آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کرکٹ میں بہتری کیلئے نئی منصوبہ بندی شروع

پاکستان کرکٹ ٹیم کے انتخاب کے لئے قومی سلیکشن کمیٹی نئی بننے جارہی ہے ،سوا 3سال سے ون مین شو والی سلیکشن کمیٹی نے پاکستان کرکٹ کے حوالے سے چند ایسے فیصلے کئے جو تاریک رہے ہیں ، اسکی بنیادی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ ایک طرف انضمام الحق جیسے طاقتور چیف سلیکٹر تھے تو دوسری جانب کمزورر پروفائل کے حامل کرکٹرز،چنانچہ حتمی فیصلوں کا اختیار انضمام کے ہی ہاتھ میں رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کا ٹرائیکا ہی کھلاڑیوں کی قسمت بناتا یا بگاڑتا رہا، قومی چیف سلیکٹر انضمام الحق اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ، انہوں نے دعویٰ کیا ہے کیا کہ انہوں نے میرٹ پر فیصلے کئے،ورلڈ کپ کے حوالے سے بھی انہوں نے ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا ۔انضمام الحق کے دور میں کرکٹ ٹیم 2017 میں چیمپئنز ٹرافی جیتی،اس ایونٹ میں ٹیم کے نئے کرکٹرز نے کمال پرفارمنس دی اور 10 دن کے اندر ایونٹ اپنے نام کرلیا مگر اسکے علاوہ کیا ہوا ہے،کئی باصلاحیت کرکٹرز ڈومیسٹک ایونٹ میں اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے کے باوجود نظر انداز رہے ،نئے پاکستان میں سب کچھ درست کرنے کے دعوے ہیں ،دیکھنا یہ ہے کہ قومی سلیکشن کمیٹی اور دیگر امور کے لئے اگلے چند ہفتے بڑے اہم ہیں ،ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آغاز ہونے جارہا ہے،کیا سرفراز احمد 2023 ورلڈ کپ کے کپتان ہونگے؟ ہمیں ابھی سے ایک نئے کپتان کی تیاری کرنا ہوگی،ہماری حالت یہ ہے کہ سرفراز کا نائب بھی تلاش نہ کرسکے،تقرری نہ کرسکے،اگلا ایک سال اگر سرفراز کی قیادت میں جانا ہے تو انکا نائب ابھی سے مقرر کرکے دونوں کو ہدف دیدیں تو یہ نئے پاکستان کی بڑی مثبت بات ہوگی ۔ 

اپریل 2016 میں چیف سلیکٹر کے طور پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے انضمام الحق کے دور میں ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے،اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ناکامیاں زیادہ اور کامیابیاں کم ہیں، ٹیم نے مئی 2016 سے جولائی 2019 تک جو 28 ٹیسٹ میچز کھیلے ان میں سے وہ صرف 10 جیت سکی،17 میں اسےشکست ہوئی ،سوا 3 سال میں قومی ٹیم صرف ایک میچ ڈرا کھیل سکی، دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پاکستان 4 سیریز جیت سکا اسے 5 میں ناکامی ہوئی اور ایک ٹیسٹ سیریز ڈرا رہی ہے ،ان میں بھی عرب امارات میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف کامیابی ہے یا پھر آئرلینڈ میں واحد ٹیسٹ جبکہ تاریخی کامیابی ویسٹ انڈیز میں تھی مگر ٹیم عرب امارات میں سری لنکا اور نیوزی لینڈ سے غیر متوقع ہاری،آسٹریلیا،نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا میں ناکامی مقدر بنی،انگلینڈ میں 2 سیریز ڈرا کھیلیں،ون ڈے کرکٹ کا حال بھی قریب ایسا رہا ہے ،68 میچز میں سے 32 جیتے اور اس سے زائد 34 میں شکست ہوئی،15 سیریز ہوئیں ان میں ورلڈ کپ کی ناکامی اور چیمپئنز ٹرافی کی کامیابی بھی شامل ہے،باقی 13 سیریز میں 7 میں ناکامی ہوئی اور5میں فتح ملی،تمام بڑی ٹیموں سے ہارتے رہے ہیں،عرب امارات میں آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ سے ہارے،جنوبی افریقا،آسٹریلیا اور انگلینڈ میں ناکامی مقدر بنی،ون ڈے رینکنگ خراب رہی،چیمپئنز ٹرافی جیتنے کی وجہ سے ورلڈ کپ کوالیفائر ایونٹ میں جانے سے بال بال بچے جبکہ ٹیسٹ میں بھی پہلی پوزیشن انضمام کے آنے سے پہلے کارکردگی میں بہتری کی وجہ سے چند ہفتوں کے لئے ممکن ہوئی،ٹی 20 میں پاکستان بلاشبہ پہلی پوزیشن پر ہے اور تمام ٹیموں کیلئے چیلنج ہے ۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید