آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم عمران خان ایک سال میں ہوم گرائونڈ میں کافی تجربات حاصل کر چکے ہیںزلمے خلیل زاد جو امریکی سینیٹر ہیں عمران خان سے ملاقات کر کے اپنی رپورٹ امریکی پالیسی سازوں اور وائٹ ہائو س کو دے چکے ہیں ۔آرمی چیف اور عمران خان کا نیشنل ایکشن پروگرام پر عمل درآمد ،سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں چین کا بڑھتا ہوااثر و رسوخ،امریکہ ایران تنازع ،پا کستان کا روس کے قریب آنا،امریکی افواج کا افغانستان سے انخلااور افغانستان میں نئے سیٹ اپ کی تشکیل ایسے موضوعات ہیں جن کی وجہ سے امریکی پالیسی سازوں کو پاکستان کی یاد ستا رہی ہے ۔ماضی کے بر عکس موجودہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ مختلف نوعیت کا ہوگاکیونکہ اس وقت پاکستان میں سول ملٹری تعلقات نہایت ہی سازگار ہیں ،خارجہ اور داخلہ پالیسی مل کر آگے بڑھائی جارہی ہے۔ واشنگٹن میں اگر عمران خان ایک طرف کھیلیں گے تو دوسری طرف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود ہو نگے ۔پائیدار افغانستان کے قیام امن کے لئے پاکستان اور امریکہ مل کر کام کر رہے ہیں۔پاکستان کی فضائی حدود بھی بھارت کے لئے کھول دی گئی ہے ۔اب صرف یہ عمران خان پرمنحصر ہے کہ وہ امریکہ سے کیا لےکر آتے ہیں ۔اس وقت نواز شریف فیملی نے بھی اپنے ہم خیالوں اور لابسٹوں کو متحرک کر دیا ہے ،جبکہ بلاول بھٹو بھی اس وقت امریکہ میں موجود ہیں۔عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد ایک سال میں ملک میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ تعلقات استوار کر لئے ہیں۔یہ ان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے کہ پاکستان کے تعلقات قطر،متحدہ عرب امارات،ایران اور خصوصاََ سعودی عرب کے ساتھ نہ صرف دوستانہ ہیں بلکہ سوائے ایران کے باقی دیگر ممالک نے معاشی بحران سے نکلنے کے لئے پاکستان کو خطیر رقم بیل آئوٹ پیکیج کے طور پر دی۔

گزشتہ برس جب عمران خان وزیراعظم بنے تھے تو چند صحافیوں نے ان سے ان کے آفس میں ملاقات کی۔ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ یو این جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے جائیں گے تو وزیر اعظم نے فوراجواب دیا تھا کہ نہیں ،جب صحافی نے دوبارہ اصرار کیا کہ آپ کو جانا چاہئے تو عمران خان نے جواب دیا تھا کہ میں وہاں جاکر کیا کروں گا ،پاکستان کو میرے جانے سے کیا فائدہ ہوگا۔ وہاں صرف تقریر ہی تو کرنی ہے اس کے لئے وزیر خارجہ ہی کافی ہیں ،ایک تقریر کے لئے اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔صحافی نے وزیر اعظم صاحب کو فائدے بتاتے ہوئے کہا کہ وہاں آپ کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہوسکتی ہے آپ کو جانا چاہئے تو اس وقت وزیر اعظم نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ بہتر ہے کہ میں نہ جائوں کیونکہ اگر ٹرمپ نے وہاں کچھ ایسا ویسا کہہ دیا تو پھر میں بھی چپ رہ نہیں سکوں گااور اگر کچھ کہہ دوںگا تو وہاں کچھ نہ کچھ بن جائے گا اس لئے رہنے دیں ۔اب جبکہ وزیر اعظم امریکہ جا رہے ہیں تو ان کو چاہئے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے الفاظ کو استعمال کریں۔ پاکستان کی نادر شاہی نے ہمیشہ امریکہ کے تعلقات میں اسی کے مفاد کو فوقیت دی ہے مگر وفاداری کے باوجودامریکہ نے ہر اس وقت جب پاکستان کو مدد کی ضرورت پڑی کوئی مدد نہیں کی ۔1965میں بھی امریکہ نے امداد کی فراہمی روک دی تھی اور 1971میں جب بھارتی افواج بین الاقوامی سرحدوں کی خلا ف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدوں میں داخل ہوگئی تھیں اس وقت بھی امریکہ نے بھارتی افواج کو پاکستان میں داخل ہونے سے نہیں روکا جبکہ عالمی سطح پر یہ بہت بڑا جرم تھا مگر امریکہ نے نہ پاکستان کی مدد کی اور نہ ہی پاکستان کو اقوام متحدہ یا عالمی عدالت میں جانے دیا ۔اس وقت وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے پہلے ٹرمپ اور مودی کی خوشنودی کے لئے 3بڑے اقدامات کئے گئےہیں ،عمران خان امریکہ معاشی اقتصادی مشن پر جا رہے ہیں اور ساتھ ہی افغانستان کے سیاسی مسئلے کے حل پر بات کریں گے ۔دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان پر امن پڑوسی کی پالیسی پر بات کرے گا ۔میرے خیا ل میں وزیراعظم کو امریکہ کو پاک بھارت تعلقات میں ثالث بنانے کے لئے کسی قسم کا کردار ادا کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے ۔موجودہ حکومت جن سہاروں یا بیساکھیوں پر چل رہی ہے وہ امریکی ساختہ ہیں اور وہ امریکہ کا ہر حکم آنکھ بند کر کے مانتے ہیں اگر حکومت پاکستان امریکی دبائو میں نہ آتی تو اس کو کوئی اقتصادی مشکل پیش نہ آتی ان کے پاس دلائل بھی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک کے مفادات کو پیش نظر رکھے بغیر پاکستان کی فضائی حدودبھارتی کمرشل طیاروں کی آمد ورفت کے لئے کھول دی گئی ہے ۔

عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ میں فرد کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔امریکی انتظامیہ اور عوام دوسرے ملکوں کو اسی معیار پر جانچتے اور درجہ بندی کرتے ہیں اسے بد قسمتی کہا جا سکتا ہے کہ خان صاحب کی کابینہ میں ایسے افراد غیر معمولی اثر ورسوخ کے حامل ہیں اور آمرانہ سوچ رکھتے ہیں اور عجیب حرکتیں کرتے رہتے ہیں ،جیساکہ ایک بیان میں نے اخبار میں پڑھا کہ میں تمہاری ٹانگیں توڑ دونگا کوئی ہڈی سالم نہیں رہے گی غائب کرادوں گا اور جسم تمہارے گھر کے باہر پھینک دیا جائے گا ۔اسی طرح ایک اہم حکومتی عہدیدار نے اسپیشل فورس بنانے کی تجویز دی ہے لہذا وزیر اعظم صاحب کو انہیں فوری طور پر شٹ اپ کال دینی ہوگی۔ امریکی دورے میں وزیر اعظم عمران خان کوقادیانی لابی سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جس نے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے ملاقات کر کے اپنے مکروہ عزائم سے گمراہ کیا ہے کہ پاکستان میں ان پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔