آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کا دورۂ امریکہ شروع ہوا تو تنقید نگاروں نے پہلا اعتراض کیا کہ یہ دورہ کس نوعیت کا ہے، یہ تو اسٹیٹ وزٹ نہیں ہے۔ تنقید نگاروں کی خدمت میں عرض ہے کہ بیرونی دنیا سے جو حکمران بھی امریکہ کا دورہ کرتے ہیں، امریکی ان دوروں کو چار اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ 1۔اسٹیٹ وزٹ، اس کی دعوت صرف ہیڈ آف اسٹیٹ کو دی جاتی ہے۔ اس میں 21توپوں کی سلامی اور پورا سرکاری پروٹوکول ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں صرف فرانسیسی صدر نے اسٹیٹ وزٹ کیا ہے۔2۔آفیشل وزٹ، اس کی دعوت ریاست کے چیف ایگزیکٹو کو دی جاتی ہے، صرف سلامیاں 21کے بجائے 19ہو جاتی ہیں۔ باقی پورا سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے، ٹرمپ کے اقتدار میں کسی کو بھی آفیشل وزٹ پر نہیں بلایا گیا۔3۔آفیشل ورکنگ وزٹ، اس میں کوئی سلامی نہیں ملتی، نہ ہی ایئر پورٹ پر پروٹوکول ملتا ہے، اگرچہ یہ دورہ بھی امریکی صدر کی دعوت پر ہوتا ہے مگر اس میں کھانے کا دعوت نامہ اور میٹنگ ہوتی ہے۔ زیادہ تر غیر ملکی سربراہان کا دورہ امریکہ اسی نوعیت کا ہوتا ہے۔ 2017میں 35غیر ملکی سربراہوں نے امریکہ کا دورہ کیا، سب کا دورہ آفیشل ورکنگ وزٹ تھا۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ بھی آفیشل ورکنگ وزٹ ہے۔4۔پرائیویٹ وزٹ، اس میں امریکی صدر کی طرف سے دعوت نہیں دی جاتی لیکن غیر ملکی سربراہ امریکہ کا دورہ کرتا ہے اس میں امریکی صدر سے غیر رسمی ملاقات کا چانس مل سکتا ہے جیسا کہ شاہد خاقان عباسی نے دورہ کیا تھا۔

پاکستان کی پوری تاریخ میں صرف دو سربراہان کو امریکیوں نے اسٹیٹ وزٹ پر مدعو کیا۔ ایک صدر ایوب تھے، دوسرے ضیاء الحق تھے، ضیاء الحق کو 1982میں اسٹیٹ وزٹ پر مدعو کیا گیا تھا۔ دوسرے نمبر پر آفیشل وزٹ آتا ہے۔ پانچ پاکستانی وزیراعظموں کو ایسے دورے کا موقع ملا۔ ان میں لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو اور بینظیر بھٹو شامل ہیں۔ آخری مرتبہ آفیشل وزٹ 1989میں ہوا۔ تیسرے نمبر پر آفیشل ورکنگ وزٹ آتا ہے۔ پاکستانیوں کو پانچ مرتبہ اس نوعیت کے دورے کی دعوت دی گئی۔ 1995میں بینظیر بھٹو، 1998میں نواز شریف، 2002میں صدر پرویز مشرف، 2015میں نواز شریف اور اب 2019میں وزیراعظم عمران خان۔ سوائے چودہ دوروں کے جب بھی ہمارے حکمران امریکہ گئے وہ پرائیویٹ وزٹ پر گئے۔تنقید نگاروں نے پھر کہا کہ عمران خان کا استقبال کرنے کوئی نہیں آیا۔ تنقید نگاروں کی خدمت میں عرض ہے کہ وزیراعظم پاکستان کا استقبال کرنے کے لئے جو خاتون موجود تھی اس کا نام میری کیٹ فشر ہے، یہ خاتون ٹرمپ انتظامیہ میں چیف آف پروٹوکول ہے۔ یہ خاتون یعنی مس فشر کا کام کسی ملکہ، بادشاہ، صدر یا وزیراعظم کا استقبال کرنا ہے۔

تنقید نگاروں نے تیسرا نکتہ یہ اٹھایا کہ میڈیا کے افراد کیسے گئے۔ ہمارے دو دوست ندیم رضا اور بہزاد سلیمی تو پہلے ہی امریکہ پہنچ چکے تھے۔ باقی کے بارے میں حکومتی موقف ہے کہ ان کے اداروں نے ان کے اخراجات برداشت کئے مگر میری اطلاعات یہ ہیں کہ کہیں نہ کہیں پی ٹی آئی نے انہیں ضرور سپورٹ کیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ حکومت نے اخراجات نہیں کئے مگر یہ بھی سچ ہے کہ تحریک انصاف نے انہیں سپورٹ ضرور کیا ہے۔ مجھے اس مرحلے پر ایک پرانی بات یاد آجاتی ہے۔ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد افتخار درانی نے ایک فیصلہ کیا کہ جو رپورٹرز پی ٹی آئی کو کور کرتے رہے ہیں، وہی وزیراعظم کو کور کریں گے۔ یہ کریڈٹ افتخار درانی کو جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے عام رپورٹرز بھی امریکہ پہنچ گئے، ورنہ اس سے پہلے تو مخصوص گروہ ہی بیرونی دوروں پر جاتا تھا، مجھے نئے رپورٹرز کے دورۂ امریکہ پر خوشی ہوئی ہے۔

تنقید نگاروں نے چوتھا نکتہ یہ اٹھایا کہ وزیراعظم عسکری قیادت کے ساتھ گئے ہیں۔ تنقید نگاروں کی خدمت میں ماضی قریب کے قصے پیش خدمت ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کے ساتھ جنرل کیانی گئے تھے، پھر نواز شریف جنرل راحیل شریف کے ساتھ گئے اور پھر شاہد خاقان عباسی جنرل باجوہ کے ساتھ گئے جو اس وقت عمران خان کے ساتھ ہیں۔ ویسے اس کی وضاحت ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تصاویر کے ساتھ پریس کانفرنس میں کر دی ہے۔

تنقید نگاروں کے لئے سب سے اہم نکتہ کیپٹل ون ارینا ہے جسے دیکھ کر ان کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ون ارینا کے اسٹیڈیم کے اندر اور باہر جوش، محبت اور جذبہ بول رہا تھا، 30ہزار سے زائد افراد پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ مجھے صغریٰ امام کہنے لگیں کہ کسی بھی غیر ملکی سربراہ نے پوری امریکی تاریخ میں اتنا بڑا جلسہ نہیں کیا، نریندر مودی نے مشی گن میں جلسہ کیا تھا مگر وہ جلسہ عمران خان کے جلسے سے کہیں چھوٹا تھا، عمران خان نے تو کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں کسی اور پاکستانی حکمران کو تو خیر کبھی جلسہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ہوئی، وہ تو انگریزی سوٹ میں پھنس کر جہاز بھر کر، اعلیٰ ہوٹلوں میں قیام کرکے اور پھر پرچیاں پڑھ کر فخر محسوس کرتے تھے۔ عمران خان بھی کیا عجیب آدمی ہے۔ عام کمرشل فلائٹ استعمال کرتا ہے، لائو لشکر بھی ساتھ نہیں لے جاتا، بڑے ہوٹلوں کے بجائے پاکستانی سفارتخانے میں قیام کرتا ہے، قومی لباس پہنتا ہے، اسے تو سادہ سے شلوار قمیص اور واسکٹ پر کوئی ندامت نہیں ہوتی، اسی لئے پاکستانی اسے ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔ ارینا کا میدان بھرنے میں ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ کے کردار کو بہت سراہا گیا۔ عبداللہ ریاڑ ایک زمانے میں پیپلز پارٹی کے سندھ سے سینیٹر ہوا کرتے تھے۔

واشنگٹن ڈی سی میں ہر طرف پاکستانی نظر آ رہے ہیں۔ ارینا کے اندر باہر پاکستانی ہیں، فیصل جاوید کی آواز دلوں کو گرما رہی ہے، پاکستانی پرچموں کی بہار ہے، میلے کا سا سماں ہے، ترانے، نغمے اور ڈھول کی تھاپ، پورا منظر پاکستانی ہے۔ اس ماحول میں یہی کہا جا سکتا ہے ارینا تجھے یاد رہے گا کوئی پاکستان سے آیا تھا، کسی نے تیرا ماحول گرمایا تھا، کسی نے یہاں دل سے گیت گائے تھے، کسی کے نغمے گونجے تھے اور کسی نے سادہ شلوار قمیص اور واسکٹ پہن کر دلوں کو مسحور کرنے والا خطاب کیا تھا۔ ارینا یاد رکھنا نہ کوئی عمران خان سے پہلے ایسا کر سکتا تھا اور نہ کوئی عمران خان کے بعد ایسا کر پائے گا۔ ارینا تجھے عمران خان ہمیشہ یاد رہے گا، اس کے خطاب کا آخری اسیپل تو کوئی بھی نہیں بھول پائے گا، تجھے یاد رہے گا کہ اس روز سوشل میڈیا پر پوری دنیا میں ٹاپ ٹرینڈ عمران خان ہی تھا۔ امریکہ میں مقیم شاعرہ ریحانہ قمر کا شعر یاد آگیا ہے کہ؎

پیار میں پاگل ہو جاتے ہیں

لوگ مکمل ہو جاتے ہیں