آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چنگلی میں"قبلائی ” کے مقام پر 3000سال پرانے آثار قدیمہ ‘توجہ کے منتظر

پشاور ( احتشام طورو ٗوقائع نگار ) بونیر کے گائو ں چنگلی میں ہزاروں سال پرانے زمانے کے آثار تاحال حکومت کی آنکھوں سے اوجھل ہیں بتایا جاتا ہے چنگلی میں ہزاروں سال پرانے زمانے کے آثار قدیمہ موجود ہیں، گاوں کا ٹوٹل رقبہ 8963 ایکڑ ہےبتایا جاتا ہے 327 قبل مسیح یہاں یونانی دور اور پھر اسکے بعد ہندو شاہی دور کے آثار بتائے جاتے ہیں اس آثار قدیمہ کے حوالے سے مختلف تاریخ دانوں نے بتایا ہے کہ یہ آثار 3000 سال پرانے بتائے جاتے ہیں یہ آثار قدیمہ گاوں چینگلئ کے مغرب کی طرف "قبلائی ” کے مقام پر موجود ہے جو ” بڑہ ” کے نام سے مشہورہے۔یہ آثار قدیمہ بہت دشوار گزار راستوں اور پہاڑ کے دامن میں واقع ہے، یہاں پر بڑے بڑے پتھروں سےبنی دیوار اب بھی اصلی حالت میں موجود ہے۔یہاں پر ہزاروں سال پرانا ایک "کنواں” بھی موجود ہے جسکی دیواریں بڑے بڑے پتھروں سے بنی ہیں اور یہ کنواں کئی فٹ گہرا ہے۔گاوں کے عمائدین کے مطابق اس آثار قدیمہ میں ایک سرنگ بھی موجودthi جو بہت زیادہ لمبا تھی ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ سرنگ زیادہ بارشوں کی وجہ سے ملبے میں دب گئی اور اب اس کی جگہ کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ اندازے کے مطابق یہ آثار قدیمہ "رانی گھٹ ” سے بھی زیادہ رقبے پر مشتمل ہے لیکن بدقسمتی سے اس آثار قدیمہ کو محفوظ کرنے کے لئے اب تک کسی قسم کا سروے

نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی نے اس طرف توجہ دی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا کو اس طرف توجہ دینے اور ان آثار کو محفوظ بنانے کےحوالے سے اقدامات اٹھانے چاہیے۔

پشاور سے مزید