آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان کا دورئہ امریکہ ایک ایسے مرحلے پر ہو رہا ہے، جب امریکہ کو ہمارے خطے میں بہت بڑے چیلنج درپیش ہیں اور وہ ان سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو اپنے ساتھ بہت زیادہ Engageکرنے کی کوشش کرے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ کی یہ خواہش ہو گی کہ ہمارے خطے میں ’’امریکی مفادات کو خطرات‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان پہلے کی طرح فرنٹ لائن اسٹیٹ والا کردار ادا کرے۔ وزیراعظم عمران خان کے لئے اس دورے میں اچھے مواقع بھی ہیں اور آزمائشیں بھی۔

آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وزیراعظم عمران خان کی ملاقات ہو رہی ہے، جو پاک امریکہ تعلقات کی نئی جہت متعین کرے گی۔ صدر ٹرمپ کے دور میں یہ تعلقات تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ہی وزیراعظم عمران خان کو دورے کی دعوت دی ہے، اگرچہ ایک ملاقات میں امریکی ایجنڈے اور مائنڈ سیٹ کو بدلنا ممکن نہیں لیکن اس ملاقات میں سفارتی مہارت، گفتگو میں الفاظ کا چناؤ اور ایک لیڈر کی حیثیت سے برتاؤ کا بہت اثر ہوگا۔ تمام حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ دورہ کامیاب رہے گا یا نہیں؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے پاک امریکہ تعلقات کے پس منظر میں موجود امریکی مفادات اور اس دورے میں پاکستانی اہداف کا مختصر جائرہ لینا ضروری ہے۔ 20ویں صدی کے اوائل میں اس خطے میں برطانوی نو آبادیاتی تسلط کے خاتمے اور آزادی کے بعد پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے امریکی دورے کے بعد امریکی اثر و رسوخ بڑھتا گیا اور ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے یہاں امریکی مفاد پیدا ہوگیا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد اس مفاد کے خدوخال واضح ہو گئے تھے۔ سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان نے ساؤتھ ایسٹ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو) اور سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) کا ممبر بن کر اس خطے میں امریکی مفادات میں اسکا ساتھ دیا۔ پاکستان نے افغانستان میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی افواج کی مہم جوئی میں بھی نہ چاہتے ہوئے وہ کردار ادا کیا، جو امریکہ چاہتا تھا۔ ابھی تک پاکستان اسی میں پھنسا ہوا ہے۔آج کے حالات کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امریکہ کے اس خطے میں پہلی دفعہ پاؤں اکھڑ گئے ہیں۔ ایشیائی معاشی طاقتیں ابھرتی رہی ہیں اور وہ نہ صرف اس خطے بلکہ عالمی سطح پر اپنا کردار متعین کر رہی ہیں۔ چین، روس، ایران اور پاکستان کا طاقتور بلاک بننے جا رہا ہے۔ بھارت کو علاقائی صف بندی میں بڑی اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ سی پیک علاقائی اور عالمی معیشت کی تنظیم نو اور سیاسی صف بندی کر رہا ہے۔ امریکہ کے لئے اس خطے میں یہ بات انتہائی پریشان کن ہے۔ وہ شاید اس خطے میں نئی مہم جوئی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اس مرتبہ ایک عرب ملک میں اپنی افواج اتار رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان اس کے لئے بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

اس مختصر تاریخی پس منظر میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ کس قدر کامیاب ہو سکتا ہے۔ امریکہ یہی مطالبہ کرے گا کہ پاکستان افغانستان میں ’’قیام امن‘‘ کے لئے مزید کردار ادا کرے اور خطے میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے مزید اقدامات کرے۔ پاکستان پہلے کی طرح اس خطے میں امریکی مفادات کی حفاظت کے لئے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار برقرار رکھے یعنی اس خطے کے تیل و گیس سمیت دیگر وسائل پر قبضے کی جنگ میں کھل کر امریکہ کا ساتھ دے۔ یہ مطالبات منوانے کے لئے امریکہ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کو استعمال کرے گا۔ صدر ٹرمپ کی آج کی ملاقات سے پہلے وزیراعظم عمران خان عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ آرمیلپس اور آئی ایم ایف کے سربراہ ڈیوڈ پسٹن سے ملاقات کر چکے ہوں گے۔ امریکہ پاکستان کے معاشی بحران کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔ امریکہ پاکستان کی سیاسی پولرائزیشن کا کارڈ بھی استعمال کرے گا اور یہ شاید عندیہ دیا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ امریکہ اپنے معاملات طے کر سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورے کی کامیابی یہ ہو گی کہ وہ افغانستان میں اپنے موجودہ کردار اور دہشت گردی کے خلاف اپنے اقدامات سے امریکی قیادت کو مطمئن کر سکیں۔ ایران امریکہ کشیدگی یا سعودیہ ایران کشیدگی میں پاکستان کے متوازن کردار کا تحفظ کر سکیں اور کوئی ایسی کمٹمنٹ نہ کریں، جو پاکستان کے لئے مسائل کا باعث بنے یا پاکستان کو کسی اور دلدل میں دھکیل دے۔ اس کے ساتھ امریکہ کے ساتھ معاشی اور دفاعی تعاون کے معاہدوں کو زیادہ سے زیادہ پاکستان کے حق میں کرا سکیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو وزیراعظم عمران خان کا دورہ کامیاب قرار پائے گا۔ اس وقت دورے کی کامیابی کے حالات بھی ہیں۔ ہمارے خطے کے حالات ایسے بن گئے ہیں کہ پاکستان کو بہت زیادہ مواقع حاصل ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے امریکہ پاکستان کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ ’’اگر ہماری بات نہ مانی تو پتھر کے دورمیں واپس بھیج دیں گے‘‘۔ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ پہلی مرتبہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی دورے پر گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ وائٹ ہاوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے وقت بھی موجود ہوں گے۔ اس سے امریکی قیادت پر واضح ہو گیا ہے کہ سول اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو اس دورے سے یہ بہترین موقع ملا ہے کہ وہ پاکستان اور اپنی حکومت کے لئے کچھ اچھے حالات پیدا کر سکیں۔ اس دورے کی کامیابی کے اثرات کو برقرار رکھنے کے لئے انہیں اپنے گھر یعنی پاکستان کے داخلی معاملات کو بہتر بنانے کے لئے شاید نیا وژن ملے گا۔ معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن سے نہیں، اپنے حالات کے مطابق ٹھیک کرنا ہوگا اور سیاسی تصادم سے ملک کو بچانا ہوگا۔