آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے وطن واپسی پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سیل سے ٹی وی اور اے سی نکالنے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آصف زرداری کو بھی اس جیل رکھیں گے جہاں ٹی وی اور نہ اے سی ہوگا‘اپوزیشن جو بھی کر لے قوم کا پیسہ واپس کرنا پڑیگا،پیسہ واپس کر دو جیل سے نکال دینگے ‘پہلی دفعہ پاکستان کی اسمبلی ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے‘ فضل الرحمان، بلاول اور (ن ) لیگ سب اکٹھے ہو گئے ہیں، ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انہیں این آر او مل جائے، مجھے باہر سے بھی سفارشیں بھجوائی ہیں‘ایک آدھ بادشاہ نے بھی مجھ سے ان کی سفارش کی ہے مگرآج تک کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نا اپنی قوم کو کبھی جھکنے دوں گا‘ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے قوم کا مقدمہ پیش کروں گا اور آپ کو شر مندہ نہیں کروں گا‘ آج پاکستان بن رہا ہے ،آپ پاکستان کو تبدیل ہوتا دیکھیں گے اور ہر سال ملک اوپر جاتا رہیگا‘پاکستان میں سارے تاجروں کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، سب مل کر تھوڑا تھوڑا ٹیکس دیں تو پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالنا کوئی مشکل نہیں ‘بے نامی

جائیدادیں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجا گیا پیسہ واپس لا رہے ہیں‘طاقتور لوگوں کا احتساب شروع کر دیا ہے‘ لوٹی گئی دولت کی واپسی کیلئے متعلقہ ملکوں سے بات چیت شروع کر دی ہے ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز واشنگٹن کے کیپیٹل ون ارینا میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔عمران خان نے کہاکہ انشاء اللہ پاکستانیوں کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دوں گا‘وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں قائداعظم کے بعد کیوں اچھا لیڈر نہیں ملا، ایک ذوالفقار علی بھٹو تھے لیکن پھر ہمارے ملک میں بھی ایک قسم کی بادشاہت آگئی‘نواز شریف کو ایک آمر نے اٹھا کر لیڈر بنا دیا جبکہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کاغذ کا ٹکڑا دکھا کر لیڈر بن گئے‘ولی خاندان کا بھی یہی حال ہے، مولانا فضل الرحمان بھی اسی طرح لیڈر بنے اور اس کے بھائی اور بچے بھی لیڈر بن گئے ہیں ‘شہباز شریف کیوں وزیراعلیٰ بن گئے کیونکہ وہ نواز شریف کے بھائی تھے ۔ جمہوریت میں ملک کا سربراہ جواہدہ ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں جب عدالت فیصلہ کرتی ہے تو کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا‘جو آج پاکستان میں ہو رہا ہے یہ نیا پاکستان بن رہا ہے‘ماضی میں کبھی ان لوگوں سے نہیں پوچھا گیا۔وزیراعظم نے کہا لوگ پوچھتے تھے کہاں ہے نیا پاکستان، آپ کے سامنے نیا پاکستان بن رہا ہے، جس سے پوچھو، سب کہتے ہیں عمران خان کرا رہا ہے‘ہم نے کوئی کیس نہیں کیا، ہم نے صرف اداروں کو آزاد کیا ہے، نیب اور ایف آئی اے کو آزاد کیا ہے‘1960ءکی دہائی میں پاکستان پورے ایشیاء میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا‘ 1985کے بعد اصل تباہی شروع ہوئی اور پہلی دفعہ سیاست میں پیسہ آیا، رشوت چلنا شروع ہوئی، آج سب اکھٹے ہو گئے ہیں۔پاکستان میں میرٹ کا سسٹم تب آئے گا جب خاندانوں کی سیاست اور جاگیردرانہ نظام ختم ہو‘میرا کوئی دوست کسی عہدے پر نہیں ہے، مراد سعید کسی کا رشتے دار نہیں ہے‘پاکستان کے پاس تانبے کے بے پناہ ذخائر ہیں، صرف ایک جگہ پر 200 ارب ڈالر کے تانبے کے ذخائر موجود ہیں لیکن ہمارا ملک صرف کرپشن کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔بڑی بڑی کمپنیاں پاکستان میں نہیں آتی تھیں، ہر بڑی کمپنی سے بات کی ہے، سب کہتے ہیں پاکستان میں پیسے مانگے جاتے ہیں، رشوت لی جاتی ہے۔ہم کرپشن ختم کر کے پاکستان کو اوپر لا کر دکھائیں گے۔انہوںنے کہاکہ مسلم دنیا واحد مثال ہے جہاں غلام لیڈر بنے‘پاکستان میں سارے تاجروں کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا‘چار ،چھ مہینے سال مشکل وقت ہے، اس سے نکل جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں گھر سے کھانا منگواؤں گا‘کہتے ہیں ٹی وی لگا دو ، اے سی لگا دو، جس طرح سے یہ لوگ جیل میں رہ رہے ہیں، یہ سزا تو نہ ہوئی، واپس جا کر جیل سے ٹی وی اور اے سی نکالوں گا‘مجھے پتا ہے مریم بی بی بہت شور مچائیں گی لیکن پیسا واپس کر دیں، یہ باہر آ جائیں گے‘80فیصد پاکستانیوں کے پاس تو اے سی نہیں ہے جبکہ 60 فیصد کے پاس ٹی وی بھی نہیں، اگر یہ سہولیات آپ کو جیل میں مل رہی ہیں تو پھر نصف پاکستانی تو خوشی سے جیل میں جائیں گے، یہ سزا تو نہیں ہوئی۔عمران خان نے کہا کہ جیل سے نکلنا بہت آسان ہے، پیسا واپس کرو، ہم آپ کو جیل سے نکال دیں گے‘جب بھی آصف زرداری جیل جاتا ہے تو وہ بیماری کا بہانہ بنا کر اسپتال پہنچ جاتا ہے اور وہ زیادہ تر قید تو اسپتال میں گزارتا ہے‘ایک دینی جماعت کا سربراہ ہے جو لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ دوسری طرف اپنے آپ کو سیکولر سمجھنے والے لوگ ہیں وہ بھی ان کے پیچھے چل رہے ہیں‘فضل الرحمان اپوزیشن سے کہتے ہیں کیا ہم تب اکھٹے ہوں گے جب جیل میں ہوں گے تو انہیں کہتا ہوں ہاں فضل الرحمان، آپ سب جیل میں اکھٹے ہوں گے۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا نعرہ لگانے والے پاکستانیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ 22 سال سے وزیراعظم عمران خان کا نعرہ سنتا آ رہا ہوں لیکن اب میں وزیراعظم بن گیا ہوں آپ کو یقین ہو جانا چاہیے۔ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ رکنے کی تحقیقات کے لیے ہدایات دی ہیں۔خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے حاضرین سے کہا کہ میں آپ کا مسئلہ ٹرمپ کے سامنے رکھوں گا اور آپ کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔

اہم خبریں سے مزید