آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

72سال میں 5 امریکی صدور نے فوجی دورمیں ہی پاکستان کا دورہ کیا

لاہور(صابرشاہ)پاکستانی حکمرانوں کےبرعکس جو 1947 سے امریکا کے تقریباً42بار دورے کرچکے ہیں، گزشتہ 72سالوں میں صرف 5امریکی صدور نے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کا دورہ کیا،اس کامطلب ہے کہ وائٹ ہائوس میں آنے والوں کو پاکستان کےدورہ کی منصوبہ بندی کرنے کیلئے 14 سال لگتےہیں۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ یہ بات پاکستانیوں کےنوٹس میں ضرورآئی ہوگی کہ وہ تمام پانچ جمہوریت نوازامریکی صدورپاکستان کےفوجی حکمرانوں کےمہمان بنے۔ یہ حقیقت کہ امریکی سربراہانِ ریاست صرف اس وقت ہی آتے ہیں جب پاکستانی جنرل اقتدارمیں ہوتے ہیں لہذا اس سے پتہ لگتاہے کہ واشنگٹن ڈی سی اس وقت تعلقات کو بہترکرتاہے جب یہ اس کے اپنے مفاد میں ہو، اور صرف اس وقت جب وہ جانتے ہیں کہ اس کے نتائج مضبوط اور مثبت ہوں گے۔ اوراس خطے میں ملٹری ڈکٹیٹرزنے اکثراچھے نتائج دیے ہیں، چاہے وہ امریکا کی سپورٹ میں ہوں جب 1979میں جنرل ضیاءالحق کےوقت میں افغانستان میں ان کی سوویت جارحیت کوروکنےکی خواہش تھی اوریاجنرل مشرف کےدورمیں جب وہ 9/11کےبعدکی صورتحال میں

پاکستانی مددچاہتےتھے۔ پانچ امریکی صدور میں ڈوائٹ آئزن ہاور پہلے امریکی صدرتھے جنھوں نے 1959میں پاکستان کا دورہ کیا۔ کراچی(اس وقت کےپاکستانی دارالحکومت میں)میں آئزن ہاورکےقافلےکو دیکھنے والوں کاسمندرامڈ آیاتھا، وہ ایک شیڈکےنیچےکھڑے مسکراتےہوئےنظرآئے۔ ان کےساتھ ان کے پاکستانی میزبان جنرل ایوب خان تھے۔ صدرایوب خان سےملنےلینڈن جانسن 23دسمبر1967کو کراچی آئے۔ یہ امرقابلِ ذکرہےکہ پاکستان دورے کے دوران جانسن 1961میں کراچی کےایک اونٹ گاڑی کےڈرائیورکے دوست بن گئے۔اس وقت لینڈن جانسن امریکا کےنائب صدرتھے اور وہ صدرکینیڈی کی جگہ پر پاکستان کےخیرسگالی دورہ پرتھے۔ جب انھوں نے کراچی میں ایک آدمی کو اونٹ کے ساتھ کھڑے دیکھاجو نائب صدرکے قافلے کی جانب ہاتھ ہلا رہاتھا، تو جانسن نے مبینہ طورپر پاکستانی حکومت کے ایک اہلکار سے کہاکہ اس اونٹ والے آدمی سے تعارف کرایا جائے، اس کا نام ’بشیرسربن‘ تھا۔ اونٹ گاڑی والاشخص امریکا کے نائب صدرکے ساتھ ہاتھ ملانے کیلئے پُرجوش تھا۔ جس طرح کی انگریزی بھی ہو جانتا تھااس نے اپنا تعارف کرایا۔ جانسن نے اسےوائٹ ہائوس اور ٹیکساس میں فارم ہائوس آنے کی دعوت دی۔ ٹائمز میگیزن نے لکھا،چند ماہ بعد بطورامریکی حکومت کے مہمان بشیر سربن جانسن سے ملنے چلے گئے۔ اسے نیویارک ائیرپورٹ پر خوشی چہکتے ہوئے دیکھاگیا۔ بشیرسربن کو وائٹ ہائوس، کیپٹل ہِل اور دیگر یادگاری مقامات کادورہ کرایاگیا۔ وہ ٹیکساس میں جانسن کے فارم ہائوس بھی گیا جہاں اس نے جانسن کے ٹرک پر سواری بھی کی اور اسے شاندار کھانا پیش کیاگیا۔ جانسن کی مہمان نوازی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ جب بشیر سربن واپس کراچی آیا تو امریکی حکومت نے اس کیلئےعمرےکیلئے مکہ جانے کے انتظامات کیے۔ لہذا امریکا نے دل جیتنے کیلئے کئی کام کیے تھے۔ 1962میں امریکی خاتونِ اول جیکلین کینیڈی کو بھی اسی پاکستانی جنرل، جو اقتدارمیں تھے، کے ساتھ کراچی کی گلیوں میں سفرکرتےدیکھاگیا۔ لہذا ایوب خان اپنے دورِ اقتدارمیں دو امریکی صدور اور ایک خاتونِ اول سے یہاں ملے۔ 1969میں یکم اور دو اگست کو رچرڈ نکسن پاکستانی صدر یحیٰ خان سے ملنےلاہورآئے۔ 25مارچ 2000کو بل کلنٹن اس وقت کے پاکستانی صدر رفیق تارڑ اورآرمی چیف جنرل پرویز مشرف سےملنےپاکستان آئے۔ کلنٹن نےاپنےدورےکےدوران صرف ایک ریڈیوخطاب کیاتھا۔ 3سے4مارچ 2006کوجارج ڈبلیوبُش پاکستان دورے پر آئے اور جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی، اس کےعلاوہ اس وقت کے پاکستانی کرکٹڑزانضمام الحق اورسلمان بٹ کےساتھ کرکٹ بھی کھیلی۔ تاہم مختلف امریکی صدوربشمول ہیری ٹرومین (1945-1953تک حکمران رہے)،جمی کارٹر(1977-1981 تک حکمران رہے)،رونلڈ ریگن(1981-89 تک حکمران رہے)، جارج بش سینئر(1983-93 تک حکمران رہے)، باراک اوباما(2009-17 تک حکمران رہے)، انھوں نے اپنے دورِاقتدارکےدوران پاکستان کادورہ نہیں کیا۔ بہرحال موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاتاحال پاکستان آناباقی ہے۔ 27جنوری 2005کو امریکا کے’’این پی آرریڈیو‘‘نےرپورٹ کیا:’’صدراوباما نے اپنا دورہ بھارت مکمل کرلیاجس سےپاکستانیوں کواپنی وزٹرزبُک کوناراضگی سےبندکرنےکاپیغام گیا۔ یہاں پریشانی یہ ہے کہ اوباما نے نئی دہلی کا دوبار دورہ کیا لیکن پاکستان کو نظرانداز کردیا۔‘‘

ملک بھر سے سے مزید