ہیں۔ جہاں بہت اعلیٰ قسم کا یورینیم بھی ہے۔

میں تو ریکوڈک کے بارے میں برسوں سے لکھ رہا ہوں۔ بلوچستان اس خطّے کا خوشحال مستقبل ہے۔ ہمیں یہاں رہنے والوں کو حقوق دینا چاہئیں، اُنہیں ایسی تعلیم اور تربیت دیں تاکہ وہ اپنے صدیوں سے انتظار کرتے پہاڑوں سے ہم کلام ہوں۔ ہتھیار لے کر پہاڑوں پر نہ چڑھیں بلکہ اوزار لے کر، معلومات لے کر اِن پہاڑوں کے سینے چیریں۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جو خزانے رکھے ہوئے ہیں انہیں نکالیں۔

ریکوڈک کی پہاڑیوں میں کسی زمانے میں یہاں لاوا پھوٹتا تھا اب یہ خاموش آتش فشاں اس ریاست کو سونا، تانبا اور بہت کچھ دے کر مالا مال کرنا چاہتا ہے۔ ٹی تھیان کمپنی نے 2001سے 2010کے طویل عرصے میں تلاش کے مراحل طے کیے تھے۔ وہ مطلوبہ دھاتیں نکالنے کا کام شروع کرنا چاہتی تھی۔ فروری 2011میں اس نے ریکوڈک کی لیز کے لئے درخواست دی۔ نومبر 2011میں بلوچستان حکومت نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ٹی تھیان نے عالمی ادارے میں پاکستان کے خلاف درخواست دائر کردی۔

ہماری عدالت عظمیٰ نے 7جنوری 2013کو کمپنی ٹی تھیان کے ساتھ معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔ کسی نے نہ سوچا کہ اس کے کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ٹی تھیان کوئی غریب مظلوم پاکستانی نہیں ہے جس کی داد فریاد کہیں نہیں سنی جاتی۔ عالمی بینک کے ٹریبونل نے پاکستان کے خلاف فیصلہ دیا۔ ریاست پاکستان کو قصور وار قرار دیا۔ یہ بات ہے 21مارچ 2017کی۔ لیکن 18جولائی 2017کو بلوچستان کی عظیم حکومت نے 11.5ارب ڈالر کے جرمانے کو مسترد کردیا۔ پاکستان نے ملکی غیر ملکی وکیلوں پر اربوں روپے خرچ کیے لیکن کسی فورم پر وہ متعلقہ اتھارٹی کو مطمئن نہیں کرسکے۔

وقت گزرتا رہا، قوم نے ریکوڈک کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھا، یہاں سے خوشیاں مل سکتی تھیں۔ ہمارے مسئلے حل ہو سکتے تھے۔ ہمارے سر پر جرمانے کی تلوار لٹک رہی تھی لیکن کسی اخبار نے خاص اشاعت پیش کی نہ کسی چینل نے کوئی ٹاک شو کیا۔ بلوچستان میں پی پی پی کی حکومت تھی جب ٹی تھیان سے تنازع شروع کیا گیا۔ ان سے پہلے وزیراعلیٰ بلوچستان جام یوسف کو تو ٹی تھیان والے چلی بھی لے گئے تھے اور تانبے سونے کی کان کنی کے عملی مظاہر بھی دکھائے تھے۔ جناب اسلم رئیسانی نے ٹی تھیان کی درخواست کیوں مسترد کی۔ کیا اس میں انہوں نے صدر آصف زرداری، وزیر اعظم گیلانی سے مشورہ کیا تھا۔ اس میں ٹیکنیکل اسباب تھے یا مالی معاملات ؟ کسی نے جائزہ نہیں لیا۔ اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت آگئی۔ انہوں نے بھی اس مسئلے کی سنگینی کا احساس نہیں کیا اور نہ یہ اہمیت دی کہ ٹی تھیان کمپنی سے ماورائے عدالت کچھ طے کرکے اس سونے کی کان سے سونا نکالنا شروع کیا جائے۔

سونے تانبے کے ذخائر اسی طرح انسانی ہاتھوں کے لمس کو ترس رہے ہیں۔ میری اور آپ کی ریاست پر ہزاروں ارب روپے کے قرضے چڑھے ہوئے ہیں۔ ایک کان جہاں سے کچھ بہت مدد مل سکتی تھی۔ اس کا منہ بند کردیا گیا اور بین الاقوامی قوانین اور اداروں کو بھی اپنے تابع خیال کیا گیا۔ عالمی بینک کے ادارے(ICSID) سرمایہ کاری کے تنازعات کا تصفیہ کرنے والے بین الاقوامی مرکز نے بالآخر ٹی تھیان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس میں 4.08ارب ڈالر جرمانہ ہے اور 1.87ارب ڈالر سود ہے۔ اس کے خلاف اپیل کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں اس بارے میں زیادہ تر نفی میں امکانات ہیں۔ اب ریاست پاکستان یہ جرمانہ کیسے ادا کرے گی؟۔

ہماری پارلیمنٹ کو جائزہ لینا چاہئے کہ ٹی تھیان کمپنی نے جو معاہدہ کیا تھا۔ جس میں 100میں سے 48ٹی تھیان کے اور 52حصّے پاکستان کے تھے۔ بلوچستان کے لئے الگ سے فیصد25 تھا۔ ٹی تھیان نے چاغی ایئرپورٹ بھی تعمیر کیا۔ کارکنوں کے لئے رہائشی سہولت اور انہوں نے ریکوڈک 2کی نشاندہی بھی کردی تھی۔ اس کام کے لئے بینکوں کے کنسورشیم سے 6بلین ڈالر کا اہتمام بھی کر لیا تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ روزانہ 110000ٹن کچ دھات نکلتی۔ جسے 680کلومیٹر پائپ لائن کے ذریعے گوادر بندرگاہ پر منتظر بحری جہاز میں لادا جاتا اور پھر کسی ریفائنری میں چھان کر سونا اور تانبا الگ کیا جاتا۔ پائپ لائن کی تعمیر سے یہ سارا علاقہ بھی آباد ہو جاتا۔ اندازہ یہ تھا کہ ہر سال دو لاکھ ٹن تانبا اور اڑھائی لاکھ اونس سونا برآمد ہوتا۔ یہ سلسلہ سالہا سال تک جاری رہتا۔

کتنے دُکھ کی بات ہے کہ قدرت نے ہمیں وسائل بخشے ہوئے ہیں لیکن ہم کفران نعمت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ہر کوئی عقل کُل بنا ہوا ہے۔ ریاست کے مفادات کو تباہ و برباد کررہا ہے۔ روزانہ بے مقصد بحثیں ہوتی ہیں۔ یہ جذبہ پیدا کرنے کی تحریک کوئی نہیں دیتا کہ ہم اپنے زرعی شعبے کو طاقتور بنائیں، اپنی معدنیات کو دریافت کریں، ریگ زار گیس، تیل لئے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ پہاڑوں میں قیمتی دھاتیں بھی ہیں، گرانقدر پتھر بھی۔ کتنے ہی ریکوڈک ہمارا مستقبل مستحکم کرنے کے لئے بے تاب ہیں ان کا راستہ روکنے والوں کو عبرت ناک مثال بنانا ضروری ہے۔