آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میں نے کیوں کتاب لکھی’’داعش- آئی ایس آئی ایس؛ رائزنگ مونسٹر ورلڈ وائیڈ‘‘

میں نےدنیا کوخبردارکرنےکیلئےداعش پرایک کتاب لکھنےکافیصلہ کیاکہ یہ کیسے طالبان اورالقاعدہ سےبھی زیادہ خطرناک اورمہلک بن کرابھری ہے۔ افغانستان اورباقی خطےمیں داعش کی موجودگی پوری دنیاکیلئےخطرہ ہےکیونکہ یہ خطرناک گروپ ایک منصوبہ بندی کےتحت القاعدہ اور طالبان کی جگہ لےرہاہے۔ میں پہلاشخص تھاجس نےطالبان کوانسانیت کےخلاف جرائم پر ظالمان کانام دیا۔ داعش طالبان سے بھی زیادہ بری ہے جو داعش ازم کےطورپراب ایک نیا نظریہ لانے کی کوشش کررہے ہیں جو اسلام مخالف ہے۔ بطور وزیرداخلہ میں نے اِن دہشتگردوں کوقریب سے دیکھاہےاوران کےحقیقی عزائم کوسمجھا ہے اور ان کی حرکات اور آپریشنز کے طریقہ کار کاپتہ لگایاہے۔ القاعدہ اورداعش،حسنی مبارک کی برطرفی سےعرب سپرنگ کی پیشرفت تک اور لیبیا سے شام تک تشدداوربہت سےواقعات جودنیابھرمیں رونماہورہےتھے اور اسی دوران داعش کا ابھرنااوردنیا بھر میں اس کی دہشتگرد کارروائیوں کامیں قریب سےمشاہدہ کررہاتھا۔ میں نے داعش کاپیچھا کیااوراس کی کارروائیوں کی رپورٹنگ جاری رکھی اور ڈسکہ، سیالکوٹ کےعلاقے اورجنوبی پنجاب تک پھیلے علاقےمیں داعش کی پہلی موجودگی کاپتہ لگایااوربالآخردارالحکومت کےقریب کلرسیداں میں اس کی موجودگی کاپتہ لگا۔ عمرخالدخراسانی نےداعش کامقامی نمائندہ ہونےکادعویٰ کیا۔ داعش کی پاکستان میں موجودگی خطرناک تھی اور اس کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے مجھے ایک کتاب ’’داعش-آئی ایس آئی ایس؛ اےرائزنگ مونسٹر ورلڈ وائیڈ‘‘ لکھنے پر مجبور کیا جسے 17جولائی 2019کو جاری کیاگیا۔ میں یہ شیئر کرنا چاہوںگاکہ کتاب کےپیچھےمحرکات دہشتگردی کے خلاف جنگ میں میرےتجربات اورخوفناک دہشتگرد تنظیم داعش کوبےنقاب کرناتھے،تاکہ لوگ کوپتہ لگےاوردنیابھرکی لیڈرشپ اور عالمی برادری کواس جن پرقابو پانے میں اپنا کرداراداکرنےکیلئےایک ویک اپ کال دی جائے۔ میں جانتا تھا کہ یہ ایک خشک موضوع ہے اور خطرناک تنظیم کے معاملات میں مداخلت کرنا ٹھیک نہیں لیکن میں نے عام آدمی کی معلومات کیلئے مکمل حقائق کے ساتھ کتاب لکھی۔ 2014کے وسط میں اسلام آ باد میں ایک پریس کانفرنس کےدوران میں نے کہاتھا کہ پاکستان میں داعش کی موجودگی کے میرے پاس تمام دستاویزی ثبوت ہیں اور میں نے اس وقت کی حکومت کو بھی خبردار کیا جس کو اس وقت انکار کرنے کی بجائے سنجیدہ نوعیت کی کارروائی کرنی چاہئیے تھی اور طالبا ن کی طرح داعش کے پھیلائوسے قبل ہی اقدامات کرنے چاہیئےتھے۔ میرےکئی بار خبردارکرنے کے باوجوداس وقت کی حکومت یہ قبول کرنے کیلئے تیار ہی نہیں تھی لیکن میں نے اپنا تعاقب جاری رکھا اور لوگوں نے پاکستان میں ایسی دہشتگردکارروائیاں دیکھیں جن کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ تاہم ہماری سیکیورٹی ایجنسیز نےاِن آپریٹر کاپتہ لگانےاور اُن کوچلانے والوں کو ختم کرنے اور سرحدوں پر ہی ان کا راستہ روکنےمیں اہم کرداراداکیا۔ حکومت کی جانب سے داعش کی موجودگی سے مسلسل انکار کے باوجود 2016میں کوئٹہ میں دو دہشتگرد حملے ہوئے۔ پہلا اگست میں ہو اجس میں 70افرادمارے گئےاور 100سے زائد زخمی ہوئے، دوسرےحملےمیں دہشتگردوں نےکوئٹہ میں ایک ٹریننگ سنٹرپرپولیس کیڈٹس پرحملہ کیاجس میں61کیڈٹس مارے گئےاور160زخمی ہوئے۔ 2017میں سہون شریف حملےمیں100افرادمارےگئے۔ مئی 2015 میں کراچی میں ایک بس پرہوئےحملےمیں 46افراد مارے گئے، یہ پاکستان میں پہلا حملہ تھا جس کی ذمہ داری داعش نےقبول کی۔ مئی 2017میں داعش نے سابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ عبدالغفورحیدری کو مستونگ میں ایک بم حملے میں نشانہ بنایا۔ اگست2017میں داعش کی جانب سے کوئٹہ میں کیے گئے ایک خودکش حملے میں8آرمی سولجرز سمیت 15افراد مارے گئے۔ جولائی 2018میں داعش اے پی ایس حملے کےبعدپاکستان کی تاریخ کاخطرناک ترین حملہ کیا، اس میں سراج رائیسانی مستونگ میں ایک ریلی سےخطاب کرنے والے تھے جب ایک خودکش بمبارجس نے 16سے20کلوگرام دھماکہ خیز مواد اٹھایاہواتھا، نےخود کوایک ہزار افراد کے ہجوم کےدرمیان میں اُڑالیا۔ دھماکےمیں رائیسانی سمیت 128افرادمارےگئےتھے۔ حملےکےدودن بعد ہی 15جولائی 2018کو ہلاکتوں کی تعداد 149ہوگئی جبکہ 186افرادزخمی ہوئے۔ ان سب خوفناک حملوں کی ذمہ داری داعش نےقبول کی۔ جولائی 2018میں داعش نےکوئٹہ میں ایسٹرن بائےپاس کےقریب ایک پولنگ اسٹیشن پر بم حملہ کیا جس کے نتیجے میں 31افرادمارےگئے اور 35زخمی ہوئے۔ پاکستان میں مذکورہ بالا حملوں کے علاوہ اب تک داعشنےدنیابھرمیں 139حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان دہشتگردحملوں میں19عراق، 4بیلجئیم، 4آسٹریلیا، 5کینیڈا، 7امریکا، 13فرانس، 3سعودی عرب، 2لیبیا، ایک ڈنمارک، 4تیونس، 2یمن، 10ترکی، ایک کویتم، 10مصر، 2روس، ایک لبنان اور حال ہی میں ایک سری لنکا میں ہواہے۔ داعش نے اب ایک نئی جہت اپنا لی ہےاورپاکستان، افغانستان اور دنیا بھر میں خطروں کی نئی مثال قائم کی ہے، اب تک اس نے دنیا بھرمیں دہشتگردحملوں کےذریعےاپنی موجودگی مختلف شکلوں میں ثابت کی ہے، جیساکہ اوپربیان کیاجاچکاہے۔ مغرب پہلے ہی تحفظات کا اظہارکرچکاہے کہ داعش سے مغرب کو سنگین خطرہ ہے کہ سیکڑوں یورپی اور امریکی فائٹرز جو داعش کے ساتھ عراق اور شام میں لڑ چکے ہیں وہ اپنے ممالک میں حملوں کیلئے لوٹ سکتے ہیں۔ بہت سےویڈیوز میں داعش کےدہشتگردوں کو برطانوی اور مغربی لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے سنا گیا۔ یہاں میری کتاب میں داعش کی قیادت کی جانب سے دیئے گئے کچھ بیانات پیش کیے جارہے ہیں۔ البغدادی نے کہا،’’آج ہماری جنگ کمزوراورپھیلےہوئےدشمن سے ہے۔ انھیں جان لینا چاہیئےکہ جہادقیامت تک جاری رہے گا‘‘۔ ہمارامانناہےکہ یہ درحقیقت مرکزی گروپ کےنقصان کی جانب سےتوجہ ہٹانےکیلئےہےاور یہ یقینی بنانے کیلئے ہے اوریہ کہ چھوٹےگروپ اور نچلے درجےکےکارکنان جہادیوں کی دنیا کےمرکزداعش سےوفادار رہیں۔‘‘ 9/11کےبعد کےدورمیں ہتھیاروں سےلیس جہادیوں نےایک ایسی صورتحال کی تبدیلی میں ہماری مددکی جہاں ہم بیرونِ ملک تربیت یافتہ لوگوں کے برعکس بنیادی طورپرتنہاجنگجوئوں، اپنے ملک میں ہی تربیت یافتہ پُرتشدد انتہاپسندوں سےتعلق رکھتےتھے۔‘‘ ہم اسے اوپن سورس جہاد کہتے ہیں جو لوگوں کوبیرونِ ملک کی بجائےگھروں میں ہی تربیت حاصل کرنےکی اجازت دیتا ہے۔‘‘ ہم نے جہاد کو میڈیسن ایونیوکی طرح قراردیااور سمجھے کہ دنیاخاص طورپر نوجوانوں کےدرمیان زندگی سےمتعلق جذباتی اور کم دانش مندانہ سوچ کےحوالےسے کہاں جارہی ہے۔

میں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح داعش جنوبی ایشیاءمیں القاعدہ اور طالبان سے زیادہ خطرناک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ حتٰی کہ یہ چین کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ ہوگا جسے اگرکچلانہ گیا تویہ دنیاکوخونی دہشتگردی میں دھکیل سکتاہے۔ میں نےداعش کی کارروائیوں سےمتعلق کئی عراقی اورلیبیائی افرادسے بات چیت کی ہے ان میں لیبیا کےسابق وزیرِداخلہ بھی ہیں اورہر کسی نےلیبیااوردنیاکےدیگرحصوں میں داعش کی موجودگی کی تصدیق کی۔ میری تحقیق اورمختلف سربراہانِ ریاست اورکئی وزرائےداخلہ کےساتھ میری گفتگو سے مجھے داعش کےابھرنےاوران کی پریشانیوں کاعلم ہوا۔ میں نےداعش کےآپریشنز، اس کی تباہی اورظلم وستم اورمستقبل کےمنصوبوں کےبارےمیں بھی اشارہ کیا۔ داعش کوافغانستان کےعلاقےکھوسٹ میں تربیت حاصل کرنےوالےطالبعلم کنٹرول کررہےہیں ان میں ابوبکرالبغدادی، معصب الزرقاوی، القاعدہ کا سابق رکن اورحتٰی کہ اوسامہ بن لادن نےبھی زرقاوی کا نام بطورالقاعدہ کے یوتھ لیڈر کےطورپر لیاتھا، شامل ہیں۔ یہ حیران کن تھاکہ سری لنکاکے حملوں اورداعش کے دہشتگرداوریہ داعش کےآپریٹرز کوبھارت میں ٹریننگ دی گئی تھی۔ دہشتگردوں نےسری لنکاکےخلاف بھارت کی زمین استعمال کی۔ بھارت نہ صرف داعش کاحامی تھابلکہ سرلنکا میں ہوئے حملوں میں رنگے ہاتھوں پکڑاگیاہے،جب 21اپریل 2019کو ایسٹر سنڈے کےدن سری لنکاکےدارالحکومت میں تین گرجاگھروں اورتین لگژری ہوٹلز پرمنظم خودکش حملےکیےگئےجن میں 259افرادمارےگئے،مرنےوالوں میں45غیرملکی بھی شامل تھے۔ سری لنکا کےصدراور وزیراعظم نے عوامی طورپر اعلان کیاکہ ان کی تحقیقات کے مطابق یہ حملے داعش کےحملہ آوروں نے کیےاور ان کی تربیت اور بعد میں انھیں بھارت سے کیاگیا جس سےداعش اور آر ایس ایس کےتعلقات کی تصدیق ہوتی ہے۔ آرایس ایس ازم اور داعش ازم کی اصطلاحات متعارف کرانے اور نئے نظریات ان کےتعلقات کوبےنقاب کرنےمیں درست تھا۔ یہ بدقسمتی ہےکہ داعش کےقاتل جنگجو، القاعدہ اور طالبان شدت پسندکلمہ پڑھتےہیں اور جو مرتا ہے وہ بھی اسی اللہ کانعرہ لگاتاہے۔ لہذا داعش کانظریہ جو بھی ہےاورواضح طورپر یہ نظریہ اسلام مخالف ہے اور اسلام مخالف ہی رہےگا۔ میں نے تمام حقائق اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں اس کی کارروائیوں کواپنی کتاب میں بیان کیاہے۔ میں نے داعش کے ٹریننگ سنٹرکی نشاندہی بھی کی ہے۔ اپنی سمجھ بوجھ کےمطابق، میں نےاپنی کتاب میں داعش کےخلاف مندرجہ ذیل فوری اقدامات تجویز کیے ہیں۔ 1:داعش کو روکنے کیلئے جامع اور مشترکہ کاوش ہونی چاہیئےجس پراقوام متحدہ میں بحث ہو اور مشترکہ طورپراسے تیار کیا جائے۔ 2۔ اقوام متحدہ کی جانب سے فوری طورپرایک کانفرنس بلائی جائے جوانسدادِ دہشتگردی کیلئے مشترکہ حکمت علمی تیارکرے۔ 3۔میں اقوام متحدہ سےایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دینے کی اپیل کرتاہوں جو دنیا میں داعش کےظلم وستم کی تحقیقات کرے اور تین ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ 4۔اقوام متحدہ داعش کو ایک خطرناک دہشتگردتنظیم قرار دے اور اس کے ہمدردوں، مالی امدادکرنےوالوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ 5۔ اوآئی سی داعش کو اسلام مخالف تنظیم قرار دے کیونکہ یہ اسلامی تنظیم ہونےکادعویٰ کرکےمذہب کی بدنامی کاباعث بن رہی ہے۔ 6۔اقوام متحدہ کے تحت ایک بین المذاہب ہم آہنگی کمیشن ہوناچاہیئےتاکہ تمام مذاہب اور عقائد کے درمیان ہم آہنگی کوفروغ دیا جاسکے۔ میں نے اپنے ذاتی تجربات،بین الاقوامی اتھارٹیزسےبات چیت اور مختلف سیکیورٹی فورمزپر اپنی شرکت کی بنیادپرحقائق پیش کرنےکی بہترین کوشش کی ہے۔ یہ پاکستان میں میرے ایکشنز اور داعش کے پُراسرار پھیلائو کے مشاہدےپرمبنی ہے۔ دنیامیں یہ ایک بہت بڑاسوال ہےکہ داعش کوکون فنڈنگ کررہاہےاورکون انھیں بھاری ہتھیاربشمول ٹینکس اور جدید جیپیں اورمیزائلوں کے ڈھیر فراہم کررہاہے۔ میں دنیا سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اس جن کے پھیلائوکو روکیں جو القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ہورہاہے کیونکہ یہ اس سیارے پر موجود ہر کسی کو کاٹےگا اورعالمی طاقتوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ انھون نے افغانستان میں سوویت یونین کےخلاف جہادیوں کو اسپانسر کیا تھا جو طالبان/ ظالمان بن گئے تھے اور پھرالقاعدہ اور اب داعش تک بڑھ گئے۔ اندرونی کہانی سےظاہر ہوتاہےکہ داعش ایک داعش ازم کے نظریے کےطورپرابھررہی ہے اوردنیا میں اس کےدستیاب مشنریزدہشتگردی کے ذریعے معاملات نمٹانےکیلئے استعمال ہوسکتے ہیں۔ میں یہ بھی تفصیلات دی ہیں کہ کس طرح بھارت داعش کے قریب تر ہے اور کس طرح سے بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے داعش کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز بنائےتاکہ انھیں مقبوضہ کشمیر میں استعمال کیاجاسکے۔ میں نے آرایس ایس اور داعش کے درمیان تعلقات کو ثابت کیاہے۔ اب داعش ازم اور آرایس ایس ازم اور بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے درمیان گہرے تعلقات ہیں جوکشمیرمیں ہونےوالےظلم کےمنصوبہ ساز ہیں۔ قارئین کو میری کتاب میں داعش کےبارے میں سب کچھ ملےگااور یہ بھی کہ کس طرح سے چینی شہریوں کی افغانستان میں داعش ٹریننگ کررہی ہے۔