آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابتدا دو بنیادی حقائق سے کرتے ہیں۔ حقیقت نمبر1: اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کبھی بھی کروڑ پتی نہیں بن سکتے تو پھر یقیناً آپ واقعی کبھی کروڑ پتی نہیں بن پائیں گے۔ حقیقت نمبر2: آپ کروڑ پتی بن سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے آپ کو اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔

کئی لوگ سوچتے ہیں کہ غالباً کچھ لوگوں کے پاس کروڑ پتی بننے کا فارمولا ہے، کاش کہ یہ سچ ہوتا۔ اگر ایک اوسط درجے کے شخص کو معلوم ہوجائے کہ ایک کروڑ پتی شخص کس طرح کروڑ پتی بنا ہے، تو یہ جان کر وہ نہ صرف حیران ہوگا، بلکہ شاید اسے کچھ مایوسی بھی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگوں نے کروڑ پتی افراد کے حوالے سے پہلے ہی کچھ فیصلہ کن خیالات مرتب کیے ہوئے ہوتے ہیں اور یہی خیالات انھیں کروڑ پتی بننے سے روکتے ہیں۔

جیف روز، فوربز کے لیے پرسنل فنانس کے موضوع پر لکھتے ہیں۔ وہ خود بھی ایک کروڑ پتی شخص ہیں او ر ایک طرح سے کروڑ پتی افراد پر اور کروڑ پتی بننے کے عمل پر مہارت رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عام لوگ، کروڑ پتی افراد کے بارے میں جو کچھ سوچتے ہیں اکثروہ وہمی باتیں یا فرضی قصے ہوتے ہیں۔ جیف روز کہتے ہیں کہ بچپن کے ابتدائی دنوں میں وہ بھی کروڑ پتی افراد کے بارے میں ایسے ہی سوچتے تھے۔ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے کے باعث وہ بھی سوچتے تھے کہ وہ کبھی کروڑ پتی نہیں بن سکتے۔ کروڑ پتی بننے کے لیے طور طریقوں میں تبدیلی لانے کے کارگر مشورے ذیل میں بتائے جارہے ہیں۔

دُرست ذہنیت

کروڑ پتی بننے کے لیے دُرست ذہنیت اور بلند ارادوں کا ہونا ضروری ہے۔ جیف روز کہتے ہیں کہ مجھے کروڑ پتی بننے میں کئی سال لگے، تاہم میں کبھی بھی کروڑ پتی نہ بن پاتا اگر میں اپنی سوچ کو نہ بدلتا۔ اگر آپ بھی کروڑ پتی بننا چاہتے ہیں (جوکہ آپ بن سکتے ہیں) تو اس کے لیے آپ کو اپنی ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے۔

کروڑ پتی بننا قسمت کا کھیل نہیں

جب ایک شخص کروڑ پتی بن جاتا ہے اور اس کے امیر بننے کی وجہ خاندانی وراثت نہیں ہوتی تو ہم میں سے اکثرلوگ اسے خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کروڑ پتی بننا قسمت کا کھیل ہے تو پھر آپ کبھی بھی کروڑ پتی یا ارب پتی نہیں بن سکتے۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں، دنیا کے کچھ ارب پتی افراد کی زندگیوں پر کہ کیا ان کے ارب پتی بننے میں قسمت کا عمل دخل تھایا نھیں۔

  • کیا یہ وارن بفیٹ کی صرف خوش قسمتی تھی کہ انھوں نے سرمایہ کاری کے درجنوں بہترین اور ذہانت مندانہ فیصلے کیے، جن کے باعث وہ دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہوگئے؟
  • کیا یہ بل گیٹس کی محض خوش قسمتی تھی کہ انھوں نے مائیکروسافٹ کے آئیڈیا کو عملی جامہ پہنایا اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہوگئے؟
  • موجودہ وقت میں دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوز کو کیا قسمت نے ایمازون لانچ کرنے کا کہا، جو بعد میں دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی بن گئی؟

دنیا کے ان تینوں امیر ترین افراد کی زندگیوں پر نظر دوڑانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تینوں میں کچھ کام کرنے کی صلاحیت تھی۔ ان کے پاس یہ کام کرنے کے لیے تھوڑا بہت سرمایہ بھی تھا، ان کے ذہن میں ایک پراڈکٹ بھی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے پاس ایک واضح بزنس پلان تھا، جو چند ہی برسوں میں ان کے لیے بے مثال کامیابیاں لے کر آیا۔

وراثتی حصے پر نظریں مت جمائیں

یہ حقیقت ہے کہ کچھ ارب پتی افراد کومال و دولت ورثے میں ملی ہے۔ دنیا میں کینیڈی خاندان، شاہی خاندان جبکہ پاکستان میں بھی ایسے کئی خاندان ہیں، جن کے بچے آج اس لیے کروڑ پتی ہیں کیونکہ انھیں اپنے آباؤ اجداد سے دولت وراثت میں ملی ہے۔ تاہم ایسے لوگوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ فائیڈیلیٹی انویسٹ منٹس کی 2018ء میں جاری ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، دنیا میں 81فی صد افراد اپنے بل بوتے پر کروڑ پتی بنے ہیں۔ اس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہوا کہ ہر پانچ کروڑ پتی افراد میں بمشکل ایک فرد کو اتنی بڑی جائیداد ورثے میں ملی ہے جبکہ دیگر نے اپنی صلاحیتوں اور محنت کے ذریعے اتنی دولت بنائی ہے۔ دنیا کے اکثر امیر افراد کا تعلق چھوٹے گھرانوں سے رہا ہے، ان میں سے کئی افراد نے دہائیوں کی ان تھک محنت کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے۔

سرمایہ کاری میں ذہانت کا استعمال

کہتے ہیں کہ جتنی پُرخطر سرمایہ کاری ہوگی، منافع بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ لیکن دنیا کے امیر ترین افراد کی زندگیوں پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سچ نہیں ہے۔ جی ہاں، اگر آپ نے کروڑ پتی بننے کا ارادہ کرلیا ہے تو آپ کو کچھ ایسی سرمایہ کاری کرنا پڑے گی، جس میں تھوڑا بہت خطرے کا عنصر موجود ہو، تاہم ایسے میں آپ کو اس کے فائدے اور نقصان کا پہلے سے حساب کتاب کرنا ہوگا۔ کامیاب افراد اندھی سرمایہ کاری میں پیسے ڈال کر کروڑ پتی بننے کے خواب نہیں دیکھتے۔ وہ کوئی بھی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے بہت ہی باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وارن بفیٹ کی ایک کہاوت بہت اہمیت رکھتی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں، ’’ایک چیز جو آپ کے لیے اہمیت کی حامل ہے، اسے کسی ایسی چیز کے لیے خطرے میں نہ ڈالیں، جو آپ کے لیے اہم نہیں ہے‘‘۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ نے پُرخطر سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے ہیں تو پہلے چند مرحلوں میں چھوٹی چھوٹی رقوم کی قربانی دیں، تاکہ آپ کے خاندان یا خود آپ کا مالیاتی مستقبل خطرے میں نہ پڑجائے۔

اعلیٰ تعلیم کی اہمیت

یہ ایک حقیقت ہے کہ جابز مارکیٹ میں عمومی طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، کم تعلیم رکھنے والے افراد کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ تاہم، اگر آپ انٹرپرینیور ہیں تو پھر ’کالج ایجوکیشن‘ یا ’نو کالج ایجوکیشن‘ آپ کو کروڑ پتی بننے سے نہیں روک سکتی۔ فوربز میں شامل 400ارب پتی افراد میں سے 15فی صد کالج ڈگری نہیں رکھتے۔

کتابیں پڑھیں

دنیا کے ارب پتی افراد کی کتابیں پڑھیں کہ وہ اس مقام پر کیسے پہنچے ہیں۔ امیر بننے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ کو یقین ہو کہ آپ امیر بن سکتے ہیں اور پھر امیر بننے کے منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی اب تک کی اس ذہنیت کو بدلنا ہوگا، جو آپ کے کروڑ پتی بننے کی راہ میں رکاوٹ بنتی آئی ہے، اس کے علاوہ اہداف کا تعین کرنا اور ایکشن میں آنا ہوگا۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ پیسہ آپ کا پیچھا کررہا ہوگا۔

تعلیم سے مزید