آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عدلیہ کی سربراہی کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلے دن سے نظامِ انصاف کی اصلاح و بہتری کے لئے کوشاں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے گزشتہ روز کراچی میں پولیس اصلاحات سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ فراہمی انصاف کے لئے محض عدلیہ کی آزادی کافی نہیں، مقدمات کی معیاری تفتیش کی خاطر پولیس کی خود مختاری کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ جھوٹی گواہی اور التوا کے حربوں کو اُنہوں نے فوجداری نظام کے بنیادی مسائل قرار دے کر ہمارے عدالتی نظام کے ان بنیادی نقائص کی نشان دہی کی جن کے باعث سائل کو بسا اوقات انصاف نہیں ملتا یا اس عمل میں اتنی تاخیر ہو جاتی ہے کہ ناانصافی کا ازالہ اس کے لئے بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پولیس کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے چیف جسٹس نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ خود مختار پولیس ہی معاشرے کی بہتری کے لئے کام کرسکتی ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ ایسی پولیس جو مقتدر حلقوں اور بااثر افراد کے دباؤ کے تحت کام کرتی ہو وہ اپنے فرائض منصبی انجام دینے کے بجائے اُن ہی کے مفادات کی تکمیل پر مجبور ہوتی ہے۔ ہم آج تک اس صورتحال کو تبدیل نہیں کر سکے لہٰذا کم از کم اب ہمارے پالیسی سازوں کو معاشرے کی اِس ناگزیر ضرورت کو پورا کرنے پر توجہ دینا چاہئے۔ تفتیش کی خامیوں کے حوالے سے چیف جسٹس

کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملزم بری ہوتا ہے یا اس کی ضمانت ہوتی ہے تو ان مقدمات پر تحقیق ہونی چاہئے یعنی تفتیش کرنے والوں کو دیکھنا چاہئے کہ وہ عدالت کو مطمئن کرنے میں کیوں ناکام رہے۔ چیف جسٹس کے بقول عدالتی فیصلوں میں بتادیا جاتا ہے کہ پولیس کے تفتیشی ثبوت قابلِ اعتماد کیوں نہیں سمجھے گئے جس کے بعد اس عمل کے ذمہ داروں کو اپنے طریق کار کی خامیوں کا احساس ہوجانا چاہئے لیکن چیف جسٹس کے مطابق ایسا ہوتا نہیں جو تمام متعلقہ ذمہ داروں کے لئے نہایت قابلِ توجہ بات ہے۔ ’’تفتیشی طریق کار کو معتبر کیسے بنایا جائے؟‘‘ نظامِ انصاف کی اصلاح کے اس بنیادی سوال کے جواب میں چیف جسٹس نے سامعین کو عدلیہ کے تجویز کردہ اقدامات سے آگاہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لئے تفتیشی کمیٹی میں کم از کم ایک ریٹائرڈ سیشن جج کو شامل کیا جائے جو پولیس کے کام اور فوجداری مقدمات کے بارے میں علم رکھتا ہو۔ اِس تجویز کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ان کمیٹیوں میں نوجوان وکلا کو شریک کیا جائے جو ان مقدمات کی تفتیش میں دلچسپی رکھتے ہوں جس کے بعد ضلعی پولیس کی ذمہ داری ہو کہ اس رپورٹ اور وجوہات کو تمام پولیس افسران تک پہنچائے جو تفتیش کے لئے مختص ہیں۔ اِن تجاویز کی اہمیت و افادیت بخوبی واضح ہے لہٰذا انہیں جلد ازجلد عملی جامہ پہنایا جانا چاہئے۔ جھوٹی گواہی اور تاخیری حربوں کے مسائل سے نمٹنے کے ضمن میں چیف جسٹس نے بتایا کہ ہم ججوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں قوانین اور پروسیجر میں تبدیلی کی ضرورت نہیں، ہمیں نئی عدالتوں، نئے ججوں اور نئے وکلا کی ضرورت نہیں، ہم اِس نظام میں رہتے ہوئے چیزوں کو درست کر سکتے ہیں۔ انہوں نے صراحت کی کہ عدالتوں میں جھوٹی گواہی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور مقدمات میں التواء نہیں ہونے دیا جائے گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’’التواء اسی صورت میں ممکن ہے کہ وکیل فوت ہو جائے یا جج صاحب رحلت فرما جائیں‘‘۔ نظامِ عدل کی بہتری کے لئے عدلیہ کی یہ کاوشیں یقیناً نہایت مستحسن ہیں تاہم پولیس کی خودمختاری اور نظام تفتیش کی اصلاح سے متعلق عدلیہ کی تجاویز پر عمل درآمد کے لئے حکومت اور پارلیمنٹ کا تعاون ضروری ہے۔ عدلیہ کو اس ضمن میں جس صورتحال کا سامنا رہا ہے اُس کا اندازہ کچھ دن پہلے کیے گئے چیف جسٹس کے اس شکوے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں‘‘۔ وقت کا تقاضا ہے کہ انتظامیہ اور مقننہ، عدلیہ کی اس شکایت کا بلاتاخیر ازالہ کریں تاکہ ہر سائل کو بے لاگ اور فوری انصاف کی مل سکے کیونکہ اس کے بغیر کوئی معاشرہ زیادہ دیر سلامت نہیں رہ سکتا۔