آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختون خوا کے قبائلی اضلاع میں انتخابات کے موقع پر زبردست گہما گہمی نظر آ رہی ہے، حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے ہر عمر کے افراد پیش پیش ہیں۔

صوبے میں ضم ہونے کے بعد قبائلی علاقوں کی تاریخ میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہونے کی وجہ سے قبائلی عوام بڑے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں اور ووٹ ڈالنے کے لیے آ رہے ہیں۔

شمالی و جنوبی وزیرستان، کرم، اورکزئی، باجوڑ، خیبر، مہمند اور سابقہ ایف آر کے علاقوں میں شہری بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہے ہیں۔

نوجوان، بزرگ، خواتین، معذور، ہر عمر کے افراد اپنا حقِ رائےدہی استعمال کرنے کے لیے صبح سویرے ہی پولنگ اسٹیشنز جا پہنچے، پولنگ اسٹیشنز کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

ووٹرز نے کڑی دھوپ میں کھلے آسمان تلے لائنوں میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کیا۔

انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لینے کے لیے خواتین بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں۔

خواتین نے کہیں پولنگ افسر کا فرض نبھایا تو کہیں روایتی پردے میں نمائندوں کے انتخاب کے لیے میدان میں نکل آئیں۔

خصوصی افراد اور بزرگ بھی قومی فریضے کی ادائیگی میں بھرپور شرکت کرتے نظر آئے، کوئی بیساکھی کے سہارے تو کوئی وہیل چیئر پر پہنچا اور اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

کئی علاقوں میں ووٹرز کی بڑی تعداد قومی پرچم اٹھائے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کرتی نظر آئی۔

پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جہاں پولیس اور آرمی کے جوان تعینات ہیں۔

1897 پولنگ اسٹیشنز کے باہر پاک فوج کے جوان تعینات ہیں جبکہ 554 حساس پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر بھی پاک فوج کے جوان تعینات ہیں۔

خیبر پختون خوا میں ضم ہونے والے 7 اضلاع کی 16 صوبائی نشستوں پر مجموعی طور پر 28 لاکھ، ایک ہزار 834 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کے لیے خیبر پختون خوا اسمبلی کی 16 نشستوں پر قبائلی عوام اپنے ووٹوں سے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں، انتخابات میں مجموعی طور پر 281 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جن میں 202 آزاد امیدوار شامل ہیں۔

حکومتی جماعت تحریکِ انصاف نے تمام 16 حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں، جمعیت علمائے اسلام ف کے 15، اے این پی کے 14، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے 13-13 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

مسلم لیگ نون نے 5 اور قومی وطن پارٹی نے 3 امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں۔

صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں کی تفصیلات کچھ اس طرح ہے۔

ضلع باجوڑ میں صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں پی کے 100، 101 اور 102 ہیں، جہاں مجموعی طور پر 5 لاکھ 34 ہزار 3 رائے دہندگان ہیں۔

ضلع مہمند میں صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں، پی کے 103 اور 104 ہیں، جہاں 2 لاکھ 80 ہزار 499 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

ضلع خیبر میں پی کے 105، 106 اور 107 پر مجموعی طور پر 5 لاکھ 32 ہزار 87 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

ضلع کرم میں خیبر پختون خوا اسمبلی کی 2 نشستوں پی کے 108 اور 109 ہیں، جہاں مجموعی طور پر 3 لاکھ 60 ہزار 741 رائے دہندگان اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔

ضلع اورکزئی میں صوبائی اسمبلی کی ایک ہی نشست پی کے 110 ہے، جس پر ایک لاکھ 96 ہزار 436 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

ضلع شمالی وزیرستان میں پی کے 111 اور 112 پر 3 لاکھ 20 ہزار 177 ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

ضلع جنوبی وزیرستان میں خیبر پختون خوا اسمبلی کی 2 نشستوں پی کے 113 اور 114 پر 3 لاکھ 86 ہزار 829 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

پی کے 115 سابقہ ایف آر کی نشست ایف آر بنوں، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان، ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر پشاور اور ایف آر ٹانک پر مشتمل ہے، جہاں مجموعی طور پر ایک لاکھ 91 ہزار 62 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

قبائلی اضلاع میں کُل 28 لاکھ، ایک ہزار 834 ووٹرز میں سے مرد ووٹرز کی تعداد 16 لاکھ 71 ہزار 305 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار 529 ہے۔

عوام کی سہولت کے لیے 1896 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، جن میں 482 پولنگ اسٹیشن مردوں اور 376 خواتین کے لیے مخصوص ہیں جبکہ 1038 مشترکہ پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔

صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں دو خواتین امیدوار بھی میدان میں ہیں، جن میں پی کے 106 سے عوامی نیشنل پارٹی کی امیدوار ناہید آفریدی اور پی کے 108 کرم پر جماعت اسلامی کی ملاسہ بی بی قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔

سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر پی کے 101 باجوڑ سے اور سابق سینیٹر و رکنِ قومی اسمبلی حمید اللّٰہ جان آفریدی پی کے 107 خیبر سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید