آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بلوچستان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ

بلوچستان سے سینیٹ کی تاریخ کے پہلے منتخب چیئرمین محمد صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک التوا لانے کے بعد سے جہاں ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے وہاں بلوچستان میں بھی اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کے خلاف تحریک التوا آنے کے بعد بلوچستان میں حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سمیت کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تاثر سامنے آیا کہ بلوچستان سے منتخب چیئرمین سینیٹ کو ہٹائے جانے سے بلوچستان کے احساس محرومی میں اضافہ ہوجائے گا اور بلوچستان کے عوام میں یہ تاثر ایک بار پھر گہرا ہوجائے گا کہ وفاق کی جمہوری جماعتیں بھی وفاق کی طرح بلوچستان کا احساس محرومی ختم نہیں کرنا چاہتی ہیں مگر اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے نیشنل پارٹی کے سابق سربراہ میر حاصل بزنجو کو سینیٹ کے نئے چیئرمین کے عہدئے کے لئے متفقہ طور پر امیدوار نامزد کیے جانے کے بعد محمد صادق سنجرانی کی حامی جماعتوں کی جانب سے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے بلوچستان کا احساس محرومی بڑھ جانے کا موقف کچھ کمزور پڑتا نظر آرہا ہے اوراب اس حوالے سے کچھ سخت موقف نظر نہیں آرہا جبکہ اس سے قبل بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا بیان سامنے آیا کہ محمد صادق سنجرانی کو ان کے عہدئے سے ہٹائے جانے سے صوبے کا نہیں بلکہ کچھ لوگوں کا احساس محرومی بڑھ جائے گا۔جبکہ گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں ایک تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ یا وزارت اعظمیٰ کا عہدہ ملنے سے بھی بلوچستان کا احساس محرومی ختم نہیں ہوگا بلکہ بلوچستان کے مسلے کو سنجیدگی سے لینے اور اس کو سیاسی انداز میں ھل کیے جانے تک بلوچستان کا احساس محرومی کا ختم ہونا ممکن نہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراختر مینگل جو گزشتہ دنوں کوئٹہ پہنچے تھے مختلف تقاریب سے خطاب میں ان لب ولہجہ ایک بار پھر سخت نظر آیاانہوں نے کہا کہ نہ جانے ہم اپنے عوام کاگلہ اورشکوہ کس تک پہنچائیں اس ملک میں اکثریت ان حکمرانوں کی ہے جو بالکل بہرے ہیں ان کو وہ آواز سنائی دیتی ہے جو ان کے اپنے مفادات کے دائرے میں گھومتی ہو،چاہے بیروزگاری کاعالم ہو،بھوک وافلاس ہو،قحط سے لوگ مررہے ہوں،ٹارگٹ کلنگ اوردھماکوں میں لوگ شہیدکئے جارہے ہوں،ان سب کا ان حکمرانوں کواحساس ہوتا ہے جوعوام سے ہوکرحکمرانی کی سطح تک آجائیں وہ لوگ جوآسمان سے پیراشوٹ کے ذریعے اتارئے جاتے ہیں انہیں اپنے پیراشوٹ کی فکرہوتی ہے یا یہ کہ زمین پر کسی نرم جگہ پرقدم جمائیں، بلوچستان کا70سالہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوپاراس کوپیچیدہ بنادیا گیا ہے۔دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے عہدئے کے لئے نامزد کیے جانے والے امیدوار میر حاصل خان بزنجو نے خود بھی یہ بات کہی ہے کہ جب تک بلوچستان کت فنڈز میں اضافہ نہیں کیا جاتا اور بلوچستان کے وسائل کو ٹھیک استعمال نہیں کیا جاتا اس وقت تک بلوچستان کا احساس محرومی کا خاتمہ ممکن نہیں چاہے اس کے لئے بلوچستان کو چیئرمین سینیٹ کی بجائے صدر مملکت کا عہدہ ہی کیوں نہ دیا جائے۔بلوچستان سے اس وقت سینیٹ میں ارکان کے حوالے سے صورتحال کچھ یوں ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی حامی صوبے میں حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان کی تعداد اگرچہ دو ہے لیکن اسے6آزاد سینیٹروں کی بھی حمایت حاصل ہے، جبکہ بلوچستان سے نیشنل پارٹی کے ارکان کی تعداد5، پشتونخوامیپ کے4، مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علما اسلام کے2,2اور بلوچستان نیشنل پارٹی کا ایک سینیٹر صوبے سے ایوان بالا کے رکن ہیں 22سینیٹروں مین سے ایک بڑی تعداد میں ووٹ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن اور پھر نئے چیئرمین کے لئے میر حاصل خان بزنجو کو ملنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور حکومت کے خلاف احتجاج کے حوالے سے بلوچستان مین بھی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے، اس سلسلے مین جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری ان دنوں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہورہے ہیں گزشتہ دنوں انہوں نے ایک بات چیت مین کہا کہ موجودہ حکومت نے ہمارے عقیدے اور ختم نبوت پر حملہ کیا ہے اگر ہم ختم نبوت پر بھی خاموش رہے تو پھر ہمارے ایمان پر شک ہوگا اس لئے موجودہ حکمرانوں کیخلاف ہم نے اعلان جنگ کیا ہے اور اس سلسلے میں 25جولائی کو پشاور میں کامیاب ملین مارچ ہوگا جبکہ کوئٹہ میں 28جولائی کو ایک کامیاب اور تاریخی ملین مارچ ہوگا حکمرانوں گھر بھیجنے کیلئے پشاور اور کوئٹہ ملین مارچ کے بعد اسلام آباد کی طرف رخ کریں گے اور کٹھ پتلی حکومت سے قوم کو نجات دلائیں گے ملین مارچ کو کامیاب طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے ہر کارکن کے گھر پر جا کر دستک دینگے انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو ملک بھر کی طرح بلوچستان اپوزیشن کی جانب سے کوئٹہ میں یوم سیاہ منایا جائے گا پاکستان اسلامی اور جمہوری ملک ہے یہاں اسلامی اور جمہوری اقدار کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں گیحکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ سے تاجر برادری سمیت پوری قوم متاثر ہے تاجر برادری کا استحصال کیا جارہا ہے تنخواہ دار طبقہ بھی پریشان ہے ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہو رہا ہے ایک سازش کے تحت معیشت کو داو پر لگانے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید