• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عدالتی عزت کا کلچر واپس لانا ہوگا،دین،طب اورقانون کےشعبوں میں دھوکے بازی کی گنجائش نہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ سیل)چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہاہے کہ ہمیں عدالتی عزت کا کلچر واپس لانا ہوگا،دین،قانون اور طب کے شعبہ جات انتہائی مقدس ہیں،دھوکے بازی کی مقدس پیشے میں کوئی گنجائش نہیں،وکیل کو ڈاکٹر سے بھی زیادہ پروفیشنل ہونا چاہئے،تحریک بحالی عدلیہ کی کامیابی کے بعدتحریک بحالی عزت وکلا کی اشد ضرورت ہے،وکیل عدالتوں میں زبان اور دماغ سےبحث کریں ہاتھوں سے نہیں،جب وکیل جج کوکرسی اور جج وکیل کوپیپرویٹ مارے تودیکھ لیں ہم کہاں کھڑے ہیں،سینئرزنے جونیئر پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے،میرا خواب تھا کہ وکلاء کو مناسب تربیت فراہم کی جائے،وکالت میں کامیابی کی کنجی محنت میں پوشیدہ ہے ،وکلاء ہی ججز کی معاونت کرتے ہیں اورعدالت میں جج کی بجائے وکیل زیادہ علم رکھتا ہے،وکالت میں کامیابی کارازمحنت،کسی ایک شخص کےفعل سےپورےشعبے کو بُرا سمجھا جاتاہے،وکیل جج کا دماغ،وکلاءپیسہ کمانےکی طرف نہ جائیں،لوگوں کی خدمت کریں پیسہ خود آئیگا۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں لیگل ایجوکیشن ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی نے درست کہا کہ وکلا کی تربیت لازمی ہے، ہمارے سسٹم میں تربیت کا فقدان تھا،یہاں کے برعکس برطانیہ میں ایک لاء گریجویٹ کو تربیت سے وکیل بنایا جاتا ہے،لاء کالجز کی کثرت کی وجہ سے اب سینئر وکلاء کی کمی ہو گئی ہے،اب ایسے اداروں کی ضرورت ہے جہاں نوجوان وکلاء کی تربیت کی جا سکے۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہاخواہش تھی کہ وکلاء کو ٹریننگ دی جائے جس کا جوڈیشل اکیڈمی میں اہتمام کیا گیا،نوجوان وکلاء کیلئے سینئرز کیساتھ ٹریننگ کے مواقع کم ہوتےجا رہے ہیں،پرانے وقتوں میں وکلاء فیس نہیں لیتے تھے،وکلاء پیسہ کمانے کی طرف نہ جائیں،لوگوں کی خدمت کریں پیسہ خود آپکے پیچھے آئے گا،گزرتے وقتوں میں وکلاء کے گاؤن کے پیچھے لگی ہُڈ میں لوگ پیسے ڈالتے تھے،اور لوگوں کی خدمت کریں پیسہ خود ان کے پیچھے آئے گا،بطور وکیل سائل کو درست مشورہ دیں گے وہ ساری عمر آپ کے پاس آئے گا،اس لیے آئے گا کیونکہ وہ جان چکا ہوگا کہ آپ لالچی نہیں ہیں، ایمانداری سے مقدمہ کی تیاری کریں، کیس کمزور ہوتو لینے سے انکار کردیں، کہا جاتا ہےجو بچہ باتونی ہو وہی وکیل بنے گا، ضروری نہیں کہ یہ بات سو فیصد درست ہو،وکالت میں کامیابی کی کنجی محنت میں پوشیدہ ہے،عدالت میں جج کی بجائے وکیل زیادہ علم رکھتا ہے۔ وکلاء ہی ججز کی معاونت کرتے ہیں،وکلا اپنے کلائنٹ کیساتھ مخلص رہیں تو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ عدالت میں تقریری مقابلہ نہیں ہونا چاہئے،موثر دلائل سے کیس جیتا جاتا ہے، اگر کوئی وکیل جج کو یا جج وکیل کو کُرسی مار دے تو دیکھیں ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟کسی ایک شخص کے فعل سے پورے شعبے کو بُراسمجھا جاتا ہے،پاکستان کے وکلاء کی ایسی تربیت ہونی چاہیے کہ وہ دنیا میں کسی کا بھی مقابلہ کرسکیں،بدقسمتی سے وکلاء کیلئے ٹریننگ کا کوئی سسٹم نہیں تھا،سینئر وکلاء نے جونیئر وکلا پر توجہ دینا بندکر دی ہے،ہم نے جو اپنے بڑوں سے عزت سیکھی وہ ہمیں جونیئر وکلاء کو سکھانا ہے،عدلیہ بحالی تحریک کے بعد تحریک بحالی عزت وکلاء کی ضرورت ہے۔جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایک وکیل کا معاملہ نہیں بلکہ ہم سب کا معاملہ ہے،وکیل بحث زبان اور دماغ سے کریں ہاتھوں سے نہیں،جب کوئی جج سوال کرتا ہے تو وکیل کے لیے اس کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے، عدالت میں جب بھی جج کوئی سوال پوچھے تو آپ کو خوشی ہونی چاہئے، جج سوال پوچھتا ہے تو وکیل کو جج کا دماغ سمجھ جانا چاہئے۔ جج کے سوال پوچھنے پر وکیل کے لئے ایک کھڑکی کھُل جاتی ہے،تب وکیل کوشش کرے کہ جج کے سوال پر زیادہ جواب دینے کی کوشش کرے،ایک جج کو جھٹلائے بغیر بڑے ادب سے آپ ایک نکتہ دوسری طرح سے بھی سمجھا سکتے ہیں۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ کبھی بھی کسی جج کو شرمندہ کرنے کی کوشش نہ کریں،ہماری ٹریننگ میں وکیل کو پتلون میں ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں تھی،بعض اوقات جج آپ کی بات سنتے سنتے سو جاتے ہیں،جج سو جائے تو یہ مت کہیں کہ جج صاحب آپ سو گئے ہیں؟جسٹس کھوسہ نے کہا کوشش کریں جج سو جائے تو روسٹرم پر کتاب سے تھوڑی سی دھمک دیں جس سے جج جاگ جائے،دلائل کو ایک دماغ سے دوسرے دماغ تک پہنچانے کے لیے الفاظ کا مناسب چناؤ لازم ہے،اچھے الفاظ کا چناؤ تبھی آتا ہے جب ادب سے شغف ہو۔

تازہ ترین