آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان کا پہلا دورۂ امریکا ملک اور بیرون ملک خاص کر سرحد پار بھارتی میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا نے اس بات کو بھی اپنی بحث کا حصہ بنایا کہ امریکا میں عمران خان کا خیر مقدم کسی اعلیٰ حکام نے کیوں نہیں کیا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے امریکا پہنچنے پر ان کا استقبال کسی اعلیٰ حکام کی بجائے ٹرمپ انتظامیہ کی چیف آف پروٹوکول میری کیٹ فشر نے کیا تھا۔

امریکی سفارتی آداب اور قوانین کے تحت عمران خان کا یہ دورہ ’ورکنگ وزٹ‘ کیٹیگری کا تھا۔

امریکی اسٹیٹ کے مطابق کسی بھی ملک کے سربراہوں کے دورۂ امریکا کو 4 اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

پہلی قسم اسٹیٹ وزٹ ہے جس میں صرف ملک کا سربراہ ہی کو مدعو کیا جاتا ہے اور اسے 21 توپوں کی سلامی اور پورا سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے۔

دوسری قسم آفیشل وزٹ ہےجس میں ریاست کے چیف ایگزیکٹو کو مدعو کیا جاتا ہے اور 21 کے بجائے 19 توپوں کی سلامیاں دینے کے ساتھ ساتھ پورا سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے۔

تیسری قسم آفیشل ورکنگ وزٹ ہے جس میں مدعو کیے گئے مہمان کو کوئی سلامی نہیں دی جاتی اور نہ ہی ایئر پورٹ پر سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے۔

اس دعوت میں غیر ملکی مہمان سربراہ کے ساتھ عشائیہ یا ظہرانے کے ساتھ ساتھ میٹنگز بھی رکھی جاتی ہیں۔

چوتھی قسم پرائیویٹ وزٹ ہے، اس طرز کے دورےمیں امریکی صدر کی طرف سے دعوت نامہ نہیں دیا جاتا مگر غیر ملکی سربراہ امریکاکا دورہ ٔ اپنی مرضی سے اور اپنے وقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرتا ہے، اس دورے میںامریکی صدر سے غیر رسمی ملاقات کا چانس مل سکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ملاقات ہو جائے۔

وزیراعظم عمران خان کا دورۂ امریکا آفیشل ورکنگ وزٹ ہے ، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کا استقبال کسی امریکی اعلیٰ حکام کی جانب سے نہیں کیا گیا۔

عمران خان ’ آفیشل ورکنگ وزٹ ‘ کے تحت خود ہی ایئر پورٹ سے میٹرو میں سفر کر کے امریکا میں موجود پاکستان کے سفیر اسد مجید خان کے گھر پہنچے اور وہاں قیام کیا ۔

قومی خبریں سے مزید