آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے لاہور پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اداکار محسن عباس کے اہلیہ پر تشدد کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں درج کی جارہی ہے؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ’لاہور کے سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں محسن عباس حیدر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے کیوں انکار کیا جا رہا ہے؟‘

شیری رحمان نے مزید لکھا کہ پولیس اسٹیشن میں فاطمہ سہیل سے تشدد کی میڈیکل رپورٹ کیوں طلب کی جارہی ہے جبکہ دفعہ 506 بی اور 406 پی پی سی کے تحت کسی قسم کی میڈیکل رپورٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔

شیری رحمان نے اپنی پوسٹ کے آخر میں ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا ’گھریلو تشدد ختم کرو۔‘

واضح رہے کہ فاطمہ سہیل نے اپنے شوہر اداکار محسن عباس کے خلاف تشدد کی درخواست دے رکھی ہے، انہوں نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے محسن عباس کو رنگ رلیاں مناتے پکڑا تھا جس کے بعد انہوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’محسن عباس ایک اداکارہ کے عشق میں گرفتار ہیں، میں جب حاملہ تھی تب بھی انہوں نے مجھے مارا پیٹا۔‘

اداکار محسن عباس حیدرکی جانب سے بیوی پر تشدد پر شوبز سے وابستہ شخصیات نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب محسن عباس نے اہلیہ کے الزامات کے جواب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے چند روز بعد ہی ان کے جھوٹ سامنے آنے لگے تھے، وہ جھوٹ بولنے کی عادی ہیں اور ایسے جھوٹ بھی سامنے آئے کہ وہ مجھے کہیں کا بتا کر کہیں اور چلی جاتی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری 6 ماہ سے علیحدگی ہے، زخموں کی تصاویر پرانی اور اس وقت کی ہیں جب وہ سیڑھیوں سے گری تھیں، فاطمہ میری دوسری شادی کی بات پر بھڑک اُٹھی تھیں۔

قومی خبریں سے مزید