آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ذوالفقار علی بھٹو کو کشمیری ماہرِ نجوم شمیم احمد اور سری لنکن نجومی نے کہا تھا کہ شاید وہ لمبی عمر نہ پا سکیں، اسی وجہ سے بھٹو جہاز میں بھی کام کرتے، انڈیا سے شملہ معاہدہ، سعودی عرب، لیبیا، ایران اور خلیجی ممالک میں موجود ذاتی تعلقات کے ذریعے پاکستانی عوام کے لئے روزگار کے مواقع، 1973کا متفقہ آئین، قادیانیوں کو کافر قرار دینا، اسلامی سربراہی کانفرنس، اسلامی بلاک کی تشکیل کا سوچنا، روس اور چین سے معاشی معاہدے کر کے اسٹیل مل اور دیگر صنعتوں کا لگانا بھٹو کا کارنامہ ہے۔ سی آئی اے کو یہ منظور نہیں تھا کہ پاکستان اسلامی بلاک تشکیل دے اور ایٹمی طاقت حاصل کرے۔ 1976میں بھٹو کو ایٹمی پروگرام سے باز نہ آنے کے جواب پر ہنری کسنجر نے کہا تھا We will Make Horrible Example of You ۔ بھٹو نے جنرل گل حسن اور ائیر چیف مارشل عبدالرحیم کو صدر ہائوس طلب کیا مگر قومی اتحاد سے معاہدہ میں تاخیر کی اسی وجہ سے شاید فوج مداخلت کا فیصلہ کر چکی تھی۔ جون 1977میں جنرل فیض علی چشتی فوجی کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ میں یہ فیصلہ کر چکے تھے ،معاملہ طے نہ ہوا تو مداخلت ناگزیر ہو گئی، دوسری طرف بھٹو سمجھتے تھے کہ شاید فوجی مداخلت کے نتیجہ میں ان کی مقبولیت بڑھے گی‘‘۔

’’4اپریل 1979متحرک، ذہین ترین سیاستدان، انقلابی سوچ کے مالک ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کے خاتمہ کی کہانی کے حوالے سے وائر لیس پر کنڑول روم نے SSPنے پولیس کو ہائی وے سے اسلام آباد شہر پہنچنے کا حکم دیا، مندرہ پہنچنے پر کنٹرول روم نے کہا کہ نصرت بھٹو اور بے نظیر رکاوٹیں توڑتے ہوئے راولپنڈی جیل کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ اُنہیں فوری طور پر روکا جائے، جس میں ہم ناکام ہوئے، 24مارچ 1974کو 4/3کی رائے سے عدالت نے ذوالفقار علی بھٹوکو سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔ ماں بیٹی کی مجبوری کے عالم میں بھٹو سے ملاقات کرائی کیونکہ لوگوں کا جمِ غفیر جمع ہو چکا تھا۔SSP جہاں زیب برکی موقع پر موجود تھے۔ جنرل شاہ رفیع عالم وائر لیس پر انگریزی میں مخاطب ہوتے ہیں کہ Lapseاور سنگین کوتاہی کیوں ہوئی، پولیس آفیسر نے وضاحت دینے کی کوشش کی تو آگے سے تلخ و ترش لہجہ ملا۔ ضلع کے وائر لیس پر پیغام دیا گیا تھا۔ جواب میں یس سر، اوکے سر، رائٹ سر، سوری سر اور تعمیل ہو گی سر کے علاوہ کچھ نہ تھا۔مختصراً 3اور 4اپریل 1979کی شب 12بجے وائر لیس سے حکم ملتا ہے کہ ایئرپورٹ روڈ پر گشت کیا جائے۔ اہم اور ڈرا دینے والے پیغام کے بعد وائر لیس پر مکمل خاموشی رہی، پوچھنے پر کنٹرول روم SSPکا حکم دے کر چپ کرا دیتا ہے، ظلم کی رات گشت کے دوران اندازہ ہوا آج بڑا واقعہ رونما ہونے والا ہے یا ہو چکا ہے۔ خاموشی کا تعلق بھٹو سے جوڑنا آسان تھا کیونکہ رحم کی اپیلیں مسترد ہو چکی تھیں۔ 2بجے رات فوج کی گاڑیاں نور خان ائیربیس پہنچ گئی۔ ساتھی پولیس آفیسر الیاس قریشی مرحوم نے رازداری سے بتایا پھانسی دے دی گئی ہے، لاش طیارہ کے ذریعے لاڑکانہ روانہ کی جارہی ہے‘‘۔اس طرح کے کئی واقعات کو جاننے کے لئے ہمارے دوست و بھائی منیب فاروق کے والد گرامی اور ہمارے محسن بزرگ دوست راجہ محمد فاروق ساجد سابق ایس ایس پی کی کتاب ’’پولیس نامہ‘‘ ضرور پڑھیں۔ اس ضخیم کتاب میں چشم کشا، چونکا اور دلوں کو دہلا دینے والے سینکڑوں واقعات پڑھنے کو ملیں گے۔

یاسر پیرزادہ بھائی اور دوست ہیں، ہوں بھی کیوں نا، جب اُن کے والد گرامی میرے مہربان ہوں، یاسر کی چوتھی کتاب ’’پاکستانیوں کے مغالطے‘‘ نوجوان نسل کو ضرور پڑھنا چاہئے کیونکہ یہ کوئی عام کتاب نہیں بلکہ تاریخی حقائق سے پردہ اٹھاتی ہوئی دستاویز ہے۔ یہ کتاب فلم، سیاست، ادب، تصوف، شاعری، ڈرامہ نگاری، سائنس، فلسفے کی حقیقت کی تو قائل نظر آتی ہے لیکن اختلاف بھی اُنہوں نے کتاب میں جگہ جگہ کیا ہے۔ فکری مغالطے درست کرنے یا پھر مطالعہ کرنے کی عادت بنانے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ از حد ضروری ہے ۔انہوں نے جہاں مذہبی لوگوں کے بعض پہلوئوں کی رہنمائی کرنے کی کوشش کی ہے وہیں پر اُنہوں نے گالیاں دینے والے گریجوایٹ حضرات کا بھی خوب محاسبہ کیا ہے۔ اُن کے نزدیک پڑھے لکھے لوگوں کا المیہ عام بگڑے ہوئے لوگوں سے زیادہ ہے۔ یہ سب کچھ اُنہوں نے اِس لئے لکھا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ 22کروڑ عوام کی اخلاقیات ’’اے پلس گریڈ‘‘ کی حدود کو چھوئیں تاکہ ہم حقیقی معنوں میں کامل انسان بن سکیں۔ وہ عہد کے خطرناک بچوں سے پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کے لئے فکر مند زیادہ ہیں۔ وہ قارئین اور لکھاریوں کو شرم دلاتے ہوئے اُن سے عہد لینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کہ آئیں ہم سب ملکر اٹھتے قدموں کے ساتھ بس آگے بڑھتے چلیں لیکن پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو انہیں فرحانہ، گلِ نوخیز اختر، اجمل شاہ دین اور ناصر ملک کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا۔ قارئین آئیں! اگر ہم ان کے قافلے میں شامل نہیں ہو سکتے تو کم از کم ان کے قافلے کے منزل پر پہنچنے کے لئے دعا ضرور کریں کیونکہ اگر عوام اپنا بھلا نہیں چاہتے تو کم از کم چلتے ہوئے قافلے کے لئے دعا کر دیں۔