آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جمہوریت کےپھول قبائلی علاقوں کے سنگلاخ پہاڑوں پر کھل اٹھے ہیں ۔تالیاں بجاتے ہوئے لوگ تھک نہیں رہے ۔ کہیں جیت کی تالیاں ہیں تو کہیں جذباتی تقریر یں تالیوں کے شور میں پھڑ پھڑا رہی ہیں۔ جمہوریت کی دستک پہلی بار پہاڑوں کے دروا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔پہلی بار بلندیوں پر رہنے والوں نے ووٹ کے حق کو استعمال کیا ہے ،انہیں خبر ہوئی ہے کہ وہ بھی حکومت سازی کا حصہ ہیں ۔اس کام میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دلچسپی بہت زیادہ تھی ۔قبائلی زندگی سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ ان کی والدہ نارتھ وزیرستان کی برقی فیملی سے تھیں ۔ننھیال سے ان کا لگائو بھی بہت رہاہے ۔افغان وار میں بھی ان کی یہی خواہش تھی کہ جنگ نہ ہو۔ امریکی ڈرون حملوں کے خلاف بھی انہوں نے آواز بلند کی ۔نیٹو کی سپلائی بھی کئی ماہ تک روکے رکھی ۔فاٹا کے لوگوں کو ووٹ کا حق دلانے کےلئے آئینی ترمیم میں بھی بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا اور جب اختیارات کی منتقلی کا وقت آیا تو اپنے معاون خصوصی افتخار درانی کو خصوصی طور پر اسلام آباد سے پشاور بھیجا جہاں انہوں نے کئی مہینے لگا کر اپنے زیر نگرانی تمام پراسز مکمل کرایا۔وفاق اور صوبے کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ وہاں عمران خان کے جلسے کرائے۔وہ کام جو ستر سال سے ادھورا پڑا تھا ، پورا کیا۔وفاق سے اختیارات صوبے کو منتقل ہوئے ۔ صوبے سے ضلعی انتظامیہ تک پہنچے۔ کچہریاں وجود میں آئیں ۔ عدالتیں بنائی گئیں ۔پولیس کا نظام متعارف ہوا۔32 ہزار لیویز کوٹریننگ دے کر پولیس میں بدلا گیا۔کمشنر،ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر، تحصلیدار اور پٹواری سے اُس زمین نے پہلا مکالمہ کیا۔ جیسے ہی نئے نظام سےقبائلی عوام نے پہلی گفتگو کی انتخابات کی چکاچوند نے آنکھوں کو خیرہ کردیا۔جلسے ہوئے ۔ کارنر میٹنگز ہوئیں ۔جلوس نکلے ۔ خواتین گھروں سے نکلیں ،حقوق کی بات کی ۔سیکڑوں سال پرانے زمانے کو ایک اجنبی ماحول نے اپنی گرفت میں لے لیا۔یہ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اس صدیوں تک برقرار رہنے والی تبدیلی کے پس منظر میں ان کا چہرہ فروزاں ہے ۔یقیناً صدیوں تک چمکتا اور دمکتا رہے گا ۔

مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں کہ کون جیتا ،کون ہارا۔میرا مسئلہ تو صرف روشنی کی وہ کرن ہے جوفاٹا کےبلند و بالا پہاڑوں پر پہلی بار طلوع ہوئی ۔ خالی سلیٹ پرجو کچھ لکھا گیا وہ چمک دمک رہا ہے ۔مجھے توقع ہے کہ فاٹا کے علاقوں سے سچی قیادت نمودار ہو گی ۔پاکستان میں قیادت کا قحط الرجال پڑا ہوا ہے ۔نون لیگ اور پیپلز پارٹی آپ کے سامنے ہیں۔ پی ٹی آئی میں بھی عمران خان کے علاوہ کوئی اور دکھائی نہیں دیتا ۔افسوس کہ ہم نے برسوں سے وہ دروازہ بند کر رکھا ہے جہاں سے نئی قیادت طلوع ہوتی ہے۔نئی قیادت کے وجود میں آنے کےلئے پہلی نرسری اسٹوڈنٹ یونین ہوا کرتی ہے جس پر سالہاسال سے پابندی ہے۔دوسری نرسری بلدیاتی نظام ہے جسے ہر سیاسی حکومت نے تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے تو جو کچھ کیا ہے بلدیاتی نظام کےساتھ وہ سب کے سامنے ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت سے بہتری کی توقع ہے مگر ابھی تک عمران خان اس کی طرف متوجہ نہیں ہورہے ۔

جمہوری عمل کو ہر میدان میں صرف ذاتی مفادات کےلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی ہر فیصلے کے پس منظر میں نواز شریف اور آصف زرداری کی کرپشن چھپا تی دکھائی دیتی ہے انہیں جیلوں سے رہا کرانے کی تگ و دو میں ہے۔بلدیاتی نظام سے بھی اسی لئے یہ پارٹیاں دور بھاگتی ہیں کہ کہیں ایسے لوگوں کو سامنے آنے کا موقع نہ مل جائے جو مریم نواز اور بلاول بھٹو سے پوچھنے لگ جائیں کہ آپ کو کونسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ پارٹی لیڈر آپ نے ہی ہونا ہے ۔

سینٹ کے چیئرمین کے خلاف جو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے ۔اس کامقصد بھی یہی تھا کہ کسی طرح کوئی ایسا چیئرمین لایا جائے جو نواز شریف اور آصف زرداری کی کرپشن کے کیسز میں مددگار ثابت ہو ۔ قصہ کوئی چار ماہ پرانا ہے ایک دن آصف علی زرداری اسمبلی میں شہباز شریف کے دفتر میں تشریف لے گئے اور کہا کہ اگر آپ لوگ تیار ہوں تو ہم سینٹ کا چیئرمین بدل لیتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا ’’میں نواز شریف سے بات کرکے اس بات کا جواب دے سکتا ہوں ۔اس کے ساتھ ہی شہباز شریف نےچیئرمین سینٹ کو پیغام بھجوا دیا کہ آپ کے خلاف کچھ کرنا میرے لئے ریڈ لائن عبور کرنا ہے ۔ جب آصف علی زرداری نے دیکھا کہ شہباز شریف کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو انہوں نے حاصل بزنجو سے بات کی ۔ حاصل بزنجو جا کر نواز شریف سے ملے ۔ نواز شریف نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں آپ زرداری صاحب سے کہہ دیں کہ اگر وہ آپ کو چیئرمین بنانے پر تیار ہیں تو نون لیگ آپ کا ساتھ دے گی مگر بدقسمتی سےحاصل بزنجو انہی دنوں بیمار ہو گئے ۔تین ماہ تک بیمار پڑے رہے۔ جب صحت مند ہوئے تو دوبارہ نواز شریف سے رابطہ کیا اور تحریک عدم اعتماد جمع کرا ئی گئی ۔حاصل برنجو ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے خلاف نون لیگ کے اپنے سینیٹرز ہیں ۔ مشاہد اللہ خان کسی طرح بھی حاصل بزنجو کے چیئرمین بننے پر راضی نہیں ۔ اس وقت کی صورت حال یہ ہے 37ووٹ چیئرمین سینٹ کے پاس اپنے ہیں ۔ بیس ووٹ وہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔ ان کے خلاف جو تحریک عدم اعتماد ہے وہ 57 ووٹوں کے ساتھ ناکام ہوگی ۔فاٹا کے تمام سینیٹر بھی چیئرمین سینٹ کے ساتھ ہیں ۔ گزشتہ رات سینیٹر احمد خان سے ایک تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں کچھ اور سینیٹرز بھی موجود تھے ۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری بھی تھے ۔ہارون الرشید اور مظہر برلاس بھی تھے اور اسی بات پر غور کرتے رہے کہ اب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت کیا کرے گی ۔