آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاک امریکہ تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

وزیراعظم عمران خان تین روزہ سرکاری دورے پر امریکہ میں ہیں اور اِس دورے کو نہ صرف پاک امریکہ تعلقات میں فیصلہ کن موڑ کی حیثیت حاصل ہے بلکہ پاکستان کی داخلی پالیسیوں کے تسلسل کا فیصلہ بھی اس دورے کی کامیابی سے مشروط ہے۔ پاک امریکہ تعلقات میں اتار چڑھائو کا گراف بنائیں تو یوں لگتا ہے جیسے دل کی دھڑکنے کی رفتار معلوم کرنے کیلئے ای سی جی کروائی گئی ہے۔ عمومی تصور تو یہ ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان نے روس کے بجائے امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی کیمپ میں شامل ہونے کا فیصلہ قائداعظم کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا اور لیاقت علی خان نے اس سلسلے کو محض آگے بڑھایا۔M.S Venkataramani کی کتاب The American role in Pakistanمیں پاک امریکہ تعلقات کے آغاز کی کہانی تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ قائداعظم نے اپنے معتمد خاص میر لائق علی کو امریکہ بھیجا جنہوں نے امریکی حکام سے ملاقات کر کے 2ارب ڈالر کا قرض دینے کی درخواست کی۔ امریکی حکام کو قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ روسی جارحیت سے اس خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ان حالات میں بھارت کے دفاع کی ذمہ داری بھی پاکستان کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ یہ دلیل بھی دی گئی کہ پاکستانی اپنے مذہبی عقائد کے باعث اشتراکیت کے قریب جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو ماسکو کا کراچی میں سفارتخانہ ہے اور نہ ہی ہم نے وہاں کسی کو سفیر تعینات کیا ہے مگر اسکے برعکس نہرو نے اپنی بہن کو ماسکو میں سفیر تعینات کر رکھا ہے اور روس کا سفیر بھی دہلی میں موجود ہے۔ امریکہ حکام قائل نہ ہوئے تو قائداعظم کے معتمد خاص میر لائق علی نے امریکہ میں پاکستان کے پہلے سفیر ایم اے ایچ اصفہانی کے ہمراہ ملاقات کے دوران پینترا بدل کر کہا، قرض نہیں دیا جا سکتا تو مہاجرین کیلئے رضائیاں ہی دیدیں۔ اس نئے مطالبے پر امریکی حکام ششدر رہ گئے اور محض یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ اس ضمن میں ریڈ کراس سے بات کرینگے۔ بعد ازاں امریکہ کے وزیر داخلہ(سیکریٹری آف اسٹیٹ) جارج مارشل سے وزیراعظم کی ملاقات ہوئی تو نواب لیاقت علی خان نے بھی وہی موقف اختیار کیا کہ پاکستان کیمونزم کی طرف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ ایسا کرنا ہمارے اسلامی عقائد اور نظریات کے خلاف ہوگا۔ یہ تدبیریں اُلٹی ہو گئیں اور امریکہ نے سوچا جب پاکستان کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تو پھر کیوں اُس کے ناز نخرے اُٹھائے جائیں۔ امریکی صدر ہیری ٹرومین نے پاکستان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت دیدی۔ امریکی طرزِعمل سے پاکستان کو شدید خفت اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر گھی نکالنے کیلئے انگلی ٹیڑھی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان اور روس کے سفارتی تعلقات تو تھے نہیں اس لئے تہران کے روسی سفارتخانے کے ذریعے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم لیاقت علی خان روس کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت روسی صدر اسٹالن نے 2جون 1949کو پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان کو روس کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت دیدی۔ امریکی حکام نے بھی صورتحال کا اِدراک کر لیا اور پاکستانی حکام کو یقین دہانی کروائی کہ اگر روس کی دعوت مسترد کر دی جائے تو امریکی صدر وزیراعظم لیاقت علی خان کو امریکہ بلانے کیلئے تیار ہیں۔ اس سارے اہتمام کا مقصد ہی یہ تھا کہ اے خانہ برانداز چمن اِدھر بھی چنانچہ روس کو کورا جواب دیدیا گیا اور امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کر لی گئی۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے دورہ امریکہ کا پسِ منظر بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تب اور اب کے حالات میں بہت حد تک مماثلت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برسر اقتدار آتے ہی آنکھیں ماتھے پر رکھ لی ہیں اور صورتحال اس قدر بگڑ چکی تھی کہ امریکی صدر پاکستانی وزیراعظم کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت دینے کو تیار نہ تھے مگر پھر کچھ تدبیر کرکے امریکہ کو میزبانی پر تیار کیا گیا۔ پاکستان کے معاشی حالات دگرگوں ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے بلیک لسٹ کئے جانے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے اور ایسے میں امریکی تعاون ناگزیر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کے مزاج اور عادات و اطوار میں مماثلت اور مشابہت کی باتیں ہوتی رہی ہیں، کہا جاتا رہا ہے کہ ایک سیر ہے تو دوسرا سوا سیر۔ البتہ اس دورے کی شروعات خاصی مایوس کن رہی ہیں۔ بتایا تو یہ گیا کہ امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے ایئر پورٹ پر وزیراعظم کو خوش آمدید کہا مگر جو وڈیو جاری کی گئی اس میں وزیر خارجہ شاہ محمود اور پاکستانی سفیر کے علاوہ کوئی اعلیٰ عہدیدار دکھائی نہیں دے رہا۔

حالیہ دورہ اس حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ سول اور فوجی قیادت ساتھ ساتھ ہے۔ نواب لیاقت علی خان سے نواز شریف تک جتنے بھی وزرائے اعظم امریکہ گئے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آرمی چیف نہ صرف شریک سفر رہے ہوں بلکہ امریکی صدر سے ملاقات کے دوران بھی موجود رہے ہوں۔ نسیم زہرا نے اپنی کتاب From Kargil to coupمیں لکھا ہے کہ کارگل کی محاذ آرائی کے دوران جب پاک فوج شدید مشکلات کا شکار تھی اور وزیراعظم نواز شریف امریکی صدر بل کلنٹن سے ملنے کیلئے امریکہ روانہ ہو رہے تھے تو جاتی امرا میں ہونے والی مشاورت کے دوران شہباز شریف نے شدید مخالفت کی اور کہا کہ اگر جانا ضروری ہے تو آرمی چیف پرویز مشرف کو ساتھ لے جائیں تاکہ یہ تاثر نہ ملے کہ کارگل سے واپسی کا فیصلہ وزیراعظم یا سول قیادت نے اکیلے کیا ہے۔ نواز شریف نے یہ کہہ کر شہباز شریف کا مشورہ مسترد کردیا کہ اگر وہ آرمی چیف کو ساتھ لیکر گئے تو دنیا سمجھے گی وزیراعظم بے اختیار ہیں اور اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سادگی کے پیش نظر وزیراعظم نہ صرف کمرشل پرواز سے امریکہ پہنچے بلکہ ہوٹل میں قیام کرنے کے بجائے پاکستانی سفیر کی رہائشگاہ پر ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے خیال میں مثبت اور قابلِ تعریف پہلو کو سراہتے وقت بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ وفد میں شامل دیگر حکام بھی کفایت شعاری کی اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں یا انہیں معمول کے مطابق مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ وزیراعظم کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اہمیت اپنی جگہ مگر دنیا بھر کی نظریں پینٹاگان میں ہونے والی ملاقاتوں پر ہوں گی کیونکہ یہ ملاقاتیں پاک امریکہ تعلقات اور پاکستان کے داخلی حالات کے مستقبل کا فیصلہ کریں گی۔