آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کل 22جولائی کو، اپنے شہرہ آفاق طنطنے اور چونکا دینے والے سیاسی ابلاغ کے حامل امریکی صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ اور ہمارے خود اعتمادی سے بھرے پریشر فری وزیراعظم جناب عمران خان کی ملاقات ٹھہری ہے۔ خان صاحب کے اتحادی اور کابینہ کے بااعتماد چلبلے وزیر شیخ رشید تو پہلے ہی کہہ چکے کہ ’’دونوں ایک سے ہیں، اللہ خیر کرے‘‘۔ بین الاقوامی تعلقات میں دلچسپی رکھنے والے بھی اس ملاقات کے حوالے سے کچھ ایسی ہی جملہ بازی کررہے ہیں۔ گمان غالب ہے کہ بہت احتیاط سے اور نپی تلی سفارتی انداز کی گفتگو کے عادی دونوں طرف کے سفارتکاروں کے دل دھڑک رہے ہوں گے کہ نہ جانے ہمارا لیڈر اس ملاقات میں کوئی بے وقت کا چوکا چھکا مارنے کے چکر میں گیم ہی نہ خراب کر دے کہ ایجنڈے خصوصاً امریکی اور پاکستان کی موجودہ صورتحال میں ہماری کسی سفارتی کوشش کے بغیر خود امریکی صدر کی دعوت پر ہونے والی یہ ملاقات، دونوں ملکوں کے لئے اک بڑا سفارتی چیلنج ہے۔ عالمی اور اندرونی سیاست و حکومت کے حوالے سے ٹرمپ صاحب اچانک کچھ نہ کچھ ایسے لوڈڈ الفاظ یا جملے بول جاتے ہیں کہ اسے ان لوڈ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں وہ اپنے معمولی سے اور مختصر ترین بیان بازی پر بھی پورا میڈیا اپنی طرف لگا لیتے ہیں اور ردِعمل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس پر ڈٹ جاتے ہیں، ادھر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ سو یقین ہے بہتر دو طرفہ تعلقات کے لئے دونوں طرف کے پاپڑ بیلنے والے سفارتکار بھی شیخ رشید ہی کی طرح فکر مند ہوں گے کہ ان کے لئے ایسی ملاقاتوں کو اپنے اپنے حوالے سے بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا بڑا سفارتی چیلنج ہوتا ہے۔

محتاط اندازہ یہی ہے کہ دونوں بےنیاز، بےباک اور اپنے موقف کے کامل درست ہونے کا یقین رکھنے والے پاکستان اور امریکہ کے انوکھے قائدین مطلوب بہتر دو طرفہ تعلقات کے لئے بہت کچھ بہتر ہی کریں گے یا اس کے برعکس قومی ضرورتوں پر شخصیت کا رنگ غالب آنے پر تعلقات کی نوعیت مزید پیچیدہ بھی ہو سکتی ہے۔ روایتی سی اور درمیانی راہ پکڑنے کے امکانات کم ہی معلوم دیتے ہیں، تاہم اسلام آباد کے لئے ٹرمپ، عمران ہونے والی ملاقات اس اعتبار سے زیادہ سازگار ضرور ہے کہ پاکستان ٹرمپ سے بھی پہلے دونوں اوباما انتظامیہ میں ہی امریکہ پر اپنی ضرورتوں کے انحصار کو کم کرتا کرتا مکمل مایوس ہو چکا ہے۔ اب تو یہ مایوسی، بے نیازی اور متبادل کی تلاش میں تبدیل ہوئے بھی کافی عرصہ گزر گیا اور یہ متبادل اس کی تلاش سے زیادہ خود پاکستان کی دوستی، تجدید تعلقات اور باہمی تعاون برائے مشترکہ مفادات میں پاکستان کے قریب ہوگئے اور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان کی امریکہ سے امیدیں ختم ہو چکیں، واشنگٹن نے بھی ایک عرصے تک پریشر سے پاکستان کے 100ملین ڈالر کے خسارے اور 80ہزار جانوں کی قربانی کے بعد بھی اپنی امیدوں کے برآنے کی امیدیں لگائی رکھیں جو پوری نہ ہوئیں۔ پاکستان پر جتنی دہشت گردی افغانستان سے ہوئی، اس سے بےنیاز ہو کر امریکہ نے پاکستان کے لئے فقط اپنی پالیسی’’ڈومور‘‘ ہی تک محدود رکھی، حالانکہ پاکستان نے وہ کچھ بھی کیا جو کرانے کے لئے چار سال تک امریکہ پاکستان پر مسلسل دبائو ڈالتا رہا لیکن شمالی وزیرستان میں ملٹری آپریشن اس طرح اور اس وقت نہیں ہو سکتا تھا جب اور جیسے امریکہ اس کے لئے بیتاب تھا۔ وقت آنے پر اور حالات بڑے خطرے کے ساتھ قدرے سازگار ہونے پر پاکستان نے امریکی دبائو میں کمی ہونے کے بعد جب دہشت گردی کے ٹھکانے ختم کرنے کے لئے از خود آپریشن کیا تو ایسا کیا جو خود امریکہ اور نیٹو اتحادی افغانستان میں نہ کرسکے۔

وزیراعظم عمران خان پاکستان کے وہ سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے کھل کھلا کر قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں سے بےگناہ انسانی جانوں کی ہلاکت کی مخالفت اور اس پر احتجاج کیا۔ آج وہ ملک کے منتخب وزیراعظم ہیں تو شمالی وزیرستان پاکستان کے مین سٹریم میں شامل ہو چکا ہے اور وہاں عام انتخابات ہوئے چاہتے ہیں۔ صرف یہی نہیں اپنی سرزمین پر پرخطر لیکن ماہرانہ عسکری اقدامات سے اور افغانستان میں اپنے اثر کو ذہانت سے استعمال کرتے ہوئے، دہشت گردی کے خلاف اپنے اتحادیوں کے لئے بھی ان کے قومی مفادات کے حصول کی راہ نکالی۔ بلاشبہ امریکہ اور اس کے سب اتحادی دہشت گردی سے جو خطرہ محسوس کرتے ہیں، امریکہ کے تمام اچھے اور مخلص دوستوں کو اس کی بیخ کنی میں امریکہ سے تعاون ہی کرنا چاہئے لیکن ایسے نہیں جیسے امریکہ ہرحال میں چاہتا ہے بلکہ ایسے جیسے پاکستان نے افغان سرزمین سے اپنی سلامتی پر ہونے والی مسلسل بھارتی دہشت گردی کے دروان بھی اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے انتہائی پُرخطر ٹھکانوں کو ختم کر کے، امریکہ کی افغانستان میں جائز ضرورتیں پوری کرنے میں مسلسل مدد کی جو طالبان سے کامیاب اور نتیجہ خیز ہوتے مذاکرات کی شکل میں امریکہ اور ساری دنیا نے دیکھیں، اگر اس میں بھی افغانستان میں گھسائے گئے بھارت کا کوئی مصنوعی رول مسلط کیا جاتا تو کیا دوہا مذاکرات ہو جاتے؟ کامیاب ہونا تو ایک طرف یہ ہوتے ہی نام۔ کلبھوشن کیس پر عالمی عدالتی فیصلے بھارت کی دہشت گردی کو مکمل بےنقاب نہیں کیا۔

دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی علاقائی سیاست کے منظر پر نئے اور سازگار حقائق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب امریکہ کے متبادل کی جانب بہت دور نکل گیا ہے تو امریکہ نے اپنے دیر آید کو خود درست آید بنانا ہے جو کہ بن تو سکتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ بہرحال ایک دوسرے کی بڑی ضرورت رہے ہیں اور رہیں گے لیکن اس کے لئے ہر دو کو نئے زمانے کی نئی (تلخ ہی سہی) حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔ واشنگٹن کے پالیسی سازوں نے اس امر کا حقیقت پسندانہ اور وسیع تر جائزہ لینا ہے کہ امریکہ نے جنوبی ایشیاء اور مغربی ایشیاء میں جو پالیسیاں اختیار کیں۔ اس میں وہ ایران، پاکستان، ترکی میں اپنے روایتی اثر کو کھو بیٹھا۔ افغانستان میں اس کی مزید موجودگی محال ہے۔ تمام لینڈ لاکڈ سینٹرل ایشین اسٹیٹس علاقہ تا علاقہ رابطوں میں اپنا مستقبل تلاش کررہی ہیں۔ امریکہ نے پاکستان جیسے قابل قدر اتحادی سے ریمنڈ ڈیوس اور عافیہ صدیقی جیسے مسائل اور بحثیں پیدا کرکے اور بھارت کے افغانستان سے دہشت گردی کے آپریشنز پر چپ سادھ کر خطے نہیں خطوں سے کتنا دور کرلیا۔ دیکھنا ہے کہ اب ٹرمپ عمران ملاقاتیں، اس کے مداوے میں کیا رنگ دکھا سکتی ہیں۔ پلوں کے نیچے سے پانی تو بہت بہہ گیا اور بہے جارہا ہے۔