آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’دو بچوں کا بہیمانہ قتل‘‘ عوام کے احتجاج کے بعد پولیس کارروائیوں کا آغاز

بچے گھروں کی رونق ، ماں باپ کی امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہوتے ہیں لیکن معاشرے میں بڑھتے تشدد کے رجحانات‘ دولت کی ہوس اور جنسی درندوں کی بھوک نے ماں باپ کی نیندیں حرام کردی ہیں۔گزشتہ دنوں حیدرآباد میں دو کمسن بہن بھائیوں کے اغوا اور بعد ازاں بہیمانہ قتل نے شہریوں کو دہلاکر رکھ دیا ہے۔ سیاسی و سماجی تنظیموں‘ شہریوں اور سوشل میڈیا کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد آئی جی سندھ سید کلیم امام نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

جی او آر کالونی کے علاقے بابن شاہ کے رہائشی دو کمسن بچے 8 سالہ قادر بخش اور 12 سالہ رخسانہ عرف رکی بنت انتظار حسین سیال 8 جولائی کی شام 6 بجے گھر سے برف لینے نکلے تھے جس کےلاپتہ ہوگئے‘ بچوں کے کئی گھنٹے تک واپس نہ آنے پر والدین نے ان کی تلاش شروع کی تھی لیکن 11 بجے تک بچے نہیں ملے۔ اسی دوران ایئر پورٹ پولیس پوسٹ کے علاقے کوہسار سے پولیس کو زخمی حالت میں ایک بچہ ملا تھا جسے چھریوں کے وار کرکے زخمی کیا گیا تھا۔ پولیس نے زخمی بچے کو فوری طور پراپنی تحویل میں لے کرپہلے بھٹائی اسپتال منتقل کیا، بعدازاں حالت تشویش ناک ہونے پر اسے سول اسپتال لایا گیا۔ حیدرآباد پولیس نے بچے کے ورثاء کی تلاش شروع کی تو پتہ چلا کہ جی او آر تھانے کی حدود سے دو بچے گم ہیں۔ اس پر جی او آر پولیس کے اہل کار سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے زخمی بچے کی تصویر سمیت گمشدہ بچوں کے والد انتظار حسین کے پاس پہنچے اور اس سے اس کے دونوں بچوں کے بارے میں دریافت کیا۔ انتظار کا کہنا تھا کہ بچے محلے میں ہی کہیں ہوں گے، آجائیں گے۔ پولیس نے اس دوران زخمی بچے کی تصویر اسے دکھائی تو اس نے اسے اپنے آٹھ سالہ بیٹے قادر بخش کی حیثیت سے شناخت کرلیا جس پر پولیس نے اسے فوری طور سول اسپتال پہنچنے کا کہا۔ انتظار حسین پڑوسیوں کے ہمراہ فوراً سول اسپتال پہنچا جہاں اس کے بیٹے کو طبی امداد دی جارہی تھی۔ کچھ دیر بعد شدید زخمی ہونے والےبچے، آٹھ سالہ قادر بخش ہوش میں آیا تو والد کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ بہن کے ہمراہ برف لینے جارہا تھا کہ راستے میں علاقے کا رہائشی عثمان بنگالی عرف مرغی والا اسے ملا اور چیز دلانے کا لالچ اور گھمانے کے بہانے دونوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا لیا اور مختلف علاقوں میں گھومتا رہا۔ کوہسار کے علاقے میں اس نے مجھے گاڑی سے اترنے کے لئے کہا اور کہا کہ وہ چیز لے کر آرہا ہے تم یہیں رکو۔ میں نے انکار کیا تو مجھے دھکا دیکر گرادیا اور چھریوں کے وار کرکے مجھے زخمی کردیا اور بہن کو لے کر فرار ہوگیا۔ قادر بخش جس کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی، جب اس سے بہن کے بارے میں پوچھا گیاتو اس نے اپنے والد سے کہا کہ بہن رخسانہ کو عثمان نہ جانے کہاں لے گیا ہے ، اسے بچالوورنہ وہ اسے بھی مار دے گا۔اپنے باپ سے گفتگو کے دوران اس کی حالت دوبارہ بگڑ گئی جس پر اسے تشویش ناک حالت میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کردیا گیا، لیکن وہ جان بر نہ ہوسکا اور دوسرے روز زخموں کی تاب نہ لاکرجاں بحق ہوگیا۔ بیٹے کی ہلاکت پر مزدوری کرنے والا انتظار حسین ہوش و حواس کھوبیٹھا۔ سول اسپتال کے میڈیکو لیگل کے ڈاکٹروں کے مطابق آٹھ سالہ قادر بخش کو پیٹ میں چھریوں کے دو سے تین وار کرکے شدید زخمی کیا گیا تھا جس کے باعث اس کی ہلاکت ہوئی ہے۔پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس نے آٹھ سالہ کمسن قادر بخش کی لاش والد انتظار حسین کے حوالے کی جس کی بابن شاہ کالونی میں تدفین کی گئی۔

کمسن بچے کی ہلاکت اور اس کی بہن کی گمشدگی پر شہر کی سیاسی و سماجی تنظیموں‘ سوشل میڈیا اور شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد جی او آر تھانے میں آٹھ سالہ قادر بخش کے قتل اور رخسانہ عرف رکی کے اغوا کا مقدمہ انتظار حسین کی مدعیت میں عثمان بنگالی کے خلاف درج کیا گیا۔ بچے کی ہلاکت کے بعد علاقہ مکینوں نے عثمان بنگالی اور اس کے دوست ساجد نوحانی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا تھا لیکن دو دن تک پولیس ملزمان کی گرفتاری سے انکار کرتی رہی۔ تفتیش کے نام پر دونوں ملزمان کو سی آئی اے سینٹر بھی منتقل کردیا گیا لیکن 12 سالہ رخسانہ کو پولیس بازیاب نہ کراسکی اور نہ ہی گرفتار ملزمان سے یہ معلوم کرسکی کہ مغوی بچی کہاں ہے۔ میڈیا کے رابطوں پر پولیس نے چپ کا روزہ رکھا ہوا تھا اور کوئی افسر یا تھانہ ملزمان سے تفتیش کی تفصیلات بتانے سے گریز کررہا تھا۔ اسی دوران 10 جولائی کی شب بی سیکشن تھانے کی حدود لطیف آباد نمبر 10 بسمہ اللہ سٹی کے زیر تعمیر مکان نمبر 91 سے ایک کمسن بچی کی لاش ملی۔ علاقہ مکینوں کی اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش تحویل میں لےلی اور فوری طور پر انتظار حسین اور اس کی بیوی و گھرکے دیگر افراد کو اس کی اطلاع دی گئی کہ وہ بچی کی لاش کو شناخت کرلیں۔ اس پر انتظار حسین گھر والوں کے ساتھ سول اسپتال پہنچا تو اس نے کمسن لڑکی کی لاش دیکھ کر کپڑوں کی مدد سے اسے اپنی بیٹی کے طور پر شناخت کرلیا۔ بیٹے کے بعد بیٹی کی ہلاکت پر انتظار حسین کی ذہنی حالت خراب ہوگئی اور اسے دیوانگی کے دورے پڑنے لگےجب کہ اس کی بیوی شدت غم سے بے ہوش ہوگئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق کمسن رخسانہ کو درندہ صفت قاتلوں نے اجتماعی زیادتی کے بعد چھریوں کے وار کرکے زخمی کیا اور بعد ازاں گلا گھونٹ کر قتل کردیا اور لاش زیر تعمیر مکان میں پھینک کر فرار ہوگئے۔ دونوں بچوں کی ہلاکت پر شہری اور سماجی تنظیمیں،سول سوسائٹی اور انسانیت کا درد رکھنے والے افراد نے اسے ایک الم ناک واقعہ قرار دیتے ہوئے پولیس کی نااہلی اور ناقص کارکردگی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ کمسن بچی کی لاش جو رات گئے سول اسپتال لائی گئی تھی دوسرے دن 11 جولائی کی شام چار بجے پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کی گئی۔ بچی کی لاش گھرپہنچنےپر علاقے میں کہرام مچ گیا اور جی او آر کالونی کے مکین‘ شہر کی سماجی تنظیموں کے افراد بچی کے والد انتظار حسین کے ہم راہ لاش اٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے اور ’’حیدرآباد کے بچوں کو تحفظ دو‘‘ کے نعرے لکھے ہوئے بینر اٹھا کرکینٹ شاپنگ سینٹر روڈ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کے باہر اور بعد ازاں حیدرآباد پریس کلب پر درندگی کا شکار بننے والی رخسانہ کی لاش کے ہمراہ احتجاج اور مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر غم سے نڈھال انتظار حسین نے بتایا کہ پولیس دونوں بچوں کے قتل کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے نہ تو کچھ بتا رہی ہے اور نہ ہی کوئی افسر ان کی داد رسی کے لئے رابطہ کررہا ہے۔ مظاہرین نے بچوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ڈی ایس پی کینٹ حبیب علی شاہ پریس کلب پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کے بعد انہیں کیس کی تفتیش کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرنے اور ہر ممکن مدد و تعاون کی یقین دہانی کرائی جس پر ورثاء نے احتجاج ختم کردیا اور بعد نماز مغرب بابن شاہ کالونی میں کمسن رخسانہ کو نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کردیا گیا جس میں شہریوں‘ سماجی و سیاسی رہنمائوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کمسن رخسانہ کی لاش کی برآمدگی کے بعد پہلی مرتبہ ایس ایس پی حیدرآباد نے اعتراف کیا کہ ایک ملزم عثمان بنگالی پولیس کی تحویل میں ہے جس سے تفتیش جارہی ہے تاہم انہوں نے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

ایک ہی گھر کے دو کمسن بچوں کی الم ناک ہلاکت کے واقعے پر شدید عوامی ردعمل کے بعد آئی جی سندھ سید کلیم امام نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد ریجن ڈاکٹر غلام سرور جمالی سے اس دوہرے قتل کی واردات پر رپورٹ طلب کی۔ آئی جی کے حکم پر ڈاکٹر غلام سرور جمالی ڈی آئی جی حیدرآباد محمد نعیم شیخ کے ہمراہ جی او آر کالونی میں انتظار حسین کے گھر پہنچے اور مقتول بچوں کی ہلاکت پر ان کے والدین سے اظہار تعزیت اور دعائے مغفرت کے بعد انہیں انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کم سن بچوں کے قتل کو افسوس ناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جرم میں ملوث ملزمان کو ہر صورت مں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کی مالی مدد کے لئے حکومت سندھ سے سفارش کی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ دوہرے قتل کی اس سنگین واردات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی اور کیس انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کو بھیجا جائے گا تاکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش جاری ہے‘ 24 گھنٹے میں میڈیا کو اس سلسلے میں بریفنگ دی جائے گی۔ تاہم دوہرے قتل کے مقدمہ میں گرفتار ملزمان کو 4 روز گزرنے کے باوجود نہ تو کسی عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور نہ سرکاری طور پر گرفتاری ظاہر کی گئی تھی۔ واردات کے بعد حیدرآباد میں خوف ہراس کی لہر پھیلی ہوئی ہے اور کمسن بچوں کے والدین اس واقعہ کے بعد اپنے بچوں کو باہر بھیجنے سے خوفزدہ ہیں۔ 

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید